Global Editions

جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے گھر پر استعمال ہونے والے کرونا وائرس کے ٹیسٹس کی تلاش جاری

نام: عمر ابوداییح (Omar Abudayyeh)

عمر: 30 سال

ادارہ: ایم آئی ٹی

جائے پیدائش: امریکہ

کرسپر ٹیکنالوجی (CRISPR) کی مدد سے بائیومیڈيکل اور جینیاتی امراض میں انقلاب لانا ممکن ہے، جس کی وجہ سے اسے اس صدی کی سب سے اہم ایجاد تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر عمر ابوداییح کی کوششیں کامیاب ہوجائيں تو جین ایڈیٹنگ کی یہ ٹیکنالوجی ایک ایسے تشخیصی ٹیسٹ کی شکل اختیار کرسکتی ہے جس سے covid-19 کی وبا پر قابو پانا ممکن ہوگا۔

2016ء میں ابوداییح، جوناتھن گوٹنبرگ (Jonathan Gootenberg) اور ایم آئی ٹی کے دوسرے ساتھی جین ایڈیٹنگ کی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر کی وجہ بننے والی جین کی تبدیلیوں، بیکٹیریا اور زیکا جیسے وائرسز کی نشاندہی میں کامیاب ہوئے۔ جلد ہی شرلوک بائیوسائنسز (Sherlock Biosciences) نامی کمپنی سامنے آگئی، جو 4.9 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، اور اخباروں میں کرسپر کے ”نئے کارناموں“ کے چرچے ہونے لگے۔

اس کے کچھ عرصے بعد ہی covid-19 کی وبا پھیلنا شروع ہوئی۔ امریکہ میں اس وائرس کے پیتھوجنز کی نشاندہی کرنے والے جینیٹک ٹیسٹس کافی نہيں تھے اور پی سی آر ٹیکنالوجی پر انحصار کیا جانے لگا، جو آخرکار جواب دینے لگی۔ وبا شروع ہونے کے تین مہینے بعد مئی تک صرف دو فیصد امریکی شہریوں کی covid-19 کی ٹیسٹنگ ہو سکی۔ بعض ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت کی بحالی کے لیے اتنے ٹیسٹس ایک دن میں کروانا ضروری ہے۔

اسی لیے، ابوداییح اور ان کے ساتھی جنوری سے کرسپر کی مدد سے کرونا وائرس کے ایسے ٹیسٹس بنانے کی کوشش کررہے ہيں جنہيں گھر پر بھی استعمال کیا جاسکے۔ ان کا خیال ہے کہ بنیادی کیمیائی اصول اتنے غیرپیچیدہ ہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائيں گے۔

اگر ان کی کوششیں رنگ لے آئيں تو نہ صرف کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ عام ہوجائے گی بلکہ جین ایڈیٹنگ کا انقلاب لوگوں کی روزمرہ زندگیوں کا اہم حصہ بھی بن جائے گا۔

یہ ٹیسٹ کس طرح کام کرتا ہے؟

کرسپر کے انقلاب کی بنیاد 2000ء کی دہائی میں اس وقت رکھی گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ کچھ بیکٹیریا میں بیماری کی وجہ بننے والے وائرسز کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہے۔ بیکٹیریا کی اس نئی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی کا نام  کرپسر پڑ گیا۔ اس میں ڈی این اے حروف کے منفرد سلسلہ جات کی نشاندہی کرکے انہيں Cas9 نامی کاٹنے والے اینزائم سے توڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سائنسدانوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ یہ ٹول نہ صرف بہت آسان استعمال ہے بلکہ اسے کئی زندہ آرگانزمز میں استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح انسانوں میں جینیاتی امراض کے علاج میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی دوڑ شروع ہوگئی۔ چین میں جین ایڈیٹنگ کی مدد سے تخلیق کردہ جڑواں بچے بھی پیدا کروائے گئے۔

”Cas9 کی اس دوڑ“ کے دوران ابوداییح تحقیق کے ایک ایسے شعبے میں چلے گی جسے زیادہ اجاگر نہيں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے نئے کرسپر اینزائمز کے انکشاف اور زمرہ بندی کی کوشش شروع کردی۔

جلد ہی اینزائمز کی فہرست میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور ابوداییح اور ان کے ساتھی ان نئے ایڈیٹرز کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں لگ گئے۔ ان کے ڈھونڈے گئے اینزائمز میں Cpf1 (جسے Cas12a بھی کہا جاتا ہے) اور Cas12b شامل تھے۔ لیکن ان کا ایک اینزائم، Cas13، بہت خاص نکلا۔ اس میں ڈی این اے کو کاٹنے کے بجائے سیلز میں موجود پیغامات پہنچانے والے جینیاتی مالیکیول آر این اے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت تھی۔ یہ وہی آر این اے ہے جو کرونا وائرس سمیت متعدد وائرسز کا بنیادی جینیاتی عنصر ہے۔

ایڈیٹنگ کی یہ نئی تکنیک کسی انقلاب سے کم نہيں تھی۔ اس دوران ابوداییح اور ان کے ساتھ جین ایڈيٹر جاناتھن گوٹنبرگ کی شراکت جاری رہی۔ ان دونوں کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ایم آئی ٹی میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کررہے تھے۔ اس کے بعد دونوں نے مل کو براڈ انسٹی ٹیوٹ (Broad Institute) میں کرسپر کی بنیاد رکھنے والے سائنسدان فینگ زہینگ (Feng Zhang) (جو 2013ء میں ہماری 35 انوویٹرز کی فہرست میں بھی شامل تھے) کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے مل کر 28 پیپرز بھی شائع کیے اور 2017ء میں ایم آئی ٹی میک گورن انسٹی ٹیوٹ (McGovern Institute) قائم کی، جسے انہوں نے ”ابو گوٹ لیب“ (AbuGoot) لیب کا نام دیا۔

ابوداییح بتاتے ہیں کہ ان کا کام کرنے کا طریقہ زيادہ عملی ہے جبکہ گوٹنبرگ کو کیلکولیشنز میں زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہم آپس میں مذاق کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان سائنسی تعلقات قائم ہیں۔ ہمارے ذہن اب تک ایک نہيں ہوئے ہیں، لیکن جلد ہی ایسا ہوجائے گا۔“

یہ شراکت داری نئے آر این اے ایڈیٹر Cas13 کو سمجھنے میں بہت کارآمد ثابت ہوئی۔ اس اینزائم میں نہ صرف مخصوص آر این اے کی لڑیوں کو کاٹنے کی صلاحیت تھی، بلکہ اپنے سامنے آنے والے تمام آر این اے پر حملہ آور ہوجاتا تھا۔ ابوداییح بتاتے ہیں کہ ”ہم یہ دیکھ کر بالکل پریشان ہوگئے۔ ہمارا خیال ہے کہ سیلز کی ایک خودکش کڑی ہے، جس میں وائرس کے حملے کا شکار ہونے والا بیکٹیریا خود کو تباہ کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جب یہ کڑی فعال ہوتی ہے تو سیل میں سب کچھ بند ہوجاتا ہے۔“

اس بے لگام تباہی کے باعث Cas13 ایک اچھا ایڈیٹر ثابت نہيں ہورہا تھا۔ ابوداییح کہتے ہيں کہ ”ہمیں شروع میں بہت مایوسی ہوئی، لیکن کچھ دیر بعد ہم نے اس کے فوائد کے متعلق سوچنا شروع کردیا۔“ کیا اسے کینسر سیلز میں موجود آر این اے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا؟

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں جینیفر ڈوڈنا (Jennifer Doudna) کی لیباریٹری میں کام کرنے والے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے سب سے پہلے کرسپر کو لیبس میں تشخیص کے لیے استعمال کرنے کا آئيڈیا پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق آر این اے کی یہ بے لگام تباہی سے امراض کی تشخیص کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی تھی۔ اگر اینزائم کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں کسی وائرس کا ملتا جلتا آر این اے مل جائے تو اسے کاٹ کر مخصوص آر این اے کو علیحدہ کرنا ممکن ہے۔

یہ آئيڈیا تھا تو بہت اچھا لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ Cas13 میں ٹیسٹ کے لیے کافی حساسیت نہیں تھی۔ لہذا ابوداییح اور گوٹنبرگ نے ایم آئی ٹی کے پروفیسر جم کالنز (Jim Collins) سے مشورہ کیا، جنہوں نے انہیں ٹیسٹنگ سے پہلے آر این اے کی نقل کرنا اور اس کی افزائش کرنا سکھایا۔ 2017ء تک ان کا گروپ شیرلاک نامی مکمل کرسپر کا تشخیصی سسٹم تیار کرنے میں کامیاب ہوگيا تھا، جس میں بہت زیادہ درستی کے ساتھ کینسر کی وجہ بننے والی سیل کی تبدیلیاں، بیکٹیریا کی موجودگی اور زيکا وائرس کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کی درستی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ زمین جیسے 10 کروڑ سیاروں کی آبادی میں سے ایک شخص کی بالکل صحیح نشاندہی کی جارہی ہو۔

جلد ہی برکلے کی ٹیم نے شیرلاک کے مقابلے میں میمتھ بائیوسائنسز (Mammoth Biosciences) نامی کرسپر کی تشخیصی کمپنی لانچ کی۔ یہ دونوں کمپنیاں ہی سب سے پہلے کرسپر سے وابستہ ایجادات کا آئيڈیا پیش کرنے کا دعوی کررہی تھیں، جس کی وجہ سے پیٹنٹس کے حوالے سے دونوں ہی گتھم گتھا ہوگئیں، لیکن ابوداییح کو اس میں بھی فائدہ نظر آیا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”جب ایک سے زیادہ گروپ ایک ہی چیز پر کام کررہا ہو تو زیادہ مزہ آتا ہے۔ اس کے علاوہ، کسی ایک ٹیکنالوجی پر ایک سے زيادہ کمپنیوں کا کام کرنا کرپسر کی تشخیصات کے شعبے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔“

ان کی بات بالکل درست ہے: مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانا سب سے مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 45 ڈالر میں فروخت ہونے والے ایک ٹیسٹ کے ساتھ 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری لگ جاتی ہے اور صرف بڑی مشینوں اور مرکزی لیب رکھنے والی بڑی کمپنیاں ہی تشخیصی ٹیسٹنگ کے میدان میں اترنے کی سکت رکھتی ہیں۔ وینچر کیپیٹلسٹ بروس بوتھ (Bruce Booth) نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اس کاروبار میں ”اترنا بہت دل جگر کا کام ہے۔“ 2019ء تک ابوداییح کی کمپنی شیرلاک آہستہ آہستہ مارکیٹ میں کرسپر کے ٹیسٹس متعارف کرنے کی کوششوں میں ہی لگی ہوئی تھی۔

لیکن اس کے بعد کرونا وائرس شروع ہوگیا اور سب کچھ بدل گیا۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ امریکہ میں ٹیسٹس کی تعداد اس وبا سے نمٹنے کے لیے کافی نہيں ہے تو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration) نے ٹیسٹس بنانے والی درجنوں کمپنیوں کو ہنگامی بنیاد پر منظوری دے کر انہیں فوری طور پر اپنی مصنوعات مارکیٹ کرنے کی اجازت دے دی۔ مئی میں شیرلاک بائیوسائنسز کو لیب میں منعقد ہونے والے کرسپر ٹیسٹ کی اجازت مل گئی، لیکن وہ اس تحریر کے لکھے جانے تک اسے کسی مریض پر نہیں آزما پائے۔

گھر پر کیا جانے والا ٹیسٹ

کسی بھی غیرتربیت یافتہ شخص کے لیے اس ٹیسٹ کو استعمال کرنا بہت مشکل تھا اور ابوداییح، گوٹنبرگ اور زہینگ نے اس ٹیکنالوجی کی پیچیدگی کم کرنے کی ٹھانی۔ ان کا خیال تھا کہ کچھ مراحل کم کردینے کے بعد اس ٹیسٹ کو کوئی بھی شخص استعمال کرپائے گا اور اسے پی سی آر کی طرح بار بار ٹھنڈا کرنے اور گرم کرنے کی ضرورت پیش نہيں آئے گی۔ اس کے علاوہ، حمل کی نشاندہی کے ٹیسٹس کی طرح، اس ٹیسٹ کے نتائج کی تشریح بھی بہت آسان ہوجائے گی۔ ابوداییح کہتے ہيں کہ ”ہم چاہتے ہيں کہ کوئی بھی شخص گھر پر ٹیسٹنگ کرسکے۔ سوال یہ ہے کہ ہم آسان اور کم ٹیسٹس کس طرح ممکن بناسکتے ہیں؟“

اس وقت ایسے کئی ٹیسٹس موجود ہیں جنہيں نگہداشت فراہم کرنے والے مقام پر استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کے لیے ہزاروں ڈالر کی لاگت رکھنے والی مشینیں درکار ہيں۔ ایبٹ فارماسیوٹیکلز (Abbott Pharmaceuticals) کا آلہ، آئی ڈی ناؤ (ID Now) پندرہ منٹ کے اندر کرونا وائرس کی نشاندہی کرسکتا ہے، اور اسے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن اس مشین کی لاگت بھی ہزاروں ڈالر سے کم نہيں ہے۔ ابوداییح کہتے ہيں کہ کرسپر ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے والے ٹیسٹس کی قیمت صرف چھ ڈالر تک ہوگی اور اس میں غیرپیچیدہ آلات کا استعمال کیا جائے گا۔

مئی تک ان کی ٹیم نے ایک بنیادی ورژن تیار کرلیا تھا اور نئی کیمیا شیئر کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ تیار کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ مریضوں سے حاصل کردہ نمونوں میں کرونا وائرس کی نشاندہی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ وہ اس وقت ٹیسٹ کے اجزا پکڑنے اور ملانے کے لیے استعمال ہونے والا پلاسٹک کارٹرج تیار کرنے کے لیے ایک ڈیزائن کی کمپنی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ کیا ابوداییح نے اپنی خود کی ٹیسٹنگ کی ہے؟ وہ اعتراف کرتے ہيں کہ انہوں نے اب تک ایسا نہيں کیا۔ ان کے مطابق ان کا دل تو بہت چاہتا ہے، لیکن انہیں ڈر بھی لگتا ہے۔

تاہم وہ امید کرتے ہيں کہ ایک دن دنیا بھر کے لوگ اپنی صحت کے متعلق پریشان ہو کر خود سے ٹیسٹنگ کرنا شروع کریں گے۔

ابوداییح اعتراف کرتے ہيں کہ اس وقت کام ختم نہيں ہوا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”کام تب ختم ہوگا جب ہمارے پاس ایک ایسا آلہ آجائے گا جس میں صرف تھوکنے کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ وہ فارمولا ہے جو گھر میں چل سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اسے موسم خزاں تک تیار کرلیں، تاکہ جب دوسری لہر آئے تو ہم تیار ہوں۔“

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

تصویر: ڈیوڈ ونٹینر (David Vintiner)

Read in English

Authors

*

Top