Global Editions

گندے پانی کی صفائی اور ازالہ نمک کو مؤثر بنانے کے طریقے

نام: انوراگ باجپائی (Anurag Bajpayee)
عمر: 34 سال
ادارہ: گریڈیینٹ (Gradient)
جائے پیدائش: بھارت 

انوراگ باجپائی نے دنیا کے سب سے آلودہ پانی کو صاف کرنے کے لیے ون اسٹاپ شاپ (one-stop shop) بنائی ہے۔ اور صرف چھ سال کے اندر ہی ان کی بوسٹن میں واقع کمپنی گریڈیینٹ کے 200 سے  زائد ملازم ہوچکے ہیں اور یہ دنیا بھر میں واقع 20 ٹریٹمنٹ پلانٹس (treatment plants) چلا رہی ہے۔

باجپائی نے گریڈئینٹ اپنے لیب کے ساتھی پرکاش گوندن کے ساتھ مل کر شروع کی جو ان کی طرح ازالہ نمک کے طریقوں پر کام کر رہے تھے۔ تیل اور گیس کی صنعتیں شیل بوم (shale boom) کے عروج پر تھیں جس کی بہت بڑی وجہ فراکنگ (fracking) میں پیش قدمی تھی جس میں پتھروں کو زیردباؤ سیالوں کے ذریعے توڑا جاتا ہے تاکہ اس میں پھنسے تیل اور گیس کو نکالا جاسکے۔ انہوں نے بہت جلد ایسے گاہک ڈھونڈ لیے جو گوندن کی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے لیے تیار تھے جو اس عمل کے دوران آلودہ ہونے والے سیالوں میں سے پانی کو الگ کرتی ہے جس سے پانی کی ضروریات اور گہرے ڈسپوزل کے  (disposal) کنوؤں میں جمع ہونے والے زہریلے نمکیات کی ضروریات کم ہوتی ہیں۔

باجپائی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے انہوں نے ایک وسیع پیٹنٹ پورٹفولیو (portfolio) بنایا ہے اور دو مزید ٹیکنالوجیز کو تجارتی درجہ دے دیا ہے، ایک وہ جو صنعتوں کے گندے پانی میں سے مخصوص آلودگی کو مؤثر طریقے سے کھینچے تاکہ اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکے اور دوسری وہ جو پانی میں سے بغیر کسی بلیچ جیسے کیمیکل کے آسانی سے جراثیم دور کر سکے۔ اس سال گریڈیینٹ اپنے پہلے تجارتی نظام کا آغاز کر دے گا جس میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا جسے کھارے پانی کے ازالہ نمک کرنے والے پلانٹس میں نصب کیا جا سکتا ہے تاکہ میٹھے پانی کی 80 فیصد تک بحالی بڑھ سکے۔

ایم آئی ٹی میں ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کی حیثیت سے انہوں نے جھلی سے پاک ازالہ نمک کا طریقہ کار ایجاد کیا جس کو سائنٹیفک امیریکن (Scientific American) نے اپنے سالانہ دس بہترین دنیا بدلنے والے خیالات میں شمار کیا۔ لیکن باجپائی سمجھتے ہیں کہ اسے منافع بخش ہونے میں بہت وقت لگے گا اور اس ایک خیال کی بنیاد پر کھڑے کاروبار کے ناکام ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس کی بجائے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بہت سی مختلف ٹیکنالوجیز بنائیں اور جمع کریں گے تاکہ ان کی ان کا ادارہ پانی میں آلودگی کے کسی بھی مسئلے سے نمٹ سکے۔

تحریر: ایڈ گینٹ (Edd Gent)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors
Top