Global Editions

حیاتیاتی اجزا سے بنا یہ پلاسٹک پانی میں گھل جاتا ہے

نام: اویناش منجولا باساوانا (Avinash Manjula Basavanna)

عمر: 33  سال

ادارہ: وس انسٹی ٹیوٹ (Wyss Institute)، ہارورڈ یونیورسٹی

جائے پیدائش: بھارت

پوری انسانی تاریخ میں 9.1 ارب ٹن پلاسٹک بنایا جاچکا ہے، لیکن اس میں سے صرف نو فیصد پلاسٹک کو دوبارہ استعمال میں لایا گیا ہے۔ 80 فیصد پلاسٹک یا تو کچرا کونڈیوں میں پڑا رہ جاتا ہے یا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ بنتا ہے، اور اسے عام طور پر گلنے سڑنے میں کئی ہزار سال لگ جاتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ ہماری غذا میں شامل ہو کر ہمارے جسم میں بھی داخل ہوجاتا ہے اور ہماری صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ بائیوپلاسٹکس کی مدد سے ان مسائل کا حل ممکن ہے۔ ان پلاسٹکس کو بائیوانجنیئرڈ آرگینازمز کی مدد سے بنایا جاتا ہے اور ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر بہت کم عرصے میں گل سکتی ہيں۔

بائیوپلاسٹکس پر کافی عرصہ پہلے کام شروع ہوچکا تھا، لیکن اب تک انہيں وسیع پیمانے پر بنانا ممکن نہیں تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے وس انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکلی انسپائرڈ انجنیئرنگ (Wyss Institute for Biologically Inspired Engineering) کے ایک پوسٹ ڈاکٹریٹ، اویناش منجولا باساوانا نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ حیاتیاتی مواد استعمال کرتے ہوئے ایکواپلاسٹک (AquaPlastic) نامی ایک نئے قسم کا پلاسٹک تیار کیا ہے۔ یہ پلاسٹک صنعتی پیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہے اور یہ پیٹرولیم استعمال کرنے والے پلاسٹکس کی طرح پائیدار بھی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دو مہینوں کے اندر پانی میں مکمل طور پر گل جاتا ہے۔

ایکوپلاسٹک تیزابی اور دیگر کیمیائی مواد کے خلاف مزاحمت بھی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دنیا کا پہلا پلاسٹک ہے جسے صرف پانی استعمال کرتے ہوئے گوند کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ اگر اس پر خراش لگ جائے تو صرف پانی لگا کر اس کی مرمت بھی کی جاسکتی ہے۔ منجولا باساوانا مزيد بتاتے ہيں کہ ”آپ اسے باآسانی باتھروم میں فلش بھی کرسکتے ہيں۔ یہ پلاسٹک کی آلودگی کی وجہ نہيں بنے گا۔“ وہ اس وقت اپنی ٹیم کے ساتھ ایکوپلاسٹک کو تجارتی شکل دینے کے لیے سٹارٹ اپ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائيں تو یہ کم قیمت مادہ بہت جلد عام پلاسٹک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

Read in English

Authors

*

Top