Global Editions

اب 300 ادویات کی ایک ساتھ ٹیسٹنگ ممکن ہوگی

نام: جیمز ڈیہل مین (James Dahlman)
عمر: 31 سال
ادارہ: جارجیا ٹیک

فارما کی صنعت کئی دہائیوں سے کینسر کا علاج تلاش کرنے کے لیے ٹیومر کے سیلز کو ایک ڈش میں ڈال کر دوا کے نفوذ کے لیے استعمال ہونے والے نینوذرات کو ایک ایک کرکے ٹیسٹ کررہی ہے۔ اس کے بعد ریسرچرز ان ذرات کو کسی زندہ جسم میں متعارف کرتے ہیں اور دعائيں مانگتے رہتے ہيں کہ وہ صرف ان جگہوں پر جائيں جہاں ان کی ضرورت ہے۔

جارجیا ٹیک کے ایک لیب میں کام کرنے والے جیمز ڈیہل مین کہتے ہیں "مسئلہ یہ ہے کہ ادویات کے نفوذ کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار کو غلط طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔"

ڈیہل مین نے ایک انقلابی طریقہ ایجاد کیا ہے جس کے ذریعے ہر نینوذرے کی ایک ڈی این اے کی ترتیب سے اینکوڈنگ کی گئی ہے، جسے انہوں نے بار کوڈ کا نام دیا ہے۔ لیباریٹری میں ایک چوہے میں بیک وقت تین سو نینوذرات داخل کیے جاسکتے ہیں اور جب اس ٹیومر کو نکالا جائے گا، تو ریسرچرز جین سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان تمام بار کوڈز کی کارکردگی کی بیک وقت پیمائش کرسکیں گے۔ ڈیہل مین تعداد میں اضافہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ وہ اپنے پورے پی ایچ ڈی کے دوران صرف 30 ذرات کی ٹیسٹنگ کرپائے، لیکن 2018ء میں ان کا لیب تین ہزار ذرات ٹیسٹ کرے گا۔ وہ امید کرتے ہيں کہ ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے جسم کے کسی ایک حصے میں موجود ٹیومر کے علاج کے لیے بنائی گئی ایک دوا دوسرے حصوں کو متاثر کرنے کے بجائے صرف اسی حصے پر کام کرنے میں کامیاب رہے گی۔

تحریر: ڈین سولومن (Dan Solomon)

Read in English

Authors
Top