Global Editions

بلاک چین سے مردم شماری میں کس طرح بہتری لائی جاسکتی ہے؟

مردم شماری میں بلاک چین کے استعمال سے شفافیت کے علاوہ ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

مردم شماری کا انعقاد اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ریاستی انتظام کے فریم ورک کی ضروریات میں شامل ہے، تاکہ اس کی بنیاد پر معیشت اور مالیات کے علاوہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی عوامی پالیسیوں کو تشکیل دیا جاسکے۔

بیشتر ممالک میں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، مردم شماری کے اعدادوشمار کا حصول اور ترتیب دونوں ہی نہایت محنت طلب کام ہيں۔اس کے علاوہ، اقلیتوں، مہاجرین اور غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افراد سے وابستہ معلومات کے حصول کی درستی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

اکثر مردم شماری کے دوران مختلف سماجی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر مذہبی اور نسلی اقلیتوں اور غیرقانونی مہاجرین کے متعلق ڈیٹا پوری طرح سے حاصل نہيں کیا جاتا۔ نیز، غیرقانونی افراد کی غیررجسٹرشدہ عمارتوں، گھروں کی غیرمنظور شدہ توسیعات، پناہ گاہوں یا فٹ پاتھ میں رہائش کے باعث بعض دفعہ ان کی مردم شماری میں درست گنتی نہيں ہوپاتی۔ اس کے علاوہ، اگر ایک ہی عمارت میں متعدد خاندان رہتے ہوں تو مردم شماری میں آبادی کا درست تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اعداد و شمار میں غلط بیانی کے نتائج بہت سنگین ثابت ہوسکتے ہيں۔ نائجیریا کی مثال لے لیں جہاں جنوبی علاقہ جات میں رہائش پذیر نسلی اور مذہبی اقلیتیں متعدد مردم شماریوں کے نتائج کو تنقید کا نشانہ بناچکی ہیں۔ ان مردم شماریوں کے مطابق نائجیریا کے شمالی حصے میں سیاسی طاقت رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ ملک کے جنوبی حصے میں، جہاں قدرتی تیل کے ذخائر موجود ہيں، وہیں پر اقلیتوں کی تعداد بھی زيادہ ہے۔ وفاقی یونٹس کے درمیان آمدنی کی تقسیم کمائی کے بجائے آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس کے باعث جنوبی نائجیریا کی اقلیتیں اکثر مردم شماری کے نتائج سے ناخوش رہتی ہیں۔

پاکستان میں 2017ء کی مردم شماری بھی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کو کم کر کے بتانے کے الزامات کی وجہ سے کافی تنازعات کا شکار رہی ہے۔ اسی طرح، اطلاعات کے مطابق امریکہ کی 2010ء کی مردم شماری میں سیاہ فام اور ہسپانوی افراد، نوجوان مردوں اور کرایہ داروں سمیت مختلف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 15 لاکھ افراد کی گنتی نہيں کی گئی تھی۔

بلاک چین کے استعمال سے مردم شماری کے ان مسائل کا ایسا پائیدار حل ممکن ہے جس میں غلط بیانی کی گنجائش موجود نہيں ہے۔

بلاک چین ایک ایسے پیئر ٹو پیئر (peer-to-peer) غیرمرکزی ڈسٹری بیوٹڈ (distributed) لیجر کو کہا جاتا ہے جس سے ڈیٹا کو مستقل طور پر ریکارڈ کرکے ناقابل تغیر اور قابل اعتماد ٹرانزیکشنز کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، چاہے ان کا تعلق پیسے سے ہو یا شناختی معلومات جیسے کسی بھی قیمتی چیز سے ۔اس کی نمایاں خصوصیات میں مستقل رہنے کی صلاحیت، کشادگی، اور اضافی تحفظ شامل ہيں، جس کی وجہ سے یہ مختلف اقسام کی ایپلی کیشنز کے لیے موزوں ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بلاک چین کو رضاکارانہ طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے علاوہ کسی بھی چیز کی ضرورت نہيں ہے۔ اسی لیے، مرکزی سٹرکچرز کے مقابلے میں بلاک چین کی وجہ سے وقت، بچت اور خطرات کی کمی اور بھروسے میں اضافہ ممکن ہيں۔

کچھ ممالک میں اس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب میں 2020ء کی مردم شماریوں میں انٹرنیٹ کے ذریعے منعقد ہونے والے سرویز اور تصدیق کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی سینس بیورو (Census Bureau) ملک بھر میں آبادی کے مجموعوں کی درست نقشہ کشی کے لیے سیٹلائٹ اور ہوائی امیجری کا فائدہ اٹھانے والے آلات پر کام کررہا ہے جس سے مردم شماری کے لیے درکار انسانی اور مالی وسائل میں واضح کمی ممکن ہوگی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مردم شماری میں کاغذی کارروائی مکمل طور پر ختم کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا پڑے گا اور بلاک چین اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔

بلاک چین استعمال کرنے والی ایپلی کیشنز اقلیتوں اور بے گھر افراد سمیت پسماندہ گروپس کی شرکت میں اضافہ کرنے میں خاص طور پر معاون ثابت ہوسکتے ہيں۔ تبدیلی کی گنجائش نہ رکھنے اور کمیونٹیز اور افراد کو اپنی ذاتی معلومات تک زیادہ رسائی فراہم کرنے کے علاوہ، یہ ایپلی کیشنز عبادت گاہوں، پناہ گاہوں، غذائی پروگرامز، لسانی اور تعلیم بالغان کے مراکز، مقامی ڈيلیوری اور ہیلتھ وزیٹرز کے ڈیٹابیسز، اور پبلک ٹرانسپورٹ اور رائیڈ شیئرنگ کی سہولیات جیسے مختلف ذرائع سے ڈیٹا کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہيں۔

بلاک چین استعمال کرنے والی ایپلی کیشنز کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ ان کے ذریعے عام شہریوں کو اپنے ڈیٹا پر کنٹرول دیا جاسکتا ہے تاکہ ان کی ذاتی معلومات سے وابستہ تمام حقوق انہی کے ہاتھ میں ہوں۔ اس سے انہیں مردم شماری میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت مردم شماری سے حاصل کردہ ڈیٹا کو جی آئ ایس کی نقشہ کشی اور ماحولیات سرویز میں استعمال کیا جارہا ہے لیکن بلاک چین ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے کے بعد ان معلومات کو مارکیٹنگ اور تحقیق سے وابستہ سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا صرف عام شہریوں سے، یعنی اس ڈیٹا کے مالکان سے، اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس طرح ڈيٹا سیٹس حاصل کرنے کے خواہش مند کاروبار یا محققین متعلقہ شہریوں کو کرپٹوکرنسی میں طے شدہ رقم کی ادائيگی کے بعد اس معلومات تک رسائی حاصل کرسکيں گے۔

دنیا بھر میں ڈیٹا کی جمع کاری کے کئی نظاموں میں بلاک چین کا استعمال بہت کامیاب ثابت ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر سپین کے خودمختار علاقے کیٹالونیا میں 2017ء کے ریفرینڈم میں ڈیوپوسٹ (DevPost) نامی کمپنی کے بنائے گئے سسٹم کو بروئے کار لایا گیا۔ پرانے مرکزی سسٹم کو ڈی ڈوس (DDoS) حملوں کا خطرہ لاحق تھا اور اگر درخواستوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوجائے تو اس سسٹم کو مزید وسیع نہيں کیا جاسکتا تھا جس کے باعث وہ اکثر عدم دستیابی کا شکار رہتا۔ اس کے علاوہ، اس میں سیکورٹی چیکس اور تصدیق کی بھی گنجائش نہيں تھی۔ اس کے برعکس نئے بلاک چین کے نظام کے ذریعے ریئل ٹائم ووٹوں کی تصدیق اور فریب کی روک تھام ممکن تھی۔

اسی طرح کینیڈا میں واقع ٹیکنالوجی کی کمپنی نووا ٹیکنی ٹیکنالوجی کارپوریشن (NovaTeqni Technology Corporation) نے ایک ایسی ایپلی کیشن تیار کی ہے جو بلاک چین کی مدد سے مردم شماری کے انٹرویوز کے دوران معلومات ریکارڈ کرتی ہے۔ اس طرح اعداد و شمار میں انٹرویوز کے دوران ڈیٹا کے اندراج میں تاخیر یا غفلت کی شکل میں ہیراپھیری کے مسائل کے حل کے لیے شفافیت، تحفظ اور سکیلبلٹی شامل ہیں۔

اس قسم کے سسٹمز سے ڈیٹا کا حصول زیادہ آسان اور زیادہ جلدی ممکن ہوگا اور موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ ان میں بلاک چین استعمال کرنے والے ڈسٹریبیوٹڈ لیجرز پر ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اینکرپشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کے تحت شناخت کے حق کا شمار سماجی، ثقافتی، مالی اور سیاسی بہتری کی بنیادی ضروریات میں ہوتا ہے۔ بلاک چین کے سسٹمز متعارف ہونے سے ممکن ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے جب دنیا بھر میں گھومنے یا کاروباری ٹرانزیکشنز کے دوران شناخت کی تصدیق کے لیے صرف ایک ہی آئی ڈی درکار ہو اور لمبے چوڑے تصدیقی عمل سے جان چھوٹ جائے۔

پاکستان جیسے ممالک میں بیشتر مالی ٹرانزیکشنز کے دوران فریقین کی شناختی معلومات حاصل نہيں کی جاتی۔ اسی لیے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقم کی فراہمی کی روک تھام کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (Financial Action Taskforce – FATF) کی

ضروریات کی تعمیل میں مردم شماری کے لیے بلاک چین استعمال کرنے والا پبلک لیجر بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

کسی بھی دوسری نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی طرح بلاک چین استعمال کرنے والے نظام کے مضمرات اور نقصانات کے بارے میں اس وقت کچھ نہيں کہا جاسکتا۔ تاہم ہم اس وقت بلاک چین کے مسائل کی نشاندہی ضرور کرسکتے ہيں تاکہ آگے چل کر انہیں قبل از وقت حل کرنے کے لیے اقدام کیے جاسکیں۔ ان میں سے پہلے مسئلے کا تعلق سسٹم کی عوامی نوعیت کے باعث شناختی عمل کے انتظام سے ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص کسی بھی وقت بلاک چین کے کسی بھی بلاک کے مشمولات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اگر معلومات کے اجراء کے متعلق قواعد تیار نہ کیے گئے تو دوسروں کی حساس معلومات تک رسائی کی روک تھام کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔ دوسرے مسئلے کا تعلق تصدیقی عمل کی سست رفتار سے ہے، جس کا سب سے زيادہ نقصان بیرون ملک سفر کو ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر بلاک چین کے ذریعے ایک شخص کے شناختی دستاویزات کی تصدیق میں 15 منٹ لگیں گے تو امیگریشن کاؤنٹرز پر نہ صرف بہت وقت ضائع ہوگا بلکہ آمدورفت میں بھی کمی ہونا شروع ہوجائے گی۔

یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ مردم شماری ہمیشہ سے ہی حکومت کی ذمہ داری رہی ہے جس کے باعث اس میں انوویشن کی گنجائش بہت کم تھی۔ تاہم بلاک چین ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد ایک نئی مارکیٹ جنم لے گی جس میں نئے فریقین حصہ لیں گے۔ اس میں مردم شماری کے ذمہ دار حکومتی محکموں کے علاوہ عوام الناس اور آبادی کے اعدادوشمار سے وابستہ کنسلٹنسی کی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں شامل ہوسکتی ہيں۔

اس مارکیٹ میں بیرون ملک سفر کرنے والے افراد اور ایکسپیٹس (expats) کے علاوہ ڈیٹا کی مدد سے دوسرے ملکوں میں نیٹورک اور اشتہارات کی ٹریفک بھیجنے والی کمپنیوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ عوامی بلاک چین میں ایکسپیٹس کی معلومات رکھنے سے اس قسم کے سسٹم کی پیسے کمانے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہائپر لیجر چین کوڈ استعمال کرنے والی بلاک چین کی ایپلی کیشن مردم شماری کے مسائل کا بہترین حل ثابت ہوگی۔ اس سے حکومت، سیاسی پارٹیوں، نسلی اقلیتوں، عوامی محکمے اور عوام الناس، سب ہی کی ضروریات بیک وقت پوری کرنا ممکن ہو گا۔ پاکستان میں اس قسم کا سسٹم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (Securities and Exchange Commission of

Pakistan – SECP) اور بینک دولت پاکستان جیسی ضابطہ کار حکام کی رہنمائی کے ساتھ تیار کردہ ضوابط کے تحت تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ڈسٹریبیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (distributed ledger technology – DLT) کا استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا اس سے نہ صرف تمام فریقین کے دوران اعتماد کا ماحول قائم ہوگا اور شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقابلے کا فروغ بھی ممکن ہوگا۔ اس کے علاوہ، نجی کمپنیاں اور سٹارٹ اپس اس بلاک چین پر ڈی سینٹرلائيزڈ ایپلی کیشنز (decentralized applications – DApps) تیار کرکے مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر مختلف طریقوں سے پیسے کماسکتی ہیں۔ مردم شماری کے عوامی لیجر کے DLT ریکارڈز میں تبدیلی کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک شخص کسی بھی قسم کا تضاد مفاد دیکھ سکے گا اور اس کی نشاندی کرسکے گا، جس سے اس ڈیٹا کی مارکیٹ پلیس میں بہت سخت مقابلہ سامنے آئے گا۔

ذیشان الحسن عثمانی نے فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Florida Institute of Technology) سے کمپیوٹر سائنس میں اپنا پی ايچ ڈی مکمل کیا ہے۔ وہ ڈيٹا سائنسز، بلاک چین، پریڈیکٹو انالٹکس (predictive
analytics) اور انسانوں کے ابھرتے ہوئے رویوں کی ماڈلنگ میں دلچسپی رکھتے ہيں۔ وہ اس وقت بلاک چین ایپلی کیشنز، سیلف اویئر (self-aware) سمارٹ کانٹریکٹس، اور خود کو منظم کرنے والے کرپٹو اثاثہ جات پر کام کررہے ہيں۔

تحریر: ذیشان الحسن عثمانی

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top