Global Editions

کس طرح چین نے فن ٹیک میں مغرب پر برتری حاصل کی

علی پے اور وی چیٹ جیسی رقم کی ادائيگی کی ایپس نے چین میں روزمرہ زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ مغرب میں اس قسم کا انقلاب نہيں آئے گا، اور ہوسکتا ہے کہ یہ بہت اچھی بات ہو۔

میں2013 میں چین کے مالیاتی نظام کا مطالعہ کرنےکے لئے پیرس سے بیجنگ منتقل ہوا۔ میں دو سال تک وہاں رہا اور مینڈارن سے انگریزی میں معاشیات کی کتابوں کا ترجمہ کرنے کے لئے کافی رواں ہو گیا اور مینڈارن میں مانیٹری پالیسی پر بات چیت کرتا تھا۔

لیکن میں نے کبھی بھی وہاں پر اپنے آپ کو فٹ محسوس نہیں کیا جب تک کہ میں نے دوبارہ دورہ نہیں کیا اور علی پے نےبالاخر مجھے منظور کیا (غیر ملکیوں کو چین کے مالیاتی نظام کی سپر ایپس استعمال کرنے کی بڑی مشکل سے اجازت دی جاتی ہے)۔ اس سے پہلے، میں رقم نکلوانے کے لئے اے ٹی ایم تلاش کرتا رہتا تھاجبکہ میرے دوست اپنے فونز سے وینمو کی طرح کی علی پے یا وی چیٹ ایپس سےہوٹلوں کے بل ادا کرتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بٹن کے کلک کے ساتھ اپنی تنخواہ کی سرمایہ کاری کرکے منافع کمانا شروع کر دیا جبکہ مجھے ایک بینک پر قطار میں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ لیکن گزشتہ سال، علی پے کے ساتھ مسلح ہو کر میں نے موٹر سائیکل کی سواری شئیر کی جس نے مجھے ایک میٹنگ میں جلدی پہنچا دیا ، میں کیو آر کوڈ سکین کرکے رات کے کھانے کا بل ادا کیا اور پھر میں نےپہلی سواری شئیر ڈی ڈی(Didi) کی اور یہ سب کام ایک ایپ کے ذریعے کیا۔

اے این ٹی فنانشل (Ant Financial)کی علی پے اور اورٹینسٹ (Tencent)کی وی چیٹ نے لوگوں کی مالیاتی زندگی کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے۔ کچھ ون سٹاپ شاپس ہیں جو نصف بلین چینیوں کو بہت زیادہ خدمات تک رسائی فرام کرتی ہیں جیسے قرضہ جات حاحل کرنا، سرمایہ کاری کرنا،کریڈٹ سکور، ٹریول بکس، ٹیکسی رائیڈ اور سوشل میڈیا۔

چونکہ بہت زیادہ چیزیں ان ایپس کے ذریعہ فروخت کی جاتی ہیں، اس لیے علی بابا اور ٹینسٹ کو پورے چین میں بہت سارے چھوٹے کاروباری اداروں کی صحت (یا ان کی کمی) کا پتا ہوتا ہے۔نتیجے کے طور پر، وہ ان کمپنیاں کو قرض دے سکتی ہیں جن کو بینک قرضہ دینے سے کتراتے ہیں۔ اسی طرح، بغیر کریڈٹ سکور والے افراد سستے قرض حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ اے این ٹی فناشل کا قرضہ دینے کا اپنا طریقہ کار ہے۔

اسی دوران، امریکہ میں ہر سال لوگ پلاسٹک سے ادائیگی کرتے ہیں اور ہر سال اربوں کے کاغذ والی چیک بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک اپنے صارفین کو اپنے دوستوں کی فیڈ کو چیک کرنے کے لئے سکرولنگ اور پیغامات کے لئے دو اپیس استعمال کرتی ہے۔ علی بابا کے ڈیجیٹل ویلٹ سے دو سال پہلے، گوگل ویلٹ(Google Wallet 2011) سنہ 2011 میں شروع کیا گیا تھا لیکن یہ زیادہ تر غیراستعمال رہتا ہے۔ ایپل پے اس کے ایک سال بعد آیا لیکن یہاں تک کے امریکہ کے بڑے شہروں میں ریٹیلر اسے بڑی مشکل سےقبول کرتے ہیں۔

لہٰذا ان تمام فوائد کے ساتھ، کیا مغرب چینی ماڈل کو اپنانے کے لئے چند سال دور ہے؟ شاید نہیں۔اس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

1. چین ادائیگی کے انقلاب کے لئے تیار تھا کیونکہ متبادل موجود نہیں تھا

2004 میں جب علی پے ایک سادہ ادائیگی کے آپشن کے طور پر استعمال کیا گیا توچینی فنانس انتہائی کم ٹیکنالوجی پر تھا۔کلونکی ریاستی ملکیت کے بینک برے قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھے اور انہوں نے اوسط صارفین کی بہت کم پرواہ کی۔ لوگوں کو بینک کی برانچوں تک سفر کرنا پڑتا تھا اور اپنے بلوں کی ادائیگی کے لئےلمبی لائنوں پر انتظار کرنا پڑتا تھا؛ بچت ختم ہوگئی کیونکہ حکومت نے سود مہنگائی کی شرح کے مقابلے بہت کم مقررکیا تھا؛ اور مشکل سے کسی کے پاس کریڈٹ کارڈ ہوتا تھا۔  65 فیصد امریکیوں کے مقابلے میں، صرف 7.3 فیصد چینی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا جب کچھ نیا ہوا تو نظام میں کوئی وراثت نہیں تھی۔فن ٹیک فرم کے لئے بڑھنے کا موقع تھا۔اس کا امریکہ کے ساتھ موازنہ کریں جہاں روایتی مالیاتی اداروں نے طویل عرصے سے قرضوں، ادائیگیوں اور سرمایہ کاریوں کے لئے مہذب آپشن فراہم کیا ہوا تھا۔ امریکہ میں کسی قسم کے فن ٹیک سٹارٹ اپ کو ویزا اور ماسٹر کارڈ کے خلاف ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جو کئی دہائیوں میں تجربے اور صارفین کی عادتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

2. چین میں فن ٹیک کی ذمہ دار ایجادات باہر کی دنیا کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھیں

چین کی بہت سی مشہور فن ٹیک ایجادات حقیقت میں موافقت، ملاپ ، یا دوسروں کی طرف سے ایجاد کئے گئی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی یا ماڈلز کا کامیاب استعمال تھا۔ کیو آر(QR) کوڈ کو 1994 میں جاپانی سپلائی چین میں استعمال کیا گیا تھا، ایس کرو (escrow)خدمات ای بے(eBay) پر بہت پہلے فراہم تھیں اورمنی مارکیٹ فنڈز پر طویل عرصے سےپے پال پر دستیاب تھیں۔ کیو آر کوڈزعلی پے پر استعمال سے پہلے پے پال پر موجود تھےجو صارفین کو الیکٹرانک ادائیگی کے اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔  موبائل ادائیگیوں کے بارے میں تمام شوروغوغاکے باوجود، آج سب سے زیادہ علی پے اورٹینسٹ ادائیگی کے ٹرانزیکشنزاصل میں کیو آر کوڈز کے پیچھے پرانے فیشن کےڈیبٹ کارڈز کے ڈیجیٹل ورژن پوشیدہ ہیں۔ اور کوڈ اپنے میلویئر چھپا سکتے ہیں جس سے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس خالی ہوتے ہیں۔

3۔ چینی نظام ہیکر کا خواب اور رازداری رکھنے کے لئے بری ترین جگہ ہے

ایک ایپلی کیشن کے ذریعے صرف ایک بار آپ کے اکاؤنٹ کا ڈیٹا شئیر کرنے کی سہولت نہ صرف ادائیگی کے پلیٹ فارم کوبہت زیادہ مضبوط بناتاہے بلکہ ہیکرز کے لئے بھی ہنی پاٹ بناتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہےکہ کیا ہوتا ہے جب ہم اپنی زندگی کے بہت سارے ایریاز کے حوالے سے ایک کمپنی پر اعتماد کر بیٹھتے ہیں جیسا کہ فیس بک کا استعمال کرتے ہوئےہم دوسری ویب سائٹس کو استعمال کرتے ہیں۔ اے این ٹی فنانشل یا ٹینسٹ کے ساتھ اسی طرح کا مسئلہ بہت برا ہوگا۔یہ کمپنیاں کہیں زیادہ کنٹرول رکھتی ہیں اور امریکہ میں کسی بھی انفرادی کمپنی کے مقابلے میں صارفین کی زندگی پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرتی ہیں۔ان معلومات کو آپ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ آپ کو مزید ادائیگی کرنے کے لئے قائل کر سکتی ہیں۔

4. چینی فن ٹیک کو حکومت نے بہت زیادہ مدد دی

چینی حکومت نے اپنے تکنیکی ماہرین کوامریکی ریگولیٹروں کے مقابلے میں بہت زیاد ہ کھلی چھٹی دی۔ چین نے آن لائن ادائیگی کی مارکیٹ کو تقریباً کئی سال بغیر ریگولیٹر کے چلایا، اور مرکزی بینک کے گورنر نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ٹیک کمپنیوں کو ان جگہوں میں داخل ہونے اجازت دیں گے جہاں پہلے کسی کو بغیر مالیاتی لائسنس کے اجازت نہ تھی ۔ اس طرح مرکزی بینک نے قانون نافذ ہونے سے پہلے ان کمپنیوں کو آزادی دی۔

بہتر یا بدتر کے لئے، امریکی ریگولیٹرز نے مخالف اپروچ رکھی۔ انہوں نئی فن ٹیک سٹارٹ اپس کو مکمل قوانین پر عمل کرنے پر زور دیا، حالانکہ ان کے نئے ماڈلوں کا اطلاق ہمیشہ واضح نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، پے پال کو منی ٹرانسمیٹر لائسنس کی درخواست دینے کے لئے ایک ریاست سے دوسری کی طرف جانا پڑتا تھا۔ امریکہ نے طویل عرصہ تک بینکنگ اور غیر مالیاتی کاروباری اداروں کے درمیان علیحدگی رکھی۔ اگر گوگل نے بینک کا مالک بننا چاہا توامریکی ریگولیٹر نے اسے سرچ اور اشتہارات جیسے کاروباروں سے باہر نکلنے پر مجبورکیا۔ اس چیز نے امریکہ کو چین کے سپر ایپ ماڈل اپنانے میں چین سے پیچھے رکھا۔

5.فن ٹیک بزرگوں اور کم ٹیکنالوجی جاننے والوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

اگر آپ غیر ملکی ہیں یا اگر آپ ایک سیاح ہیں، یا آپ دیہی چین سے ہیں، یا آپ بزرگ ہیں تو ایپ والی معیشت آپ کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ چین میں نقدی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور ایپ استعمال کرنے والے ٹیکسی حاصل کرکے چلے جائیں جو کہ آپ کیش والے حاصل نہیں کر سکتے۔لہٰذا چینی ماڈل میں سہولت بارے بہت کچھ ہے۔ ہمیں اس میں جذب ہونے کی ضرورت ہے اگر ہم ہو سکتے ہیں۔

تحریر: مارٹن چارزیما

Read in English

Authors

*

Top