Global Editions

اعلیٰ درجہ حرارت کے سپر کنڈکٹر جو فیوژن ری ایکٹربنانے کے اخراجات میں کمی لاسکتے ہيں

نام: برینڈن سوربوم (Brandon Sorbom)

عمر: 32 سال

ادارہ: کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز (Commonwealth Fusion Systems)

جائے پیدائش: امریکہ

برینڈن سوربوم نے ایک ایسے بنیادی مسئلے کا حل ڈھونڈا ہے جس کی وجہ سے فیوژن ری ایکٹر کو بنانا بہت مہنگا پڑتا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ درجہ حرارت کے سپر کنڈکٹر کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا الیکٹرومیگنیٹک سسٹم بنایا ہے جو فیوژن کے عمل کے کچھ حصوں کو علیحدہ کرتا ہے جس سے ان کی لاگت میں قابل قدر کمی ممکن ہوگئی ہے۔

گرڈ تک توانائی پہنچانے والا فیوژن ری ایکٹر بنانے میں ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ لیکن اس کو بنانے سے بہت فائدہ ہوگا کیونکہ فیوژن سے لا محدود زیرو کاربن (zero-carbon) توانائی، کم تابکاری اور کم حفاظتی خطرات ممکن ہوسکيں گے۔جس مسئلے نے سائنسدانوں کو کئی دہائیوں سے الجھایا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ فیوژن کے لیے ضروری ایک کروڑ ملین ڈگری کے درجہ حرارت کس طرح سے برقرار رکھا جائے اور اس کو ایسے سستے طریقے سے  بنایا جائے کہ منافع بخش توانائی حاصل ہو۔ طاقتور مقناطیس یہ کام ری ایکٹر کے کلیدی حصے میں موجود ایندھن کو ڈھانپ کر کر سکتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ قبل تک دنیا کے بہترین برقی مقناطیس یا الیکٹرومیگنٹز بھی اس کام کے لئے ناکافی تھے۔

سوربوم اور ان کی ٹیم نے یٹریم بیریم کاپر آکسائیڈ (yttrium barium copper oxide) نامی سپر کنڈکٹر سے ایک بہتر مقناطیس تیار کیا ہے۔ پہلے ایم آئی ٹی میں ایک طالب علم کی حیثیت سے اور اب کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز (Commonwealth Fusion Systems) نامی کاروبار میں مرکزی سائنسدان کے طور پر، سوربوم نے اس مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کے نمونے کے حصے کے طور پر استعمال کیا جو پہلے ممکن سمجھے جانے والوں کی نسبت سو گنا چھوٹا ہے۔  یہ ری ایکٹر دراصل اتنا چھوٹا ہے کہ کامن ویلتھ فیوژن اگلے دس سالوں میں اپنا پہلا کارآمد نمونہ بنا کر پیش کرنے والی ہے۔

تحریر: رس جوسکالیان (Russ Juskalian)

مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top