Global Editions

خودکار گاڑيوں کو دیکھنے میں مدد کے لیے نیورل نیٹورکس کا استعمال کیا جارہا ہے

نام: ایندریج کارپتھی (Andrej Karpathy)

عمر: 33 سال

ادارہ: ٹیسلا (Tesla)

جائے پیدائش: سلوواکیا

عرصہ دراز سے کمپیوٹر سائنسدان یہی خواب دیکھ رہے ہيں کہ کمپیوٹرز میں کسی طرح ”دیکھنے“، یعنی چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ لیکن اینڈریج کارپتھی سے پہلے بہت ہی کم سائنسدان تھے جو اس مقصد میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ کارپتھی نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس کی مدد سے مشینیں تصاویر میں دکھائی جانے والی صورتحال نہ صرف دیکھ سکیں بلکہ اسے سمجھ بھی سکیں۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہوں نے کنولیوشنل نیورل نیٹورکس (convolutional neural networks – CNN) کے موجودہ کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ یہ ایسے سسٹمز ہیں جو دماغ کے اس حصے میں موجود نیورونز کے سٹرکچر کی طرح کام کرتے ہیں جن کی مدد سے انسان دنیا کو دیکھ سکتا ہے۔ (2015ء میں کارپتھی نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سب سے پہلے ڈیپ لرننگ کورس کا نصاب تیار بھی کیا تھا اور پڑھایا بھی)۔

سی این این اور ڈیپ لرننگ کے دوسرے طریقوں کے امتزاج سے کیرپتھی نے ایسا سسٹم ڈیزائن کیا ہے جو نہ صرف تصاویر میں موجود مختلف اشیاء کی نشاندہی کرسکتا ہے بلکہ تصویر میں موجود تمام اشیاء کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس تصویر میں کیا دکھایا گيا ہے اور اس کے بعد کیا ہوسکتا ہے۔

2017ء میں کارپتھی نے ٹیسلا میں ملازمت اختیار کرلی اور وہ اب خودکار گاڑیوں کی آٹوپائلٹ (Autopilot) کی خصوصیت کے ذمہ دار ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جس کی مدد سے یہ گاڑیاں حادثات سے بچ سکتی ہيں، خود سے چل سکتی ہیں، اور پارک ہونے کے بعد اپنے مالک کے پاس خود جاسکتی ہیں۔

کارپتھی کی تکنیکس کی بدولت، ٹیسلا کی گاڑیاں ایسے بہت سے کام کرسکتی ہيں جو دوسری گاڑیاں نہيں کرسکتیں۔ عام طور پر خودکار گاڑیاں مہنگے ترین لیزر رینج فائنڈرز کی مدد سے اپنے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے کر ایک نقشہ تیار کرتی ہیں، جس کے بعد وہ اگلے اقدام کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتی ہيں۔ ٹیسلا کی گاڑیوں میں یہی کام کرنے کے لیے کم قیمت روایتی کیمروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں انسانی ڈرائیوروں کی طرح راستے پر موجود اشیاء کی نشاندہی تو کر ہی سکتی ہيں، لیکن اس کے علاوہ وہ دوسری گاڑیوں، افراد، اشارے وغیرہ کو دیکھ کر معلوم کرسکتی ہيں کہ ان کے اطراف کیا ہورہا ہے۔ ان کی پانچ کروڑ سے زیادہ گاڑیاں اپنے اطراف دیکھتی ہیں اور تربیت حاصل کرتی ہیں، اور اس کے لیے 50 سے زائد نیورل نیٹورکس استعمال کیے جاتے ہيں۔

تحریر: بوبی جونسن (Bobby Johnson)

Read in English

Authors

*

Top