Global Editions

شمسی توانائی کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث صاف ہائيڈروجن بہت امید افزا ثابت ہورہا ہے

متعدد ممالک اپنے ماحولیاتی تبدیلی کے اہداف کے حصول کے لیے پریشان ہيں؛ صاف ہائيڈروجن ان کے مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔

صاف توانائی کی کھوج میں نکلنے والے متعدد ممالک نے اب صاف ہائيڈروجن پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔

امریکی صدارتی امیدوار جو بائيڈن (Joe Biden) کے ماحولیاتی منصوبے میں کم قیمت صاف ہائيڈروجن گیس کی تخلیق کاری کے لیے ایک ریسرچ پروگرام کا مطالبہ کیا گيا ہے جسے ایک دہائی کے اندر پاور پلانٹس کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اسی طرح، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیو زیلینڈ اور یورپی اتحاد نے بجلی کی پیداوار، نقل و حمل اور صنعتی شعبہ جات میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات میں کمی کے جو مصنوبہ جات تیار کیے ہیں، ان میں بھی ہائیڈروجن کا کردار بہت اہم ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں کئی کمپنیاں صاف ہائيڈروجن کے پلانٹس کے پیمانے کو وسیع کرنے پر کام کررہی ہیں اور سٹیل کی پیداور، کاربن کے اخراجات کم کرنے والے ایندھن، اور سرور فارمز کے لیے بجلی کی فراہمی کے حوالے سے اس کے استعمال پر تحقیق کررہی ہیں۔

ان کی دلچسپی بجا ہے۔ ہائيڈروجن دنیا کا سب سے عام مادہ ہے اور اسے ماحولیاتی تبدیلی یا دیگر قسم کی آلودگی کی وجہ بننے والے کاربن ڈائی آکسائيڈ کی مقدار میں اضافہ کیے بغیر گاڑیوں، بجلی کے پلانٹس وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ (ہائيڈروجن استعمال کرنے والی گاڑیاں اور ٹرکس ہوا میں صرف پانی خارج کرتی ہيں)۔ ریسرچرز ایک دہائی سے زيادہ عرصے سے ”ہائيڈروجن پر چلنے والی معیشت“ کی بات کررہے ہيں، لیکن اس کے باوجود حیاتیاتی ایندھن کی مانگ میں کمی نہيں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، اب تک جتنا بھی ہائيڈروجن پیدا کیا جاتا ہے اس میں قدرتی ایندھن کے استعمال کے علاوہ وافر مقدار میں کاربن کے اخراجات بھی ہوتے ہيں۔

”ہائيڈروجن کی معیشت“ کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل رہی ہيں، جن میں سے صاف گیس بنانے کے اخراجات، پلانٹس کے لیے درکار مشینوں اور پائپوں میں سرمایہ کاری، اور بیٹریوں جیسے متبادل کی تیز پیش رفت سرفہرست ہیں۔

تو پھر صاف ہائیڈروجن میں دلچسپی میں اچانک اضافہ کیوں سامنے آرہا ہے؟

سب سے پہلے تو ہائيڈروجن کے تخلیق کاری کے اخراجات میں کمی آرہی ہے۔ ہائيڈروجن پیدا کرنے کے لیے الیکٹرولیسس (electrolysis) نامی پراسیس کے ذریعے پانی کو تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں توانائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ماضی میں یہ بہت مہنگا ثابت ہوتا تھا، لیکن اب کم قیمت شمسی اور ہوائی توانائی کے باعث الیکٹرالوسیس کے اخراجات میں بھی کمی ممکن ہوئی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس، میں پائیدار توانائی کی ڈائریکٹر جون اوگڈن (Joan Ogden) کے مطابق صاف ہائيڈروجن ان ممالک کے لیے بھی زيادہ اہم ہوسکتی ہے جو آنے والے چند سالوں میں اپنے اخراجات میں کمی لانے پر غور کررہے ہيں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گیس جہاز رانی، کھاد کی پیداوار، اور بجلی کے ذخیرے جیسے شعبہ جات کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جہاں اب تک کم قیمت توانائی دستیاب نہيں ہوسکی ہے۔

قابل تجدید توانائی کی قیمتوں میں کمی

اس قدر پیش رفت کے باوجود بھی صاف ہائيڈروجن عام طور پر بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک پیپر کے مطابق شمسی توانائی پر چلنے والے الیکٹرولائزرز (electrolyzers) کے اخراجات قدرتی گیس سے چھ گنا زيادہ ہيں۔

اس کے علاوہ، کئی ماہرین کا خیال ہے کہ صاف ہائيڈروجن بنانے، ذخیرہ کرنے، اور استعمال کرنے کے اخراجات اور پیچیدگیوں کے باعث یہ گیس زيادہ مقبول ثابت نہيں ہوپائے گی۔

صاف توانائی کے اخراجات کا بیشتر حصہ، یعنی 60 فیصد، بجلی کے اخراجات پر مشتمل ہے، اور خوش آئين بات یہ ہے کہ اس وقت قابل تجدید توانائی کی قیمتوں میں بہت تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ دوسری طرف الیکٹرولائزرز کو بھی پہلے سے زيادہ وسیع پیمانے پر تخلیق کیا جارہا ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔

نیچر (Nature) نامی جریدے میں پچھلے سال شائع ہونے والے ایک پیپر کے مطابق، اگر یہ رجحانات اسی طرح جاری رہے تو ایک دہائی کے اندر صاف توانائی اس قدر کم قیمت ہوجائے گی کہ اسے وسیع پیمانے پر استعمال کرنا ممکن ہوجائے گا۔ اسی طرح انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی کے مطابق 2030ء تک صاف ہائيڈروجن کی قیمت میں 30 فیصد کمی ہوگی۔

جہاں قابل تجدید توانائی کی اضافی پیداوار کے باعث بجلی کی پیداوار کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں، وہاں صاف ہائيڈروجن نہایت کم قیمت ثابت ہوسکتا ہے۔ مارگن سٹینلی (Morgan Stanley) کے ایک ریسرچ نوٹ کے مطابق اگر صاف ہائيڈروجن کے کارخانوں کو امریکی مڈویسٹ اور ٹیکسس میں واقع ہوائی توانائی کے فارمز کے قریب قائم  کیا جائے تو دو سالوں کے اندر یہ گیس انتہائی کم قیمت میں تیار کی جاسکے گی۔

امریکی نیشنل رینیو ایبل اینرجی لیباریٹری (National Renewable Energy Laboratory) کی ایک تحقیق کے مطابق اگلی کئی دہائیوں تک ہائيڈروجن کی قیمتوں میں اس قدر کمی نہیں آئے گی کہ اسے گرڈ پر بجلی کے کم قیمت ذخیرے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ تاہم شمسی اور ہوائی توانائی کے استعمال میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ ان کی پیداوار میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کے لیے صارفین کو محض کچھ گھنٹوں کے لیے نہيں بلکہ کئی مہینوں تک بجلی کی مستقل فراہمی کا طریقہ ڈھونڈنا ضروری ہوگیا ہے۔

اس تحقیق کے شریک بانی سینیئر ریسرچ انجنیغر جوشوا آئخمین (Joshua Eichman) کے مطابق ان کمپنیوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے دوسری ٹیکنالوجیز کے بجائے ہائيڈروجن کا استعمال کرنا بہت کم قیمت ثابت ہوسکتا ہے۔ عام بیٹریوں کی گنجائش میں اضافہ کرنے کے لیے مہنگے پرزے استعمال کرنے والی زيادہ بیٹریاں خریدنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم آئخمین بتاتے ہيں کہ ہائيڈروجن استعمال کرنے کی صورت میں صرف ٹینک کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

اس ہائيڈروجن کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے؟

کاربن خارج کرنے والے ایندھنوں کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے ہائيڈروجن تقسیم، ذخیرہ، اور استعمال کرنے کے طریقوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں نہ صرف ہائيڈروجن کو بجلی میں تبدیل کرنے والے سیلز سے آراستہ گاڑیاں اور بحری جہاز بنانے ہوں گے بلکہ بندرگاہوں اور سڑکوں پر ان جہازوں اور گاڑیوں میں ایندھن ڈالنے کے لیے پمپس میں بھی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس ایندھن سے بجلی کا گرڈ چلانے کے لیے ایندھن کے سیلز بنانے ہوں گے اور فیکٹریوں میں ردوبدل کرنی ہوگی۔

اس سب میں وقت بھی بہت لگے گا اور بہت زیادہ رقم بھی خرچ ہوگی۔

تاہم اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ اس وقت ہماری گاڑیوں اور جہازوں میں جو ایندھن استعمال کیے جاتے ہيں، ان کے مصنوعی ورژنز تیار کرنے کے لیے ہائيڈروجن کو بڑی آسانی سے کاربن مونو آکسائيڈ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک صدی پہلے ایجاد ہوچکی تھی اور اسے ماضی میں کئی بار ایندھن یا قدرتی گیس سے ایندھن بنانے کے لیے کامیابی سےاستعمال کیا جاچکا ہے۔

برٹش کولمبیا کے شہر سکوامش میں کاربن انجنیئرنگ (Carbon Engineering) نامی کمپنی ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے جس میں ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کمپنی اس کاربن ڈائی آکسائيڈ کو کاربن سے پاک ہائيڈروجن سے ملا کر مصنوعی ایندھن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائيڈ کی شرح میں اضافہ نہيں ہوگا۔

پچھلے سال منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں ایک خطاب کے دوران کاربن انجنیئرنگ کے بانی، ہارورڈ کے پروفیسر ڈیوڈ کیتھ (David Keith) نے بتایا تھا کہ شمسی توانائی کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث ان کی کمپنی اگلے چند سالوں میں ان ایندھنوں کو محض ایک ڈالر فی لیٹر (یعنی چار ڈالر فی گیلن) کی قیمت میں متعارف کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، اور مستقبل میں اس قیمت میں مزید کمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ”سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ جلد ہی آسانی سے دستیاب ہارڈویئر کے ساتھ ممکن ہوگا۔ میرے اندازے کے مطابق 2030ء کے کچھ ہی عرصے بعد اس مصنوعی ہائيڈروکاربن کی یومیہ گنجائش دس لاکھ بیرل ہوسکتی ہے۔“

اس عمل سے شمسی توانائی کو ایسے ایندھنوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جنہیں مستقل طور پر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اور جنہيں ہماری موجودہ مشینوں میں بڑی آسانی سے ڈالا جاسکتا ہے۔ کیتھ کہتے ہيں کہ ”یہ شمسی توانائی کی اونچ نیچ کا مسئلہ حل کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے دنیا کے ان علاقہ جات کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے جہاں توانائی کی مانگ بہت زيادہ ہے۔ ہم ایک دن اس سے ہوائی جہاز اڑا سکیں گے۔“

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top