Global Editions

ان کی تحقیق دماغ کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتی ہے

نام: گوسونگ ہونگ (Guosong Hong)

عمر:  33 سال

ادارہ:  سٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University)

جائے پیدائش: چائنہ

گوسونگ ہونگ نے دماغ اور ریٹینا(Retina) کے انفرادی نیورونز  کی تحقیق کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا ہے ۔ یہ جالے کی طرح کا ایک الیکٹروڈ(Electrode) ہے جو اس قدر چھوٹا اور لچکدار ہے کہ اسے سوئی کے گرد لپیٹا جا سکتا ہے اور دماغ کے اس مخصوص  حصے میں داخل کیا جاسکتا ہے جس پر سائنسدان تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ برین الیکٹروڈز پہلے بھی دماغ کی کئی بیماریوں جیسے کہ پارکنسن (Parkinson’s Disease) کا علاج کرنے میں استعمال ہو رہے ہیں، لیکن اس وقت انہیں صرف پیچیدہ سرجری کے ذریعے ہی دماغ میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، الیکٹروڈ داخل کرنے کے کچھ ہی ہفتوں بعد،  زخم کے ٹشو بننا شروع ہو جاتے ہیں جس سے ان  کا اثر بھی کم ہوتا جاتا ہے۔

ہونگ کے بنائے گئے الیکٹروڈ مدافعتی نظام کو نقصان پہنچائے بغیر اور بغیر کسی رکاوٹ کے نیورل ٹشو (Neural Tissues)کے ساتھ ملائے جاسکتے ہیں۔ محققین اس کی مدد سے جانوروں  کی نیورنل سرگرمیاں ایک سال تک محفوظ اور پائیدار طریقے سے ریکارڈ کر سکتے ہیں۔

اس ٹول کو کئی شعبہ جات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔  مثال کے طور پر، سائنسدان اس کی مدد سے پیچیدہ اعصابی عوامل جیسے دماغ کے بوڑھا ہونے کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی مدد سے الزائمر اور مرگی جیسی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے اور فالج زدہ  افراد کے اعضاء کو بھی بحال کیا جاسکتا ہے۔  اس کے علاوہ، اگر اسے آنکھ میں ڈالا جائے تو اس سے  گلاکوما (Glaucoma) جیسی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہوگا۔

ہونگ اس جال کی مدد سے دماغ اور کمپیوٹر کو جوڑنے یا پھر ایک دماغ سے براہ راست دوسرے دماغ تک مواصلات  کا خواب دیکھتے ہیں۔  ان کا خیال ہے کہ یہ جال ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف لے جائے گا جس میں “ہر کوئی  بنا کسی رکاوٹ کے آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکے گا۔”

تحریر: یتنگ سن (Yiting Sun)

مترجم: سہیندر لعل

Read in English

Authors

*

Top