Global Editions

موسمیاتی تبدیلیاں۔۔۔ دنیا غریب اور پرتشدد ہو جائے گی

دنیا اس وقت شدید موسمیاتی تغیرات کا شکار ہے اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شدید موسمیاتی اثرات کے باوجود دنیا اسی حالت میں برقرار رہے گی؟ اس سوال کا قطعی جواب ملنا مشکل ہے۔ تاہم اس موضوع پر ایم آئی ٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی ایم ٹیک کانفرنس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے کے پروفیسر آف پبلک پالیسی سولومن ہاسییانگ (Solomon Hsiang) نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی ریسرچ کے نتائج پیش کئے۔ ان کے اس جائزے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیقی جائزے میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کی روشنی میں واضح ہے کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور یہ بھی کہ درجہ حرارت میں اضافے کے معیشت اور انسانی رویوں پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ اپنے خطاب میں سولومن کا کہنا تھا کہ دستیاب اعدادوشمار کی روشنی میں اچھی تصویر سامنے نہیں آ رہی۔ درجہ بڑھنے کے اثرات زراعت پر نہایت برے ثابت ہونگے اور زرعی اجناس بری طرح متاثر ہونگی اس کے ساتھ ساتھ کرہ ارض کے گرم ہونے سے انسانی صحت کے بھی سنگین مسائل جنم لیں گے۔ اسی طرح مجموعی عالمی پیداوار  کم ہونے کے سبب عالمی جی ڈی پی کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صدی کے آخر تک عالمی جی ڈی پی میں 23 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جو بہت زیادہ شرح ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہونے سے دنیا کی ساٹھ فیصد غریب آبادی بھی بری طرح متاثر ہو گی جس سے نہ صرف عدم مساوات کو فروغ ملے گا بلکہ ایشیا اور افریقہ کا بہت بڑا علاقہ جو پہلے ہی غربت کا شکار ہیں مزید غربت اور مسائل کا شکار ہو جائیں گے تاہم یورپ کے وہ علاقے جہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے جیسا کہ شمالی یورپ وہ اس موسمیاتی تبدیلی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ یہ اثرات زندگی کے ہرشعبے پر نمایاں ہونگے جن میں مینوفیکچرنگ کے ذریعے ہونے والی پیداوار میں کمی، نوزائیدہ بچوں کی اموات اور انسانی رویوں کا پرتشدد ہونا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تبدیلیوں کو اپنا لیں لیکن ان تبدیلیوں کو اپنانے کے لئے بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی جائیں جو مختلف شعبوں کی لاگت کو کم کریں۔ اس سب کے باوجود سولومن پرامید بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی اور اب ہر طرح کے ڈیٹا کی موجودگی اور موسمیاتی تغیرات کے شدید ہونے کے سبب مخصوص معاشی اور سماجی اثرات کا تعین اور تدارک کے لئے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے اور اس دستیاب ڈیٹا کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو محدود کرنے پر کام کیا جا سکتا ہے اور ہم یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ کس طرح کی دنیا میں رہنا ہے۔

تحریر: ڈیوڈ روٹ مین (David Rotman)

Read in English

Authors

*

Top