Global Editions

الفا زیرو نے کس طرح گیم کے قوانین کو متعین کیا ہے

ڈیوڈ سلور کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر پروگرام جس نے خود کو ایک شطرنج گرینڈ ماسٹر کے طور پر سکھایا ہے “،تخلیقی صلاحیت کے جوہر دکھا سکتا ہے۔”

ڈیوڈ سلور نے ایک ایسی چیز ایجاد کی ہے جوخود اس سے زیادہ چیزوںکو ایجاد کر سکتی ہے۔سلور الفا گو میں ایک لیڈ محقق ہیں۔ الفا گو ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جس نے گو چلانا سیکھ لیا ہے جبکہ گو ایک مشہور گیم ہے جو کہ گیم کے قوانین سے ہٹ کر انسانوں کے رویوں سے سیکھ کر بصیرت کا استعمال کرتی ہے۔

سلور کی تازہ ترین تخلیق الفا زیرو ہے جو خود کے خلاف مشق کرتے ہوئے گو، شطرنج اور شوگی سمیت بورڈ کے کھیلوں کوسیکھتا ہے۔  لاکھوں پریکٹس گیموں کے ذریعے، الفا زیرو ایسی حکمت عملی وضع کرتی ہے جو انسان کو تخلیق کرنے کے لئے ہزاروں سال لگے۔
تو کیا مصنوعی ذہانت ایسے مسائل کو حل کریگی جو کہ انسانی دماغ کبھی نہ کر سکے۔میں نے سلور سے لندن میں ان کے دفتر ڈیپ مائند میں ملاقات کی ۔ ڈیپ مائند اب الفا کی ملکیت ہے۔

ایک مشہور گیم میں ممکنہ طور پر ایک بہترین گول کھلاڑی کے خلاف ، الفا گو نےایک شاندار چال چلی جو کہ انسانی مبصرین کو ابتدائی طور پر ایک غلطی لگی تھی۔ کیا یہ اس لمحے میں تخلیقی ہو گئی تھی ؟

ـ”موو37″ جیسا کہ یہ جانی جاتی ہے ،نے ہر کسی کو حیران کر دیا بشمول گو کمیونٹی اور ہمیں اور اپنے بنانے والوں کو۔ یہ گو کھیلنے کےممکنہ طریقوں سے باہر تھاجس کو انسانوں نے ہزاروں سالوں کی ذہنی ریاضت سے سیکھا تھا۔ میرے لئے یہ تخلیقی ہونے کی ایک مثال ہے۔چونکہ الفا زیرو انسان سے نہیں سیکھتا، کیا یہ زیادہ تخلیقی ہے؟

جب آپ اپنے آپ سے کچھ سیکھتے ہیں، تو آپ بالکل شروع سے کوئی چیز سیکھ رہے ہوتے ہیں، یہ تخلیقیت کی تقریباً ایک خوبصورتی ہے۔
الفا زیرو کو اپنے لئے سب کچھ خود معلوم کرنا پڑتا ہے۔ ہر قدم ایک تخلیقی چھلانگ ہے۔یہ بصیرت تخلیقی ہے کیونکہ یہ چیزیں انہیں انسانوں کے ذریعہ نہیں دی گئی ہیں۔اور یہ تخلیقی صلاحیتیں چھلانگ مار کے بڑھتی جائیں کیونکہ یہ ہماری صلاحیتوں سے کہیں زیادہ چلی جاتی ہیں اور ہمیں حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

آپ نے الفا زیرو کو روایتی شطرنج انجن، اسٹاک فش کے خلاف کھیلاہے۔ آپ نے کیا سیکھا ہے؟
اسٹاکفش کے پاس جدید ترین انجن ہے، لیکن اس کے دل میں ایک ماڈیول ہے جو کہتا ہے کہ، “انسانوں کے مطابق، یہ ایک اچھی پوزیشن یا خراب پوزیشن ہے۔اس طرح سے انسان واقعی وہاں لوپ کی گہرائی میں ہیں۔ اس کے لئے مشکل ہے کہ وہ ان چیزوں کو توڑے اور ایسی پوزیشن کو سمجھے جو بنیادی طور پر مختلف ہے۔

الفا زیرو خود کے لئے پوزیشنوں کو سیکھتی ہے۔یہ ایک خوبصورت گیم ہے جس کو ہم صرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ واقعی ایک قطار میں چارمہرے دیتی ہے اور یہ پانچواں مہرہ بھی دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اسٹاکفش سوچتی ہے کہ یہ فاتح کے طور پر جیت رہی ہے، لیکن الفا زیرو واقعی خوش ہے۔
کیاالفا زیرو سوچتی ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی سائنسی جدت میں کردار ادا کریگی؟

مشین لرننگ میں ایک اپروچ غالب ہے جس کو سپروائزڈ لرننگ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہےکہ آپ اس طرح سے شروع کرتے ہیں جیسے انسان۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ہر اس چیز کے ساتھ شروع کرتے ہیں جیسے انسان سیکھتے ہیں۔ کمپیوٹر پروگرام میں یہ چیزیں اسی طرح سے ہوتی ہیں۔اس نئی اپروچ کی خوبصورتی یہ ہے کہ ری انفورسمنٹ لرننگ میں یہ کمپیوٹر پروگرام اپنے لئے سیکھتا ہے -اصولوں سے لیکر مقاصد کے حصول تک۔ یہ ایک ملین منی دریافتوں کی طرح ہے جو ایک کے بعد دوسری چیزکو سیکھتا ہے اور سوچنے کا تخلیقی راستہ اپناتا ہے۔ اور اگر آپ ایسا کر سکتے ہیں تو آپ اس چیز پر ختم ہونگےجس میں بے پناہ صلاحیت ہے؛مسائل کو حل کرنے کی بہت بڑی صلاحیت ہے۔ اور امید ہے بڑی کامیابیوں مل سکتی ہیں۔کیا یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے پہلو ہیں جو خود کار طریقے سے نہیں ہوسکتے ہیں؟

اگر ہم انسانی دماغ کی صلاحیتوں کے بارے میں سوچیں تو ہم ابھی بھی اس صلاحیت تک رسائی حاصل کرنے سے دور ہیں۔ ہم خصوصی ڈومینز جیسے شطرنج اورگو میں اس کے کام کے لئے وقف کردہ ایک بڑے پیمانے پر کمپیوٹر پاور کے ساتھ نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن انسانی دماغ کو کچھ مختلف کرنے کے لئے انتہائی معمولی سطح پر جنرل چیزیں کرنے کے قابل ہے۔ آپ گیم کے قواعد کو تبدیل کر سکتے ہیں اور ایک انسان کو دو ہزار سال کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ پتہ چل سکے کہ اسے کس طرح کھیلنا چاہئے۔

میں یہ کہوں گا کہ شاید یہ اس وقت مصنوعی ذہانت کا ہم فرنٹیئر ہے۔ جو چیز ہم چاہتے ہیں وہ یہ ہےکہ ہم الگورتھم کی رینج اور لچک کو بڑھا ئیں تاکہ یہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھ سکے۔ لیکن یہ ابھی تک ایک طویل راستہ ہے۔

ہم وہاں کیسے پہنچ سکتے ہیں؟

میں اس خیال کو محفوظ رکھنا چاہتا ہوں کہ سسٹم کو کو انسانی علم کی رکاوٹ کے بغیر تخلیق کرنے کے لئے آزاد ہونا چاہیے۔ایک بچہ اپنے کیریئر کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتاہے، یا یہ کتنے بچے دے گا۔ یہ کھلونوں سے کھیلتا ہےاور صلاحتیں کو نکھارتا ہے۔  حتمی مقصد کی غیر موجودگی میں دنیا کے بارے میں جاننا بہت خوفناک ہے۔ یہ چیزہمارے بارے میں ٹھیک ہو سکتی ہے اور انہیں ہونا چاہئے۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top