Global Editions

ہمیں اب تک کرونا وائرس کے متعلق کیا معلوم ہے؟

کرونا وائرس کیا ہے؟ یہ کہاں سے آیا؟ اس سے ہمیں کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے؟ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہيں؟

کرونا وائرس کیا ہے؟

Covid-19 کے لیے ذمہ دار ویریون (virion) یعنی وائرس کے انفرادی ذرے کا نصف قطر 80 نینومیٹرز ہے۔ اس پیتھوجن کا تعلق کرونا وائرس فیملی سے ہے جس میں SARS اور MERS انفیکشنز کے لیے ذمہ دار وائرسز بھی شامل ہيں۔ ہر ویریون کے مرکز میں جینیٹک کوڈ یعنی RNA موجود ہوتا ہے جسے گولے کی شکل میں پروٹین کی ایک تہہ کی مدد سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس پروٹین کے گولے سے کئی نوکیلی شاخیں نکلتی ہیں جن کے گرد چربی کی ایک تہہ موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ ہے کہ صابن کرونا وائس کے خاتمے میں اس قدر معاون ثابت ہوتا ہے۔

یہ وائرس کہاں سے آیا؟

ایبولا، SARS، MERS، اور ایڈز کی طرح، Covid-19 بھی انسانوں کو جانوروں کی وجہ سے لگتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس 2019ء میں چین کے شہر ووہان سے چمگادڑوں کے سبب پھیلنا شروع ہوا کیونکہ SARS-CoV-2 چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک وائرس سے 96 فیصد مشابہت رکھتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے پہلے پینگولنز میں پہنچا اور چونکہ پینگولنز کو نہ صرف کھایا جاتا ہے بلکہ کئی ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، آخرکار کرونا وائرس انسانوں تک پہنچ گیا۔

اس وائرس کی نوکیلی شاخیں انسانوں میں موجود ACE2 نامی سیلز کی سطح سے جڑ جاتی ہيں۔ عام طور پر ACE2 فشار خون کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم کرونا وائرس سے جڑنے کے بعد، ایسی کیمیائی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وائرس اور سیل ضم ہوجاتے ہیں اور RNA سیلز میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد وائرس اپنے میزبان کے سیلز میں موجود پروٹین بنانے والے مرکز میں ردوبدل کرتا ہے جس کے نتیجے میں وائرس کی کئی نقول پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ محض چند گھنٹوں میں ایک ہی سیل کے ذریعے ہزاروں نئے ویریونز پیدا ہوجاتے ہیں جن سے دوسرے صحت مند سیلز متاثر ہوتے ہيں۔

اس پورے عمل میں چند ایسے پروٹینز بھی پیدا ہوتے ہيں جو میزبان سیل میں ہی رہتے ہيں۔ سائنسدان اب تک ایسے تین پروٹینز کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک پروٹین کے باعث میزبان سیلز ہمارے نظام مدافعت کو مطلع کرنے سے قاصر رہتے ہيں۔ دوسرے پروٹین کی سبب میزبان سیلز ویریونز کو ہمارے جسم میں چھوڑتے ہيں، اور تیسرے کی وجہ سے سیلز کا اندرونی نظام مدافعت وائرس کا کچھ نہيں بگاڑ پاتا۔

ہمارا نظام مدافعت کرونا وائرس کا مقابلہ کس طرح کرتا ہے؟

اگر کوئی بھی شخص کرونا وائرس کا شکار ہوجائے تو سب سے پہلے اس کا نظام مدافعت خود اس وائرس کو مات دینے کی کوشش کرتا ہے، جس سے جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پراسیس میں خون کے سفید سیلز بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ انفیکشن کے شکار سیلز کو تباہ کرتے ہیں، کچھ ویریونز کو میزبان سیلز پر حملہ کرنے سے روکتے ہيں، اور کچھ ایسے کیمیکلز تیار کرتے ہيں جن سے انفیکشن کے شکار سیلز کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

تاہم ہر ایک شخص کا نظام مدافعت ایک جیسا نہيں ہوتا۔ اگرCovid-19 صرف جسم کے اوپری حصے، یعنی گردن کے اوپر، تک محدود رہے تو ہمارا جسم بہ آسانی اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ پھیلنا شروع کرے تو متاثرہ شخص نمونیا یا برانکائیٹس کا شکار ہوسکتا ہے۔ عام طور پر مضبوط پھیپھڑے رکھنے والے افراد کی علامات شدت اختیار نہيں کرتیں۔ تاہم جوان اور صحت مند افراد میں شدید انفیکشنز اور کمزور افراد میں کم شدت کے انفیکشنز کی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں۔

اگر کرونا وائرس SARS کی طرح سانس کی نالی کے نچلے حصے میں پہنچ جائے تو یہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے افراد میں جن کا نظام مدافعت تمباکو نوشی، شراب پینے، کھانا وقت پر نہ کھانے، یا نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے کمزور ہو، ان میں انفیکشنز زیادہ شدت اختیار کرسکتے ہيں۔

اس وائرس سے لوگ کس طرح بیمار ہوتے ہيں؟

کسی بھی  انفیکشن کی شدت کا انحصار اس بات پر ہے کہ وائرس اور نظام مدافعت میں سے کونسا عنصر زيادہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ اگر شروع میں وائرس کی شدت کم ہوگی تو نظام مدافعت اس پر بہتر طور پر قابو پاسکے گا۔ تاہم جسم میں موجود ویریونز اور علامات کے درمیان تعلق اس وقت واضح نہيں ہوسکا ہے۔

اگر کسی انفیکشن کے باعث پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچے تو وہ جسم کے دوسرے حصوں تک آکسیجن نہيں پہنچا سکیں گے اور مریض کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑے گی۔ سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول (Centers for Disease Control) کے مطابق یہ صورتحال 3 سے 17 فیصد کے درمیان Covid-19 کے شکار افراد میں پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ، کمزور نظام مدافعت سے فائدہ اٹھانے والے انفیکشنز کی وجہ سے بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔

بعض دفعہ ہمیں انفیکشن سے زيادہ اپنے نظام مدافعت کے باعث نقصان ہوسکتا ہے۔ ہمیں بخار اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ ہمارا نظام مدافعت جسم کا درجہ حرارت بڑھا کر وائرس کو مارنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ تاہم اگر بخار زيادہ دیر تک برقرار رہے تو ہمارے جسم کے پروٹینز خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمارا نظام مدافعت سائٹوکینز (cytokines) نامی پروٹینز پیدا کرتا ہے جن کا کام وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ لیکن اگر جسم میں سائٹوکینز کی تعداد زیادہ ہو جائے تو بخار جان لیوہ حد تک بڑھ سکتا ہے۔

علاج اور ویکسین کیا کردار ادا کرسکتے ہيں؟

ویکسین کئی اقسام کے ہوسکتے ہيں، جن میں مردہ وائرس، کمزور وائرس، وائرس کے کچھ حصے، اور وائرل پروٹینز نمایاں ہیں۔ ان تمام اقسام کے ویکسینز کا مقصد جسم میں وائرس متعارف کرنا ہے تاکہ ہمارے خون کے سیلز اس کے مقابلے کے لیے انٹی باڈیز تیار کرسکیں۔ اس طرح مستقبل میں کسی بھی وقت انفیکشن ہونے کی صورت میں نظام مدافعت میں اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

ماضی میں جانوروں کے ذریعے پھیلنے والے امراض کے لیے ویکسین تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس وقت ماڈرنا فارماسیوٹکلز (Moderna Pharmaceuticals) نامی کمپنی کسی وائرس کے جینیٹک مواد کی نقل تیار کرکے اسے مصنوعی نینو ذرات میں شامل کرکے وائرس کے بجائے اس کے جینیٹک سیکوئنس کی مدد سے ویکسین تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ طریقہ کار نیا نہيں ہے، لیکن اب تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی ہے کہ اس قسم کے RNA کے ویکسینز کے خلاف نظام مدافعت کا کیا ردعمل ہوگا۔ ماڈرنا فارماسیوٹکلز نے حال ہی میں اپنے ویکسین کے لیے کلینکل ٹرائلز شروع کیے ہیں، جن کے نتیجے میں اس سوال کا جواب ممکن ہوگا۔

اس وقت ایسے اینٹی وائرل بھی موجود ہیں جن کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کی اثراندازی کے متعلق پوری طرح معلومات حاصل نہيں ہوسکی ہیں۔ ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کلروکوئین (chloroquine) اور ہائيڈراکسی کلروکوئین (hydroxychloroquine) سے میزبان سیلز میں وائرس کے داخلے کو روکا جاسکتا ہے۔ اسی طرح، جاپانی دوا فیوی پیراویر (Favipiravir) کی مدد سے وائرس کے جینومز کی افزائش کی روک تھام ممکن ہے۔ ایچ آئی وی کے علاج میں استعمال ہونے والے لوپیناویر (lopinavir) اور ریٹوناویر (ritonavir) کا امتزاج وائرل پروٹینز کی تخلیق کی روک تھام کرتا ہے اور MERS کے علاج میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ بعض سائنسدان کا خیال ہے کہ جس ACE2 پروٹین سے کرونا وائرس جڑتا ہے، اس کا بلند فشار خون کی ادویات سے علاج کیا جاسکتا ہے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کرونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والے افراد کے خون کے اینٹی باڈیز سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سے انفیکشن کے شکار افراد یا ہیلتھ کیئر کے شعبے میں کام کرنے والوں کو عارضی طور پر محفوظ  رکھا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ کار ماضی میں دوسرے اقسام کے وائرسز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوچکا ہے، لیکن اس وقت SARS-CoV-2 کے حوالے سے اس کی افادیت کے متعلق کچھ نہيں کہا جاسکتا۔

نیل وی پٹیل ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے سینیئر رپورٹر ہيں۔

تحریر: نیل وی پٹیل

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top