Global Editions

نئی بیٹریوں پر کام جاری جس سے برقی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے

نام: وینکٹ وشوناتھن (Venkat Viswanathan)

عمر: 34 سال

ادارہ: کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University)

جائے پیدائش: بھارت

وینکٹ وشوناتھن کارنیگی میلن یونیورسٹی میں ایسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں اور انہوں نے خالص لیتھیم سے بنے بیٹری کے اینوڈز پر بہت کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایسی بیٹریاں سامنے آسکتی ہيں جن سے وزن بڑھائے بغیر زیادہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سے برقی گاڑیوں اور کاربن کے اخراجات کم کرنے والے ہوائی جہازوں کی قیمت میں قابل قدر کمی ممکن ہے۔

ریسرچرز کو یہ بات کافی عرصے سے معلوم ہے کہ گریفائٹ کے مقابلے میں لیتھیم سے بنے اینوڈز والی بیٹریوں کی کارکردگی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ لیکن لیتھیم کی بیٹریوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں لیتھیم آئنز پیدا ہونے کے باعث “ڈینڈرائٹس” (dendrites) بننا شروع ہوجاتے ہيں، جس سے بیٹری کی عمر کم ہوتی ہے اور آگ لگنے کا بھی خطرہ ہے۔ وشوناتھن نے اس مسئلے کے حل کے لیے الیکٹروڈز کے درمیان ہائبرڈ پولیمر سیرامک (hybrid polymer-ceramic) سے بنا سیپریٹر (separator) تیار کیا ہے، جس سے ڈينڈرائٹس بننے کی روک تھام ہوتی ہے، لیکن برقی کرنٹ پیدا کرنے والے آئنز کا بہاؤ متاثر نہيں ہوتا۔

وشوناتھن اور ان کی ٹیم محکمہ توانائی کے ARPA-E پروگرام سے 40 لاکھ سے زيادہ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے بعد انہوں نے تجارتی لیتھیم بیٹریوں کی تخلیق اور ٹیسٹنگ کے لیے بیٹری بنانے والی کمپنی 24M ٹیکنالوجیز کے ساتھ شراکت اختیار کی۔

وشوناتھن نے شہروں میں سہولیات فراہم کرنے والی ہوائی ٹیکسیز اور ایمبولینسز کے لیے بیٹری کے ڈیزائنز تیار کرنے کے سلسلے میں ارورا فلائٹ سائنسز (Aurora Flight Sciences) اور ایئربس A3 کے ساتھ بھی کام کررہے ہيں۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top