Global Editions

اب کم آمدنی والے ممالک میں رہائش پذیر افراد کے لیے مصنوعی بازو اور ٹانگیں دستیاب ہوسکتے ہيں

نام: محمد ضاؤآفی (Mohamed Dhaouafi)

عمر: 28 سال

ادارہ: کیور بائیونکس (Cure Bionics)

جائے پیدائش: تیونس

چار سال پہلے یونیورسٹی کے ایک مقابلے کے دوران، محمد ضاؤآفی کو معلوم ہوا کہ ان کی ٹیم کے ایک رکن کا کزن بغیر بازوؤں کے پیدا ہوا تھا، اور اس کے گھر والے مصنوعی بازو لگوانے کی سکت نہيں رکھتے تھے۔ ضاؤآفی اس وقت انجنیئرنگ پڑھ رہے تھے، اور وہ ایک ایسے پراجیکٹ کی تلاش میں تھے جس سے دنیا بدلی جاسکتی تھی۔ انہوں نے اس مسئلے پر ریسرچ کرنا شروع کی جس کے نتیجے میں انہيں معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں کئی افراد اس سہولت سے محروم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق غریب ممالک میں تین کروڑ افراد ٹانگوں اور بازوؤں سے محروم ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ فیصد افراد کو پراستھیٹکس (prosthetics) تک رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، چھوٹے بچوں کی بڑھتی ہوئی جسامت کے باعث انہیں پراستھیٹکس لگانا اور بھی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ ان پراستھیٹکس کے بغیر یہ بچے اکثر شرمندگی کے باعث سکول نہيں جاتے، جس کی وجہ سے وہ آگے چل کر مسلسل بے روزگاری اور غربت کا شکار رہتے ہيں۔ ضاؤآفی کہتے ہيں کہ ”یہ صرف ہاتھوں اور پیروں کا سوال نہيں ہے، بلکہ غربت اور تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کا سوال ہے۔ “

ضاؤآفی نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جس سے ان کے مطابق مصنوعی بازؤں اور ٹانگوں کی قیمت میں کمی ممکن ہے۔ انہوں نے تیونس میں کیور بائیونکس نامی سٹارٹ اپ کمپنی قائم کی ہے جو ایک بائیونک بازو پر کام کررہی ہے جس کی قیمت صرف دو ہزار ڈالر ہوگی۔ اس کے برعکس اس وقت مارکیٹ میں دستیاب پراستھیٹکس کی قیمت اس سے کہیں زيادہ ہے۔ کیور بائیونکس ان مصنوعی بازوؤں کی قیمت کم رکھنے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے فائدہ اٹھائے گی اور ان کے سرکٹس آؤٹ سورس کرنے کے بجائے خود بنائے گی۔

اس کا یہ مطلب نہيں ہے کہ ضاؤآفی کی ٹیم کے بنائے گئے مصنوعی بازو غیرمعیاری ہوں گے۔ کیور کے پروٹوٹائپس میں ایسے سینسرز نصب ہیں جن کی بدولت صارفین اپنے بچے کچے پٹھوں کی مدد سے اس مصنوعی بازو سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہيں۔ یہ کمپنی ایسے الگارتھمز بھی تیار کررہی ہے جو زيادہ درستی کے ساتھ اس مصنوعی بازو کو جسم کے برقی سگنلز کی تشریح کرنے میں مدد فراہم کریں گے، جس سے صارفین کو ردوبدل کروانے کے لیے بار بار ڈآکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہيں پیش آئے گی۔ کیور آگے چل کر ایک ورچول ریئلٹی ہیڈسیٹ بھی متعارف کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں جس سے چھوٹے بچوں کی فزیکل تھراپی میں دلچسپی بڑھے گی۔ ضاؤآفی کہتے ہیں کہ ”بجائے اس کے کہ آپ فرض کریں کہ آپ کوئی چیز اٹھا رہے ہيں، آپ سپائڈر مین کی طرح چھلانگیں لگائيں گے۔ “

ضاؤآفی اور ان کی ٹیم اب اپنے اس مصنوعی بازو کو جلد ہی متعارف کرنے والے ہیں۔ انہوں نے اس کی پانچ نوجوانوں پر ٹیسٹنگ کی ہے اور وہ جلد ہی تین سرکاری ہسپتالوں میں ٹرائلز شروع کرنے والے ہيں۔ ضاؤآفی امید کرتے ہيں کہ ایک دن افریقہ، مشرق وسطی اور آخرکار پوری دنیا ان کے اعلیٰ معیار اور کم قیمت پراستھیٹکس سے مستفید ہوسکے گی۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

تصویر: اوباما فاؤنڈیشن (Obama Foundation)

Read in English

Authors

*

Top