Global Editions

اب روبوٹس کو پروگرام کرکے انفیکشنز کا علاج کیا جاسکتا ہے

نام: جنشنگ لی (Jinxing Li)
عمر: 32 سال
ادارہ: سٹین فورڈ یونیورسٹی
جائے پیدائش: چین

جنشنگ لی نے ایسے روبوٹس کے استعمال کی بنیاد رکھی ہے جن کا سائز تو صرف چند مائیکرومیٹرز ہے، لیکن وہ کسی بھی زندہ جانور میں بیماری کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔

لی نے راکٹ کی شکل کے مائیکروموٹرز تیار کیے ہیں جو کسی بھی زندہ جانور کے معدے میں پیدا ہونے والے سیالوں کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں اور اپنا کام مکمل کرنے کے بعد خودبخود تباہ ہوجاتے ہيں۔

ان روبوٹس کو میگنیشیم کے گولوں پر پولیمرز چڑھا کر بنایا گیا ہے جو پیٹ میں موجود تیزاب سے ری ایکٹ کرکے ہائیڈروجن کے بلبلے پیدا کرتا ہے جس سے انہيں معدے میں حرکت کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لی اور ان کے ساتھیوں نے پولیمر کی ایک تہہ میں اینٹی بائیوٹکس شامل کرنے کے بعد ان روبوٹس کو پیٹ کے انفیکشنز کے شکار چوہوں میں متعارف کیا۔ پیٹ میں داخل ہونے کے بعد یہ روبوٹس پیٹ کی لائننگ سے چپک گئے اور آہستہ آہستہ پیٹ میں اینٹی بائیوٹکس خارج کرتے رہے جس سے آخرکار انفیکشن کا علاج ممکن ہوا۔

لی نے حال ہی میں ثابت کیا ہے کہ مقناطیسی قوت سے چلنے والے نینوموٹرز جن پر پلیٹ لیٹ سیلز کی جھلیاں چڑھائی گئی ہوتی ہیں، دیگر بیرونی ذرات کے برعکس خون میں مدافعتی نظام سے خارج نہیں ہوپاتیں اوربائیومالیکیولز میں الجھے بغیر زہریلے مواد اور پیتھوجنز صاف کرسکتے ہيں۔

لی کے مطابق وہ اگلے مرحلے میں بیکٹیریا یا کینسر سیلز تباہ کرنے والے مدافعتی سیلز کی مدد سے ایسے سائبورگ سیلز تیار کریں گے جنہيں نینوبوٹس کی مدد سے متاثرہ مقام پر بھیجا جاسکے۔

تحریر: ایڈ جینٹ (Edd Gent)

Read in English

Authors

*

Top