Global Editions

ہوا کتنی آلودہ ہے؟۔۔۔۔ جانئے ایک نئی ڈیوائس سے

آج کے دور میں آلودگی کا بہت چرچا ہے۔ صفائی نہ ہونے سے پھیلنے والی آلودگی، شور کے باعث آلودگی ہو یا گرین ہاؤس گیسز سے پھیلنے والی آلودگی سب اس سے عاجز آئے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب انکشاف ہوا کہ گھروں کے باورچی خانوں میں گھی یا کوکنگ آئل سے تلنے یا پکانے کے نتیجے میں جو دھواں پیدا ہوتا ہے وہ بھی انسانی صحت کے لئے بہت خطرناک ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ صبح کچن میں ناشتے کے لئے انڈہ فرائی کریں تو اس سے نہ نظر آنے والے ذرات فضا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ تلنے سے پیدا ہونے والے ان نہ نظر آنے والے ذرات کو PM2.5کہا جاتا ہے۔ (2.5 مائیکرون سائز ہے)۔ ان ذرات کے سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کے باعث کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں جن میں دمہ، امراض قلب، سٹروک، آٹزم اور ADHD شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اندازے کے مطابق شہری علاقوں میں رہنے والے 80 فیصد لوگ اس طرح کے نہ نظر آنے والے ذرات اور غیر صحت مند آب و ہوا کے باعث طرح طرح کی بیماریوں کا شکارہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سالانہ لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ زیادہ تر اموات چھوٹے گھروں یا ایسے گھروں میں رہنے والوں کی ہوتی ہیں جہاں نکاسی ہوا کا مناسب بندوبست نہیں ہوتا۔ PM2.5 جیسے ذرات نظر نہیں آتے لیکن ہماری وہ نسل جو اب پروان چڑھ رہی ہے سائنس کی ترقی کی وجہ سے یہ جان سکے گی کہ وہ ماحول جس میں وہ سانس لے رہے ہیں کس حد تک آلودہ ہے۔ عام طور پر گھروں میں کچن میں پیدا ہونے والے دھوئیں کے اخراج کے لئے ایگزاسٹ فین لگائے جاتے ہیں لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بھی کارآمد نسخہ نہیں کیونکہ یہ PM2.5 کو 250 سے 100 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر کرتے ہیں لیکن محفوظ ماحول کیلئے اس شرح کو 50 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تک یا اس سے کم ہونا چاہیے۔ گھریلو فضا میں آلودگی کی شرح ناپنے کے لئے حال ہی میں Airviz نے ایک آلہ فروخت کے لئے پیش کیا ہے۔ اس آلے کی قیمت 200 ڈالر ہے۔ اسے گھر میں رکھا جاتا ہے اور اس میں نہایت حساس سینسر، خاموشی سے چلنے والا ایک چھوٹا سا پنکھا، وائی فائی اور ٹچ سکرین ہوتی ہے۔ یہ آلہ سنسر کی مدد میں گھریلو فضا میں موجود PM2.5 کی شرح کی نشاندہی کرتا ہے۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ آلہ گھریلو ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے تمام تر ڈیٹا اور معلومات مہیا کرتا ہے۔ وائی فائی کی مدد سے یہ ڈیٹا کمپنی کی ویب سائٹ پر مسلسل اپ لوڈ ہوتا رہا ہے اور آپ اس ڈیٹا کی مدد سے آلودگی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں Airviz نے ایک موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے جو صارف کو مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھتی ہے۔

تحریر: سمسن گیرافنکیل (Simson Garfinkel)

Read in English

Authors
Top