Global Editions

امریکی کیپیٹل بلڈنگ پر حملہ: افواہوں سے سازشی تھیوریز تک کا سفر

میڈیا اور ری پبلکن سیاستدانوں کی کوششوں کی بدولت امریکی کانگریس پر حملے کے متعلق افواہیں آگ کی طرح پھیلنا شروع ہوئيں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپیٹل بلڈنگ پر حملہ کرنے والے صدر ڈولنڈ ٹرمپ کے حامی خود کی لائیوسٹریمنگ کر رہے تھے، اور وہ بہت فخر سے پوری دنیا کو بتا رہے تھے کہ وہ کون تھے اور وہ یہ سب کس کے لیے کر رہے تھے۔ تاہم چند افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے انٹرنیٹ پر یہ افواہ پھیلانا شروع کی کہ اس حملے کے پیچھے اینٹیفا (antifa) کے کارکنان کا ہاتھ تھا جو صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو بدنام کرنا چاہ رہے تھے۔ حملہ آور چیخ چیخ کر اس بات کی تردید کرتے رہ گئے، لیکن وہ اس افواہ کو آگ کی طرح پھیلنے سے نہيں روک پائے۔

انٹرنیٹ پر اینٹیفا کے خلاف افواہیں پھیلتی رہتی ہيں۔ مثال کے طور پر، اینٹیفا کے متعلق اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ چھوٹے شہروں میں دنگا فساد پھیلانے کے لیے اکثر کرایے کے احتجاجیوں کا انتظام کرتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی انہیں بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہيں دیتے۔

اسی لیے، عوام کے لیے اس نئی افواہ کو سچ مان لینا مشکل نہيں ثابت ہوا اور اس جھوٹی خبر کو سوشل نیٹورکس اور میڈیا تک پہنچنے میں زيادہ دیر نہيں لگی۔ ری پبلکن سیاستدان بھی اسے مزید ہوا دیتے گئے۔

میڈيا انٹیلی جینس کمپنی زگنل لیبز (Zignal labs) کے مطابق، 24 گھنٹوں کے اندر انٹرنیٹ پر اس افواہ کا 411،099 دفعہ ذکر کیا گيا۔ اس میں مزید مرچ مصالحہ شامل ہوتا گیا، اور آخرکار امریکی کانگریس کے ایک ری پبلکن رکن نے بھی اسے دہرانا شروع کردیا۔

تفصیلات

بدھ کے روز دوپہر ڈھائی بجائے کیپٹل کی عمارت میں الیکٹرل کالج کے ووٹس کی تصدیق کے دوران احتجاجیوں نے دھاوا بول دیا۔

حملہ شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد معروف سازشی تھیورسٹ لن ووڈ (Lin Wood) نے ٹرمپ کے حامیوں میں مقبول سوشل نیٹورک پارلر (Parler) پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ احتجاجی دراصل اینٹیفا کے حامی تھے۔ انہوں نے مزيد دعویٰ کیا کہ کیپٹل حملے میں دکھائے جانے والے ایک شخص کی تصویر اینٹیفا کی ویب سائٹ phillyantifa.org پر بھی موجود تھی۔ ان کی پوسٹ 56 لاکھ افراد نے دیکھی اور اسے 56،000 لائکس ملے، اور اس طرح ایک سازشی تھیوری کی بنیاد رکھی گئی۔

ایک گھنٹے بعد، ووڈ نے پارلر پر ایک دوسری پوسٹ کی، جس میں کیپٹل پر حملے کی ایک تصویر میں دکھائے جانے والے فوٹوگرافر کو لال دائرے کے ذریعے اجاگر کیا گيا تھا۔ ووڈ کے مطابق اس فوٹوگرافر کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ اس واقعے کے پیچھے کوئی سازش تھی۔ ان کی یہ دوسری پوسٹ بھی اتنی ہی وائرل ہوئی جتنی ان کی پہلی پوسٹ ہوئی تھی۔

پارلر پر شروع ہونے والی یہ افواہ جلد ہی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر آنے لگی۔ ٹوئیٹر پر اینٹیفا کے متعلق یہ سازشی تھیوری ہزاروں دفعہ ری ٹویٹ ہوئی۔ ٹوئٹر نے متعدد ٹویٹس کو حذف کردیا، اور وڈ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل کر دیا۔ تاہم، وہ تمام ٹویٹس حذف کرنے میں کامیاب نہيں ہوسکے۔ کیپٹل پر حملہ کرنے والے افراد میں سازشی گروپ کیو اینون (QAnon) کے رکن جیک ایجنلی (Jake Angeli) شامل تھے۔ ٹیلی وژن پر تبلیغ کرنے والے مارک برنز (Mark Burns) نے فوراً اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ شخص صدر ٹرمپ کا حامی نہيں ہے۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس حملے میں اینٹیفا کا ہاتھ ہے۔“ صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ (Eric Trump) نے اس ٹویٹ کو لائیک کیا، جس کے نتیجے میں ان کے 45 لاکھ فولوورز کو یہ پوسٹ دکھ گئی۔

شام تک یہ افواہ فیس بک تک پہنچ گئی۔ متعدد فیس بک گروپس میں شامل ممبران کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے احتجاجیوں کے کپڑوں اور جوتوں میں اینٹیفا میں شمولیت کا ثبوت تلاش کرنے لگ گئے۔ ان گروپس پر موجود دوسری پوسٹس کے مقابلے میں اس قسم کی پوسٹس پر سب سے زيادہ اینگیجمنٹ نظر آئی۔ فیس بک نے کئی پوسٹس کو حذف کردیا ہے، لیکن ابھی بھی کئی باقی ہيں۔

فیس بک پر سامنے آنے کے بعد، اس افواہ میں مرچ مصالحہ شامل ہونا شروع ہوا۔ لوگوں نے دعویٰ کرنا شروع کیا کہ الٹی ٹوپی پہننے والے احتجاجی اینٹیفا کے ارکان تھے، اور کیپٹل بلڈنگ پر اس پیمانے کا حملہ ممکن ہونے کا مطلب یہی تھا کہ اس کے پیچھے کسی بہت بڑی طاقت کا ہاتھ ہے۔

شام 5 بجے تک یہ خبر سیاستدانوں اور میڈیا تک پہنچ گئی۔ دائیں بازو میں فعال کردار ادا کرنے والے مائیکل کوڈری (Michael Coudrey) نے ٹوئٹر پر لکھا کہ حملہ آوروں کے گھٹنوں پر لگے پیڈز ”اینٹیفا کی واضح علامت ہیں۔“ ایریزونا کے نمائندے پول گوسار (Paul Gosar) نے ان کی ویڈيو کو مزيد شیئر کیا۔ کوڈری کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو معطل کر دیا گيا۔

ری پبلکن سیاستدان میٹ گیٹز نے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ ”آج جن لوگوں نے کیپٹل پر حملہ کیا، وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہيں تھے، بلکہ اینٹیفا کے ارکان تھے جو ٹرمپ کے حامی ہونے کا ڈھونگ رچا رہے تھے۔“

پونے تین گھنٹے بعد سارہ پیلن (Sarah Palin) نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے لن ووڈ کی بات دہرائی۔ فاکس نیوز کی میزبان لورا انگراہم (Laura Ingraham) نے اپنے ٹی وی پروگرام پر ان افواہوں کو مزيد ہوا دی، اور واشنگٹن ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے چند احتجاجیوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ واشنگٹن ٹائمز نے اب اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنی رپورٹ کو حذف کر لیا ہے، لیکن زگنل کے مطابق اس وقت تک یہ پوسٹ ٹوئٹر پر 87،800 بار اور فیس بک پر 89،700 بار شیئر ہوچکی تھی۔

حملے کے بعد، شام میں جب کانگریس کا سیشن بحال ہوا تو فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سیاستدان میٹ گیٹز (Matt Gaetz) نے واشنگٹن ٹائمز کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خطاب کے دوران کہا کہ ”آج جن لوگوں نے کیپٹل پر حملہ کیا، وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہيں تھے، بلکہ اینٹیفا کے ارکان تھے جو ٹرمپ کے حامی ہونے کا ڈھونگ رچا رہے تھے۔“

یہ افواہ اگلے روز بھی جاری رہی۔ جمعرات کی صبح ری پبلکن سیاستدان مو بروکس (Mo Brooks) نے ایک ٹویٹ میں اینٹیفا کو حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ”وہ لوگوں کو کنٹرول کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔“ انہوں نے ثبوت کے طور پر انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جعلی معلومات کا حوالہ دیا۔ ان کی ٹویٹ ایک ہی روز میں 25،000 بار ری ٹویٹ ہوئی۔

آگے کیا ہوگا؟

صدر ٹرمپ خود اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ کیپیٹل پر حملہ کرنے والے افراد ان کے لیے یہ سب کچھ کر رہے تھے اور وہ کھلے عام ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ اس کے باوجود، اینٹیفا کے متعلق بے بنیاد خبریں پھیلتی رہيں۔

یہ افواہ جس تیزی سے پھیلی، اسے دیکھ کر ہم اندازہ لگا سکتے ہيں کہ صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس چھوڑ کر جانے کے بعد کیا ہوگا۔ ان سازشی تھیوریز نے اس قدر زور پکڑ لیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل ہونے کے باوجود بھی قائم رہيں گی۔

یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کے باوجود، کچھ سیاستدان اور میڈيا سے تعلق رکھنے والے افراد سچ نہيں ماننے والے۔

تحریر: ٹیٹ رائن موسلی (Tate Ryan-Mosley)، ایبی اولہائزر (Abby Ohlheiser)

تصویر: اے پی

Read in English

Authors

*

Top