Global Editions

آئی پیڈ سے چھوٹے بچوں کو کس طرح کتابیں پڑھنا سکھایا جاسکتا ہے؟

سائنسی جریدہ ڈیولپمنٹل سائیکولوجی (Developmental Psychology) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینیمیشن کے باعث بچوں کے لیے عام کاغذی کتابوں کے مقابلے میں ای بکس زيادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

تحقیق کی تفصیلات: تین اور پانچ سال کی عمر کے درمیان کے 35 بچوں نے مصنف تھیچر ہرڈ (Thacher Hurd) کی دو کتابوں، Cat’s Pajamas اور Zoom City، پر مشتمل تین تجربات میں حصہ لیا۔ پہلے تجربے میں بچوں کے ایک گروپ کو کاغذی کتابیں پڑھوانے کے بعد ان کی تفہیم کا موازنہ ایک دوسرے گروپ کے ساتھ کیا گيا جس میں شامل بچوں کو آئی پیڈ پر اونچی آواز میں کتابیں پڑھنے کی ہدایات دی گئی تھیں جس کے بعد ہر لفظ صحیح ادا کرنے کی صورت میں سکرین پر ایک اینیمیشن ظاہر ہوتی۔ دوسرے تجربے میں ”سٹیٹک“ (یعنی بغیر اینیمیشن کی) ای بکس کا موازنہ اینیمیٹڈ ای بکس کے ساتھ کیا گيا۔ تیسرے اور آخری تجربے میں صفحے کے شروع میں اینیمیشن دکھانے اور صحیح لفظ ادا کرتے وقت اینیمیشن دکھانے کا موزانہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ بچوں کی پڑھنے کی صلاحیتوں میں کس صورت میں زيادہ بہتری نظر آتی ہے؟

ان تمام تجربوں سے یہ بات سامنے آئی کہ اینیمیشن کی بدولت بچوں کی کتابیں پڑھنے کی صلاحیتوں میں زیادہ بہتری ممکن ہے۔ جن بچوں کو صرف کاغذی کتابیں دی گئی تھی، انہيں کتاب کے صرف 47 فیصد مشمولات یاد رہے۔ تاہم جس گروپ کو الفاظ کے صحیح تلفظ پر اینیمیشنز دکھائی گئیں تھیں، انہیں 60 فیصد مشمولات یاد تھے۔ دوسرے اور تیسرے تجربات میں بھی اینیمیشنز ہی نمایاں رہیں۔

اینیمیشن اس قدر کامیاب کیوں ہے؟ کارنیگی میلن میں نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایرک تھیسن (Erik Thiessen)، جو اس پیپر کے شریک بانی بھی تھے، لفظ ”بلی“ کی مثال دیتے ہوئے اس نتیجے کی وضاحت کرتے ہیں۔ جو شخص کافی عرصے سے کتابیں پڑھ رہا ہوں اس کے ذہن میں یہ لفظ پڑھتے ہی خودبخود بلی کی تصویر جنم لے گی۔ لیکن چھوٹے بچے کو معلوم ہی نہيں ہوتا کہ ”بلی“ ہوتی کیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ وہ کہانی پر توجہ دینے کے بجائے یہ سوچتا رہے کہ اس لفظ کا مطلب کیا ہے۔ دوسری بات ہے کہ کتابیں پڑھنے کے دوران بلی پر مشتمل اینیمیشنز دیکھنے سے بچوں کو کتابیں پڑھنا بوجھ نہيں لگتا۔

تو کیا بچوں کو ای بکس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ یہ بات سو فیصد درست نہيں ہے۔ ماضی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کے درمیان بچوں کے لیے بنائے گئے ٹیبلیٹس کے موضوع پر اکثر بحث رہتی ہے، جس کی وجہ سے بچوں کے لیے کاغذی کتابیں ہی زيادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہيں۔ تھیسن اس رائے سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہماری ای بک سے فائدہ تو ہوگا، لیکن ساتھ ہی بچوں کے لیے انسانوں کے ساتھ انٹریکٹ کرنا ہی زيادہ بہتر رہے گا۔“

تاہم مسئلہ صرف کتابوں ہی پر ختم نہيں ہوجاتا۔ سکول میں تعلیمی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کے باعث مختلف مضامین پڑھانا نہ صرف زيادہ پیچیدہ ہورہا ہے بلکہ اس کے کئی نقصانات بھی سامنے آرہے ہيں۔

ای بکس میں انوویشن متعارف کرنے سے انقلاب آئے گا۔ آج کل کے دور میں بڑوں کے ساتھ اپنے بچوں کو زیادہ وقت دینا مشکل اور بچوں کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی زيادہ آسان ہے۔ اسی لیے ای بکس کا کردار بھی زيادہ اہم ہوجائے گا۔ تھیسن کہتے ہيں کہ ”ہم اس تحقیق کے ذریعے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا بچوں کو انسانوں کے بجائے ٹیکنالوجی کے ساتھ انٹریکٹ کرنے کے دوران بھی وہی فوائد حاصل ہوتے ہيں؟“

لیکن ابھی بھی بہت کام پڑا ہے۔ تھیسن کہتے ہيں کہ ”اینیمیشن سے اکثر بچوں کی توجہ کہانی سے ہٹ جاتی ہے۔“ ان کا خیال ہے کہ جن گھرانوں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ زيادہ وقت گزارتے ہيں اور جہاں کتابیں پڑھنے کا رواج موجود ہو، وہاں بچوں میں بھی کتابیں پڑھنے کی عادت پکی ہوتی ہے۔ دوسری طرف ای بکس اور ٹیبلیٹس کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہورہی ہے اور اینیمیشنز پر مشتمل ای بکس پسماندہ بچوں میں پڑھنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ثآبت ہوسکتی ہیں۔

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

تصویر: پیٹریشیا پروڈنٹ (Patricia Prudente) بذریعہ Unsplash

Read in English

Authors

*

Top