Global Editions

اب مائکروچپس کو موڑ توڑ کر کچھ بھی بنایا جاسکے گا

نام: سیہونگ وینگ (Sihong Wang)

عمر: 33 سال

ادارہ: یونیورسٹی آف شیکاگو

جائے پیدائش: چین

مائکروچپس کو عام طور پر سخت سیلیکون کرسٹلز کی مدد سے بنایا جاتا ہے، اور جب ان چپس کو موڑنے یا کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ ٹوٹ جاتے ہيں اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے سرکٹس موجود ہیں جو آسانی سے نہیں ٹوٹتے، لیکن وہ اکثر و بیشتر ناقص کارکردگی کا شکار رہتے ہيں۔ تاہم سیہونگ وینگ کا ایجاد کردہ تکنیکس کی بدولت ایسے سرکٹس تیار کیے جاسکتے ہیں جنہيں کارکردگی میں سمجھوتہ کیے بغیر کھینچنا اور موڑنا ممکن ہے۔

وینگ نے ماضی میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں اس شعبے کی بنیاد رکھنے والے زہینن باؤ (Zhenan Bao) کے ساتھ کام کیا ہے اور اب اس کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نینوکنفائنمنٹ (nanoconfinement) نامی تکنیک کی مدد سے نہایت چھوٹے پیمانے پر تہہ دار پولیمر سرکٹس تیار کیے ہیں جن کی کارکردگی متاثر کیے بغیر لمبائی کو دگنا کیا جاسکتا ہے۔

وینگ کہتے ہيں کہ ربڑ کی طرح کے ان پولیمر سے متعدد اقسام کے آلات ممکن ہيں جو کسی بھی روایتی مشین کی طرح کام کرسکتے ہيں اور جنہيں کسی بھی شکل میں موڑا جاسکتا ہے، جلد پر پیچ کے طور پر لگایا جاسکتا ہے، یا جسم میں بھی داخل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چپس کو توانائی کس طرح سے فراہم کی جائے گی؟ وینگ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بیرونی بیٹریوں کے بجائے ”نینوجنریٹر “ (nanogenerator) نامی آلے سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ لیکن کیا اس قسم کے آلات کو جسم میں ڈالا جاسکتا ہے؟ وینگ اب اسی سوال کے جواب کی تلاش میں نکلنے والے ہیں۔

تحریر: بابی جانسن (Bobbie Johnson)

Read in English

Authors

*

Top