Global Editions

ڈی سیلینیشن پلانٹس کی خامیاں دور کرنے کے لیے ایک نیا سسٹم سامنے آگیا ہے

نام: ڈیوڈ وارسنگر (David Warsinger)

عمر: 32 سال

ادارہ: پرڈیو یونیورسٹی

جائے پیدائش: امریکہ

ڈیوڈ وارسنگر کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کی مدد سے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے ماحولیاتی چیلنج، یعنی پانی کی قلت، کا حل ممکن ہے۔

اس وقت دنیا کی تقریباً پانچ فیصد آبادی اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے سمندر یا نمکین پانی کے دیگر ذرائع سے حاصل کردہ ڈی سیلینیٹڈ پانی پر انحصار کرتی ہے۔ جیسے جیسے آلودگی، زيادہ استعمال، اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث زمینی ذرائع پر بوجھ بڑھے گا، اس شرح میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت 3.6 ارب کے قریب افراد ایسے علاقوں رہتے ہيں جو سال میں کم از کم ایک دفعہ پانی کی قلت کا شکار رہتے ہیں، اور 2050ء تک یہ تعداد پانچ ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ وارسنگر کہتے ہیں کہ ”دنیا بھر کے پانی کے ذرائع ختم ہورہے ہیں۔ “

تاہم ڈی سیلینیشن میں کئی خامیاں ہیں۔ اس میں ریورس آسموسس (reverse osmosis) نامی تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں زیر دباؤ پانی میں موجود نمکیات ختم کرنے کے لیے اسے ایک جھلی سے گزارا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس میں توانائی کا بھی بہت زيادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں وافر مقدار میں نمکین پانی رہ جاتا ہے، جو ایسے پلانٹس کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتا ہے جو ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں صاف پانی کی قلت ہے۔

وارسنگر نے ایم آئی ٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایملی ٹو (Emily Tow) کے ساتھ مل کر بیچ ریورس آسموسس (batch reverse osmosis) نامی تکنیک کی مدد سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ عام طور پر پانی کے دباؤ اور اس میں موجود نمکیات کا تناسب ایک جیسا نہيں رہتا، لیکن اس کے باوجود روایتی  پلانٹس ہر قسم کے پانی کے لیے ایک جیسا ہی دباؤ استعمال کرتے ہيں۔ تاہم وارسنگر اور ٹو کے سسٹم میں سارے پانی کی ڈی سیلینیشن ایک ساتھ نہيں ہوتی، بلکہ تھوڑی تھوڑی کرکے ہوتی ہے تاکہ نمکیات کے تناسب کے لحاظ سے دباؤ میں ردوبدل کیا جاسکے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ جھلیوں پر نمکیات کی تہہ جمنے کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے، جس سے صاف پانی کے حصول کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

وارسنگر اس وقت پرڈيو یونیورسٹی میں میکانیکی انجنیئرنگ کے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہيں اور اس سسٹم کے ڈیزائن کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی ٹیم نے ایک ٹریلر کے سائز کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جسے وہ پیرو اور کینیا میں واقع پلانٹس پر آزمانا چاہتی ہے۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

Read in English

Authors

*

Top