Global Editions

بھارت کے کالے قوانین: ایک عالمی وبا کے باوجود انٹرنیٹ بلیک آؤٹس کا سلسلہ جاری

ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باوجود بھارتی مسلمانوں کے حقوق کے حمایتی اور پولیس کے دوران تصادم جاری رہا۔ مارچ میں ہونے والی ایک جھڑپ کی تصویر۔ کریڈٹ: یاسر نواز / گیٹی امیجز
بھارت میں جس حد تک انٹرنیٹ پر پابندی لگائی جاتی ہے، دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہيں لگتی۔ کرونا وائرس کی وبا کے دوران بھی لوگوں کو ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے ڈیجٹل بلیک آؤٹس کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔

ہر سال کی طرح، اس بار بھی مقبوضہ کشمیر میں موسم بہار اپنی تمام تر رنگینیوں سمیت آیا۔ لیکن اس سال وہاں کے رہائشیوں کو ایک نئی صورتحال کا سامنا تھا۔ 18 مارچ کو مقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں covid-19 کا پہلا کیس سامنے آیا۔ شہر کے ناظم نے لوگوں کو گھر میں رہنے کی درخواست کی، لیکن ان کا یہ پیغام ہر کسی تک نہیں پہنچ پایا۔ وادی کشمیر میں مواصلت کے تمام ذرائع محدود تھے، موبائل فون کی سہولیات اکثر بند پڑی رہتی تھیں اور 2G سے زيادہ تیز انٹرنیٹ دستیاب نہيں تھا۔ بعض کشمیریوں نے تو حکام کی ہدایات پر عمل کیا، لیکن زيادہ تر افراد کو معلوم ہی نہيں ہوسکا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ سری نگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے یورولوجسٹ عمر سلیم اختر کہتے ہيں کہ ”ہمیں کرونا وائرس کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہيں تھا۔ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ہمیں کشمیر سے باہر سفر کرنے والوں سے حکام کی ہدایات پرنٹ کروا کر منگوانی پڑتی تھیں۔“

پچھلے سال اگست میں بھارتی حکومت نے اس متنازعہ علاقے میں شہریوں کی مخالفت دبانے کے لیے تمام ذرائع مواصلت پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ رہائشی نہ تو موبائل اور براڈبینڈ انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے اور نہ ہی ان کے پاس لینڈلائنز یا کیبل ٹی وی کی سہولیات میسر تھیں۔ اختر کو ایک مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، لیکن انہيں بغیر کسی الزام کے رہا کردیا گيا۔ اُس وقت ان کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ تھا جس پر لکھا تھا ”یہ احتحاج نہيں ہے، یہ ایک درخواست ہے۔ مریضوں کو بخش دیں۔“ مواصلت پر یہ پابندی جنوری تک جاری رہی، جو دنیا کے تمام جمہوری ممالک کی اب تک کی سب سے لمبی پابندی تھی۔

جب جنوری میں انٹرنیٹ کی سہولت کچھ حد تک بحال ہوئی، تو اس کے کچھ عرصے بعد حکام نے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی، اور وی پی این کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی کرنے والوں کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت حراست میں لیا جانے لگا۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک انٹرنیٹ کی رفتار ہر ممکنہ حد تک سست کرنے کی کوششیں کی جارہی ہيں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث مواصلت پر عائد کردہ پابندی عوام کی صحت کے لیے خطرے کا باعث بننے لگی۔ پہلا کیس سامنے آنے کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے رہائشیوں کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے معلومات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مواصلت بحال کرنے کی درخواست کی۔ تاہم حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

بھارت میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے میں وقت تھا، لیکن دوسرے علاقہ جات میں انٹرنیٹ دستیاب تھا اور تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کو آن لائن منتقل کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئيں۔ تاہم مقبوضہ کشمیر میں، جہاں زوم جیسے سافٹ ویئر بمشکل ڈاؤن لوڈ ہورہے تھے، وہاں بذریعہ انٹرنیٹ تعلیم مکمل کرنے یا کاروبار چلانے کا سوال ہی پیدا نہيں ہوتا تھا۔

سرکاری ذرائع سے معلومات نہ ملنے کے باعث عوام سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے لگی۔ اختر بتاتے ہيں کہ ”کچھ لوگوں نے یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ کرونا وائرس پیسے کمانے کی ایک سازش ہے، اور وہ ہمیشہ کی طرح شادی بیاہ میں بھی شرکت کرتے رہے اور باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد جاتے رہے۔ دوسرے افراد یہ سمجھنے لگے کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ان کی موت طے ہے، اور انہوں نے وصیتوں کی تیاری اور اپنی تدفین کے پیشگی انتظامات کرنا شروع کردیے۔“

ثمرین حمدانی ، کریڈٹ : عابد بھٹ

مقبوضہ کشمیر میں دنگا فساد عام ہے اور یہاں تحریک آزادی کے حامی سوشل میڈيا کی مدد سے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہيں۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بند یا سست کردینا اس علاقے میں امن کے لیے بہت ضروری ہے۔ وفاق کا یہ بھی خیال ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرکے آزادی کی تحریک کو دبایا جاسکتا ہے۔

اس بات میں کوئی سچائی نہيں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کئی دہائی پہلے شروع ہوچکی تھی جب سوشل میڈیا کا تصور بھی موجود نہيں تھا۔ تاہم کچھ دیر کے لیے مان لیتے ہيں کہ بھارت کے وفاق کا خدشہ درست ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بند کردینے سے عوام کی بغاوت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اس علاقے میں روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر رک جائے گی۔ اگست کی پابندیوں کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا تھا، اور انہيں یہ محسوس ہونے لگآ کہ حکومت کچھ لوگوں کا بدلہ پورے علاقے پر نکال رہی تھی۔

30 سالہ میکانیکی انجنیئر ثمرین حمدانی کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے پہلے وہ سری نگر کے ایک پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں اپلائیڈ میتھامیٹکس پڑھا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ دیہی علاقہ جات کے مکینوں کو تعلیم فراہم کرنے والا ایک غیرمنافع بخش ادارہ بھی چلا رہی تھیں۔ وقت کہاں گزرتا تھا، انہيں پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ لیکن اب ان کے مطابق ان کی زندگی کا مقصد ختم ہوگیا ہے۔ وہ کہتی ہيں کہ ”انٹرنیٹ بند ہوجانے سے میں جیسے اپاہج سی ہوگئی ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے ہاتھ پیر باندھ دیے گئے ہیں۔“

ان کا سکول بند ہوگیا اور انہيں اپنے غیرمنافع بخش ادارے کے ملازمین کو فارغ کرنا پڑا۔ اس کے بعد حمدانی کے  پاس اور کچھ کرنے کو بچا ہی نہيں تھا۔ انٹرنیٹ ان کی زندگی کا اتنا اہم حصہ بن چکا تھا کہ انہيں سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس کے بغیر وہ کیا کریں۔

بھارت کے دوسرے علاقہ جات میں انٹرنیٹ دستیاب تھا اور تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کو آن لائن منتقل کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئيں۔ تاہم مقبوضہ کشمیر میں، بلیک آؤٹ کے باعث بذریعہ انٹرنیٹ تعلیم مکمل کرنے یا کاروبار چلانے کا سوال ہی پیدا نہيں ہوتا تھا۔

کئی سالوں تک بھارتی شہری حکومت کی باتوں میں آتے رہے اور یہ مانتے رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے سے تشدد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن 2018ء میں یہ پابندیاں دوسرے علاقہ جات میں بھی لگائی جانے لگيں۔ صارفین کی رپورٹوں کے مطابق، اُس سال آدھے درجن سے زيادہ بھارتی ریاستوں میں 134 سے زيادہ بار انٹرنیٹ بلیک آؤٹس نافذ کیے گئے تھے۔ اگلے سال 10 سے زيادہ ریاستوں میں مزید 106 بار انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود کو بڑے فخر سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والا بھارت انٹرنیٹ بلیک آؤٹس کے حوالے سے چین، ایران، اور وینیزوئیلا جیسے ممالک سمیت پوری دنیا سے آگے نکل گیا۔ جب بھارت کے دوسرے علاقہ جات میں رہنے والوں کی زندگیاں متاثر ہونا شروع ہوئيں تو انہیں یہ احساس ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں عائد کردہ پابندیوں کا مقصد قومی تحفظ کو یقینی بنانا نہيں بلکہ کچھ اور ہی تھا۔

19 دسمبر 2019ء کو صبح 3:50 بجے نئی دہلی میں رہائش پذیر کشی اروڑا (Kishi Arora) کو اپنی موبائل فون کی کمپنی کی طرف سے ایک ٹیکسٹ میسیج موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ حکومت ان کے علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے والی تھی۔ اروڑا کو مقبوضہ کشمیر کے متعدد بلیک آؤٹس کے متعلق اچھے سے معلوم تھا، لیکن انہيں اس بات کی بالکل بھی توقع نہيں تھی کہ ان کے شہر میں، یعنی بھارت کے داراحکومت میں، ایسا ہوگا۔

سورج طلوع نہيں ہوا تھا، لیکن اروڑا کا دماغ گھومنا شروع ہوچکا تھا۔ وہ ایک بیکر تھیں اور ان کا نہایت کامیاب کاروبار انٹرنیٹ پر ہی چلتا تھا۔ جب انہيں انٹرنیٹ پر پابندی کی اطلاع ملی، اس وقت ان کے ٹوئٹر پر 160،000، فیس بک پر 17،000، اور انسٹاگرام پر 24،000 فولورز تھے اور ان کی ٹیم ان تمام سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے آرڈرز لیتی تھی۔ انہیں موصول ہونے والے ٹیکسٹ پیغام میں اس بات کا ذکر موجود نہيں تھا کہ انٹرنیٹ کی سہولیات کب بحال کی جائيں گی، اور اپنے کاروبار کے نقصان کے بارے میں سوچ سوچ کر اروڑا کا سر پھٹ رہا تھا۔

انہيں ایک اور بات کی فکر کھائے جارہی تھی۔ اروڑا کی بیوہ والدہ بہت بیمار تھیں اور ان کے لیے دفتری اوقات کے دوران ان سے رابطہ رکھنا بہت ضروری تھا۔ اس کے علاوہ، ان کے تمام بہن بھائی بیرون ملک رہائش پذیر تھے، اور اروڑا اور ان کی والدہ ان سے بذریعہ واٹس ایپ دن بھر بات کیا کرتے تھے۔ انٹرنیٹ کے بغیر یہ سب کچھ کیسے ممکن تھا؟

اس انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی وجہ کسی سے چھپی ہوئی نہيں تھی۔ اُس وقت ہزاروں لوگ 2019ء کے متنازعہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور بھارت کے دارالحکومت میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔ اس ترمیم کا مقصد بنگلہ دیش، پاکستان، اور افغانستان سے بھارت ہجرت کرنے والوں کو جلدی شہریت دلوانا تھا، لیکن اس کا اطلاق مسلمانوں پر نہيں ہوتا تھا، جنہیں ابھی بھی لمبے چوڑے پراسیس سے گزرنے کی ضرورت تھی۔

اس کے علاوہ، حکومت نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں رہائشیوں کی شہریت کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور جو افراد یہ ثابت نہیں کر پائيں گے کہ انہيں بھارتی شہریت رکھنے کا حق حاصل ہے، انہيں اجتماعی گرفتاری کیمپس بھیج دیا جائے گا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں غریب لوگوں کے پاس اکثر شناختی دستاویزات تک نہيں ہوتے (ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں پانچ سال کی عمر سے کم بچوں میں سے صرف 62 فیصد کے پاس پیدائشی اسناد موجود ہیں)، وہاں لاکھوں افراد کا ملک بدر ہونے کا خطرہ تھا۔

بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو یہ بات واضح ہوگئی کہ چین کے اویغور مسلمانوں کی طرح ان کی بھی شہریت چھن جائے گی اور وہ کہیں کے نہيں رہیں گے۔ بھارت کہنے کو تو سیکولر ملک ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ایک جانے مانے ہندو بھکت ہیں جنہوں نے آٹھ سال کی عمر میں ہی ایک ہندو نظریاتی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اب وہ آہستہ آہستہ بھارت کو ایک ”ہندو ریاست“ بنانے کی کوشش کررہے ہيں۔

جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے زور پکڑنے لگے تو حکومت نے وہی ہتھکنڈا اپنایا جس کا وہ اب تک استعمال کرتی آرہی تھی۔ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پرادیش، مودی کی آبائی ریاست گجرات، اور کرناٹک میں، جس کے داراحکومت بنگلور کو بھارت کا ”سیلیکون ویلی“ کہا جاتا ہے، انٹرنیٹ بند کردیا گيا۔

اروڑا کو اپنے کاروبار سے زيادہ خود کی فکر تھی۔ دہلی کو پہلے سے ہی خواتین کے لیے غیرمحفوظ سمجھا جاتا تھا۔ جیسے جیسے مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا، پولیس نے بھی تشدد سے کام لینا شروع کردیا اور پرامن احتجاجیوں پر ڈنڈے، گولیاں، اور آنسو گیس برسانا شروع کردیے۔ ملک بھر میں اس تشدد کے باعث 25 افراد مارے گئے۔

جس روز اروڑا کو انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی خبر ملی، اس روز دہلی میں واقع لال قلعے کے پاس ایک مارچ منظم ہونے والا تھا۔ اس قلعے کا شمار دہلی کی تاریخی عمارتوں میں ہوتا ہے، اور یہاں ہر یوم آزادی پر وزیر اعظم جھنڈا لہراتے ہيں۔ اسی صبح اروڑا کے ایک دوست نکھل پاہوا (Nikhil Pahwa) نے، جو ایک ڈیجیٹل حقوق کے کارکن بھی ہيں، ٹوئٹر پر لکھا کہ ”ٹیلی کام آپریٹرز نے تصدیق کی ہے کہ دہلی کے کچھ حصوں میں انٹرنیٹ بند کیا جارہا ہے۔ ہمیں اس وقت معلوم نہيں ہے کہ ایسا کن جگہوں پر کیا جائے گا۔ ہم اپ ڈیٹ کے منتظر ہيں۔“

بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی موبائل فون آپریٹرز نے اپنے صارفین کو انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے متعلق مطلع کرنے کی زحمت گوارا نہيں کی تھی، اور 17 لاکھ کے قریب متاثرہ افراد کو معلوم ہی نہيں تھا کہ کیا ہورہا ہے۔

انٹرنیٹ پر پابندیاں صرف ان علاقہ جات میں لگائی گئی تھیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت موجود تھی۔ ایکنامک ٹائمز (Economic Times) نامی اخبار کے صحافی دانش خان کا محلہ بھی بلیک آؤٹ سے متاثر ہوا تھا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”حکومت ہمیں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روکنا چاہتی تھی۔ وہ نہيں چاہتی کہ لوگ حرکت میں آئيں اور تصویریں اور ویڈيوز بنا کر شیئر کریں۔“

جیسے جیسے خبر پھیلتی گئی، عوام دبنے کے بجائے مزید اشتعال میں آگئی۔ لال قلعے کے پاس سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے اور کئی کو فوراً پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا۔ اروڑا وائی فائی سگنل کی تلاش میں سڑک پر کھڑی تھیں جب انہيں اپنی کمپنی میں کام کرنے والی دو نوجوان مسلمانوں کا خیال آیا۔ وہ کہاں ہوں گی؟ کس حال میں ہوں گی؟ کیا ان کے لیے گھر پر انٹرنیٹ کے بغیر رہنا محفوظ ہوگا؟ یا کیا پولیس کے پاس جانا زیادہ بہتر رہے گا؟ اروڑا بتاتی ہیں کہ انہيں بعض دفعہ یقین ہی نہيں آتا تھا کہ وہ ایک جمہوری ملک میں رہتی ہيں۔

اگر دوسرے ممالک بھارت کے نقش قدم پر چلنے لگیں تو پوری دنیا میں ایسے بلیک آؤٹس کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو پہلے عارضی ہوں گے اور پھر مستقل۔

 135 سال لمبی کوشش

 جب بھارتی حکومت شہریوں کو معلومات سے محروم رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف ایک 135 سالہ قانون کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

 1885ء میں متعارف ہونے والے ”انڈین ٹیلی گراف ایکٹ“ (Indian Telegraph Act) کے تحت ”عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی صورتحال کے دوران“ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو کسی بھی قسم کے پیغامات کی ترسیل پر پاپندی عائد کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ یہ قانون برطانوی سامراج کے خلاف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی سیاست دانوں اور صحافیوں سمیت شہریوں پر نظر رکھنے کے لیے اس کا استعمال جاری رہا۔ 2017ء میں ایک ترمیم کے تحت اس قانون میں ”ٹیلی کام سہولیات کی عارضی معطلی“ کی گنجائش پیدا ہوگئی۔

دہلی میں واقع ڈیجٹل حقوق کے گروپ سافٹ ویئر فریڈم لاء سینٹر (Software Freedom Law Center – SFLC) کے مطابق کسی بھی ڈیجٹل بلیک آؤٹ کے لیے عام طور پر دو وجوہات بتائی جاتی ہيں: عوام کا تحفظ یا ہنگامی صورتحال۔ حکومت یا تو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ سوشل میڈيا یا واٹس ایپ پر پھیلنے والی معلومات تشدد کا باعث بنے گی یا یہ کہتی ہے کہ تشدد پر قابو پانے کا واحد طریقہ مواصلت بند کردینا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

While the world is running down, I am TRYING to make the best of what’s still around💕 . . Mama Bear and Me in our matching matching Pajamas ( yes, I buy the same same for my Sis and Ma whenever I buy me one) from @anokhijaipur after wiping our sweat and coaxing her into letting me take the first selfie in 3 months while cooking in our kitchen! They say, don’t lose hope. When the sun goes down, the stars come out. She is OUR Rockstar as my dad would say🌟 . . @ishueats @arshig @mamaktreats . . How is your day going? . . . . . . #family #familyfun #familytime #fam #mom #familyday #dad #familylove #brother #sister #cooking #mother #cookingathome #food #foodporn #motherdaughter #mamaktreats #motherdaughterlove #covid19 #cookingwithlove #cookingtime #weekendvibes #covidcooking

A post shared by Kishi Arora (@kishiarora) on

2018ء میں مواصلت پر عائد کردہ پابندیوں میں اضافے کی ایک وجہ تو تشدد پر قابو پانا تھا۔ اُس سال جون میں واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا کی خبر پھیلنے کے بعد آسام میں دو سیاحوں کو قتل کردیا گیا۔ اُسی روز مزید دو افراد کو شک کی بناء پر مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد حکومت نے افواہوں پر قابو پانے کے لیے ریاست میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی۔

اگلے چند ماہ تک دوسری ریاستوں میں بچوں کے اغوا کے حوالے سے جعلی ویڈیوز اور معلومات بذریعہ واٹس ایپ پھیلتی گئیں۔ ڈيٹا جرنلزم کی ویب سائٹ انڈیا سپیڈ (IndiaSpend) کے مطابق 2019ء کے اختتام تک ان افواہوں کے باعث 70 کے قریب پرتشدد واقعات سامنے آئے تھے۔

اس ردعمل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بھارت میں جعلی معلومات کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ 2016ء میں موبائل فون آپریٹرز کے درمیان مقابلے کے باعث موبائل ڈیٹا کی قیمتوں میں حیرت انگیز کمی تھی، جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو موبائل انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی۔ ماضی میں صرف تعلیم یافتہ اور امیر افراد کو انٹرنیٹ کی سہولیات میسر تھیں، لیکن اب سبزی والے اور رکشہ والے کے پاس بھی انٹرنیٹ موجود تھا۔ آج بھارت میں دنیا کے سستا ترین موبائل ڈیٹا پیکیجز دستیاب ہیں اور صارفین سوشل میڈیا پر اوسطاً 17 گھنٹے فی ہفتہ گزارتے ہيں، جو چین سے بھی زيادہ ہے۔

لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون تو آگیا، لیکن بڑے شہروں میں رہائش پذیر افراد کے علاوہ ابھی بھی بہت کم لوگ تھے جو حقیقی اور جعلی معلومات کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ واٹس ایپ جعلی خبروں پر قابو پانے کے لیے اقدام کررہا ہے، لیکن بھارتی حکومت شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کی کوششوں کے بجائے سوشل میڈيا بند کرنا بہتر سمجھتی ہے۔

دہلی کے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے یہ بات واضح ہے کہ حکام صرف تشدد اور جعلی معلومات پر قابو پانے کے لیے ہی نہيں بلکہ مخالفت دبانے کے لیے بھی ڈیجٹل مواصلت پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ قانونی چارہ جوئی کا بھی کوئی فائدہ نہيں ہے۔ ٹیلی گراف ایکٹ کے مطابق ان پابندیوں پر وقت کی کوئی قید نہيں ہے۔ اس کے علاوہ، ان اقدام کی نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تو موجود ہے، لیکن اس میں کام کرنے والے افسران حکومت کا کہا ٹالنے سے گریز کرتے ہيں۔

ٹیلی کام کمپنیوں کو ان بلیک آؤٹس سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2019ء کے مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ بند کردینے کے باعث انہيں فی گھنٹہ 350،000 ڈالرز کا نقصان ہوا۔ اس کے باوجود وہ بھی حکومت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ بلکہ ایئرٹیل (Airtel) نامی کمپنی نے بعد میں دہلی کے بلیک ڈاؤن کے متعلق اپنے ٹوئیٹس بھی حذف کردیے۔

یورولوجسٹ عمر اختر انٹرنیٹ بلیک آؤٹس کے اثرات کے متعلق کافی عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں۔ 2020ء میں انہيں کرونا وائرس کی وبا کے دوران مزید پابندیوں کی فکر کھائے جارہی ہے۔ کریڈٹ : اتل لوک / نیو یارک ٹائمز / ری ڈکس

عدالتیں بھی اس معاملے میں کچھ خاص دلچسپی نہيں لیتیں۔ جب ایس ایف ایل سی نے دہلی کے بلیک آؤٹ کو آزادی اظہار خیال اور زندہ رہنے کے حق کے خلاف قرار دیتے ہوئے مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی تو عدالت نے یہ کہہ کر مقدمہ خارج کردیا کہ حکومت نے پابندی ہٹادی ہے۔ اُسی سال، سپریم کورٹ نے کشمیر میں نافذ کردہ پابندیوں کو غیرقانونی قرار دیا، لیکن پابندی ختم کرنے کے بعد جب حکومت نے انٹرنیٹ اس قدر سست کردیا کہ اسے استعمال کرنا ناممکن ہوگیا، اس وقت عدالت نے کچھ نہيں کہا۔

ڈیجٹل حقوق کے غیرمنافع بخش ادارے ایکسس ناؤ (Access Now) کے سینیئر پالیسی تجزیہ کار برحان ٹائے (Berhan Taye) کہتے ہيں کہ اس وقت ”بلیک آؤٹس اور انسانی حقوق کے پامال ہونے کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔“

کشمیر میں ابھی بھی یہ یقین سے نہيں کہا جاسکتا کہ انٹرنیٹ کے کئی مہینوں لمبے بلیک آؤٹ کے دوران کتنے لوگوں کو تحویل میں لیا گيا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 5،116 افراد کو قید کیا گیا ہے، لیکن لوگوں کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زيادہ ہے۔ اتر پرادیش میں ایک دن کے اندر 100 سے زائد افراد کو قید کیا گيا، اور کئی کو کھلے عام انتہائی بے دردی سے مارا گیا۔ اٹرنیٹ پر عائد کردہ پابندیوں کے باعث دوسروں تک خبر پھیلانا بہت مشکل ثابت ہورہا تھا۔

انسانی حقوق کے غیرمنافع بخش ادارے ڈیجٹل رائٹس (Digital Rights) کے ریسرچ تجزیہ کار جین زڈزیک (Jan Rydzak) کا خیال ہے کہ حکومتی زيادتیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”حکام کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ ان بلیک آؤٹس سے کوئی فائدہ نہيں ہورہا، ورنہ ان کا استعمال نہ صرف جاری رہے گا بلکہ مزید بڑھے گا۔“ سب سے پہلے تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس خطے کی دوسری جمہوریتیں عوام کے تحفظ پر کام کرنے کے بجائے انٹرنیٹ بلیک آؤٹس پر انحصار کرنا شروع کریں گی۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ یہ پابندیاں پہلے عارضی اور پھر مستقل ہوجائيں۔

اس سال کرونا وائرس کے باعث بلیک آؤٹس میں کمی آئی ہے، لیکن ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔ بھارتی حکومت اب تک 35 دفعہ انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں سے 26 بلیک آؤٹس مقبوضہ کشمیر میں ہوئے تھے۔ اس علاقے میں جولائی میں covid-19 کے کیسز کی تعداد 13،000 اور اموات کی تعداد 200 سے تجاوز کرنے کے باوجود بھی حکام نے 4G انٹرنیٹ بحال کرنے سے انکار کردیا۔ مئی میں سپریم کورٹ نے سرکاری افسران پر مشتمل کمیٹی کو ان پابندیوں کے قانونی یا غیرقانونی ہونے کے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایات جاری کردیں، اور انہوں نے توقعات کے عین مطابق فیصلہ کیا کہ ”انٹرنیٹ کی سست رفتار کے باعث covid-19 پر قابو پائے جانے کے لیے کیے جانے والے اقدام متاثر نہيں ہوتے۔“

سری نگر میں کام کرنے والے ڈاکٹر اختر اس بات سے متفق نہيں ہيں۔ 19 مئی کو وہ ایک روز آپریٹنگ تھیئٹر سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنی ای میلز تک رسائی نہيں کر پارہے ہيں۔ وہ فوراً سمجھ گئے کہ انٹرنیٹ بند کردیا گيا ہے۔

عام طور پر وہ کسی کو کال کرکے معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ کیا ہورہا ہے۔ لیکن اس بار وہ کسی کو فون بھی نہيں کرپائے۔ انہیں بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ اس روز سری نگر میں سیکورٹی اہلکاروں نے دو مشتبہ عسکریت پسندیں کو مار ڈالا تھا، جس کے بعد حکومت نے خبر پھیلنے اور مظاہروں کی روک تھام کے لیے مواصلت کی تمام سہولیات پر پابندی عائد کردی تھی۔

ہسپتال کے لباس میں کھڑے اختر کو معلوم نہيں تھا کہ انٹرنیٹ کب بحال کیا جانے والا تھا۔

جب سے کرونا وائرس کی وبا شروع ہوئی ہے، اختر خود کو بہت بے بس محسوس کرنے لگے ہیں۔ انٹرنیٹ پر پابندیوں کے باعث وہ اس وبا کے متعلق جدید ترین ریسرچ تک رسائی کرنے سے قاصر ہيں اور انہيں دوسروں پر انحصار کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ ان کا فون بھی بے کار ہوچکا ہے۔ پوری دنیا ایک بحران سے گزر رہی ہے، لیکن اختر کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر ایک نہيں بلکہ دو بحرانوں سے گزر رہا ہے: ایک کرونا وائرس اور دوسرا روز کا تشدد اور معلومات تک رسائی سے محرومی۔


سونیا فلیئرو کتاب Beautiful Thing: Inside the Secret World of Bombay’s Dance Bars کی مصنفہ ہیں۔ ان کی دوسری کتاب The Good Girls: An Ordinary Killing جنوری 2021ء میں شائع ہوگی۔

تحریر: سونیا فلیئرو (Sonia Faleiro)

Authors
Top