Global Editions

بڑھتا ہوا درجہ حرارت عالمی سطح پر عدم مساوات کی وجہ بنے گا

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا بھر میں معاشی ترقی پر اثرانداز ہوگا جس سے کچھ ممالک زيادہ امیر اور کچھ زیادہ غریب ہو جائیں گے۔

شدید گرمی کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فصلیں صحیح طریقے سے نہیں اگیں گی، لوگ کم کام کریں گے، اور ان کی کارکردگی بری طری متاثر ہوگی۔

اسی وجہ سے انتہائی گرم دنوں کی تعداد میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے زیادہ پریشان کن امکانات میں سے ایک ہے۔ سٹینفورڈ اور کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے مختلف ممالک پر موسمیاتی تبدیلی کے فوائد یا نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے تاریخی ریکارڈوں پر نظر ڈالی ہے، تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ درجہ حرارت معیشت کے مختلف پہلوؤں پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ جب انہوں نے اس ڈیٹا کو مختلف ممالک پر اثرات کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال کیا تو کچھ خاص خوش آئین صورتحال سامنے نہيں آئی۔

اس صدی کے اختتام تک اوسط عالمی آمدنی ماحولیاتی تبدیلی نہ ہونے کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ تاہم اگر عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو پوری دنیا پر مساوی اثرات سامنے نہيں آئيں گے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے کئی شمالی ممالک بشمول روس اور یورپ کے  کافی حصوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ درجہ حرارت کے تاریخی اثرات کا ریکارڈ تیار کرنے والے برکلے کے گولڈ مین سکول آف پبلک پالیسی کے پروفیسر سولومن ہسیانگ (Solomon Hsiang) کہتے ہیں، ” گرمی کے غیر مساوی اثرات عالمی معیشت کی بڑے پیمانے پر ری سٹرکچرنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔“ بلکہ آپ 2050ء تک مختلف ممالک کے متوقع اقتصادی حالات میں فرق دیکھ کر دنگ رہ جائيں گے۔

غریب ممالک میں، جن میں جنوبی امریکہ اور افریقہ میں واقع بیشتر ممالک شامل ہیں، پہلے ہی درجہ حرارت مثالی اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے لیے بہترین درجہ حرارت سے کہیں زيادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سب سے زيادہ اثر انہی ممالک پر ہوگا۔ نیچر نامی جریدے میں حال ہی میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں سولومن ہسیانگ اور ان کے شریک مصنفوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک دنیا کے سب سے غریب 60 فیصد لوگوں کی اوسط آمدنی 70 فی صد کم ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے دنیا کے غریب لوگوں کی دولت امیر لوگوں میں تقسیم ہو جائے گی۔

گرم موسم ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں سے صرف ایک ہے۔ اس کے علاوہ بارش کے پیٹرنز میں تبدیلی اور موسمی آفات، جیسے کہ طوفان، بھی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں شامل ہيں۔ تاہم، سولومن ہسیانگ اور ان کے ساتھیوں نے صرف درجہ حرارت کا تجزیہ کر کے معیشت پر موسمی تبدیلی کے اثرات کا درست تخمینہ لگایا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کا معیشت کے مختلف عناصر پر حیران کن طور پر مستقل اثر سامنے آتا ہے۔ 20 ڈگری سیلسیس اور 30 ڈگری سیلسیس کے درمیان مزدوروں کی فراہمی، پیداوار، اور فصلوں کی پیداوار میں ڈرامائی طور پرکمی سامنے آتی ہے۔ وہ کہتے ہيں، ”چاہے آپ فصلوں کی بات کریں یا لوگوں کی، گرمی سب ہی کے لیے نقصان دہ ہے۔“ وہ مزید بتاتے ہيں، ”دنیا کے امیر ترین اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ممالک میں بھی درجہ حرارت کے اضافے کے منفی اثرات نظر آئيں گے۔“ وہ ایک امریکی کاؤنٹی سے حاصل کردہ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہيں کہ درجہ حرارت کے 30 سنٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی صورت میں فی کس اخراجات میں 20 ڈالر اضافہ ہوگا۔

درجہ حرارت میں اضافے کے زراعت اور ہمارے کام کرنے اور محسوس کرنے کے طریقے پر اثرات پر ماضی میں بھی کافی بات کی جاچکی ہے۔ سولومن ہسیانگ بیسویں صدی کی ابتداء میں فیکٹری کے ملازمین اور فوجیوں کے لیے بہترین درجہ حرارت کے متعلق کئی مطالعہ جات کا حوالہ دیتے ہيں۔ تاہم، ہسیانگ اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق کے ذریعے درجہ حرارت میں تبدیلی سے پورے پورے ممالک کی معاشی پیداوار پر اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔

محققین نے 1960ء اور 2010ء کے درمیان ہر ملک میں سالانہ اقتصادی کارکردگی اور اوسط سالانہ درجہ حرارت کا معائنہ کیا ہے، جس کے بعد انہوں نے اعلی شماریاتی تکنیکنوں کی مدد سے پالیسی کی تبدیلی اور مالی دورانیہ جیسے متغیرات الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجزیہ اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کیونکہ اب نہ صرف زیادہ تاریخی ڈیٹا دستیاب ہے بلکہ اسے پراسیس کرنے کے لیے کمپیوٹیشنل صلاحیت میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس کے بعد مستقبل کے درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والے آب و ہوا کے ماڈلز استعمال کرتے ہوئے محققین اس صدی کے باقی حصوں میں اقتصادی ترقی کا اندازہ لگانے میں کامیاب  ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ، ہسیانگ نے درجہ حرارت میں اضافے کے سماجی رویوں اور صحت پر اثرات پر بھی نظر ڈالی ہے، جس کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ زیادہ گرمی تشدد اور اموات کی شرح میں اضافے کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے درجہ حرارت کے سماجی اثرات کے جنون کی ابتداء فزیکل سائنس میں ان کی تربیت سے ہوئی تھی۔ درجہ حرارت کا کیمیا اور طبیعیات میں تو بہت اہم اور واضح کردار ہے، لیکن معاشرے اور انسانی رویوں پر اس کے اثرات کو کم دیکھا گيا ہے۔ تاہم، ہسیانگ کے مطابق، ان کے حالیہ کام کے ذریعے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ موسم ہماری معیشیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہسیانگ امید کرتے ہيں کہ وہ درجہ حرارت میں اضافے کی آئیندہ خوشحالی پر اثرات کے متعلق بہتر سمجھ بوجھ فراہم کرنے میں کامیاب رہيں گے۔

Read in English

Authors

*

Top