Global Editions

کوانٹم کمپیوٹنگ کی غلطیاں کس طرح کم کی جاسکتی ہيں؟

 نام: زلیٹکو مینیو (Zlatko Minev)

عمر: 30 سال

ادارہ: آئی بی ایم کوانٹم ریسرچ (IBM Quantum Research)، ٹی جے واٹسن (TJ Watson)

جائے پیدائش: بلغاریہ

زلیٹکو مینیو نے کوانٹم فزکس کا ایک ایسا اصول دریافت کیا ہے جس نے نیلز بوہر (Niels Bohr) اور البرٹ آئینسٹائن (Albert Einstein) جیسے ماضی کے بڑے سائنسدانوں کو بھی پریشان کر رکھا تھا۔ ہم اب تک یہی سمجھتے آرہے تھے کہ ایٹمز میں موجود توانائی کی مقدار کی تبدیلی ایک غیرمسلسل انداز سے ہوتی ہے، جس کی پیشگوئی کرنا ناممکن ہے۔ تاہم مینیو نے ثابت کیا ہے کہ ہمارا یہ مفروضہ سراسر غلط تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ”ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ کوانٹم فزکس غیرمسلسل اور ناقابل پیشگوئی ہے، لیکن یہ بات بالکل بھی درست نہيں ہے۔ “

ان کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جب کسی ایٹم پر روشنی کی شکل میں توانائی ڈالی جاتی ہے تو اس کی توانائی میں اضافہ غیرمسلسل طریقے کے بجائے مسلسل اور ہموار طریقے سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، منیو نے اس توانائی کے اضافے کی نشاندہی اتنی جلدی کرلی کہ اس اضافے کے دوران ایٹمز کی حرکت کو بیچ میں ہی روک دینا ممکن ہوگیا۔

وہ کہتے ہيں کہ ”میں نے اس پراجیکٹ کے لیے جو مانیٹرنگ ممکن بنائی ہے، اس کی مدد سے ہم ایٹمز کی حرکت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔ “

مینیو کے کام سے کوانٹم کمپیوٹنگ میں انقلاب آسکتا ہے۔ اس قسم کے سسٹمز میں موجود ذیلی ایٹمی ذرات کی توانائی میں جب مینیو کے ایٹمز کی طرح تبدیلی آتی ہے تو اکثر کوانٹم کمپیوٹرز سے غلطیاں سرزد ہوجاتی ہيں۔ اگر اس توانائی میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی حرکت کی نشاندہی کرکے اس کی روک تھام ممکن ہو جائے تو کوانٹم کمپیوٹرز کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا اور وہ بہتر طور پر اپنے سارے کام کرسکیں گے۔

تحریر: رس جسکیلیئن (Russ Juskalian)

تصویر: رابرٹ جونز (Robert Jones)

Read in English

Authors

*

Top