Global Editions

مشاہدہ کرنے اور ماحول سے سیکھنے والے روبوٹ

نام: چیلسیافن(Chelsea Finn)
عمر: 25 سال
ادارہ: برکلے مصنوعی انٹیلی جنس لیب

ان کے روبوٹ چھوٹے بچوں کی طرح کام کرتے ہیں، بالغوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو نقل کرتے ہیں۔

چیلسیافن ایسے روبوٹ تیار کر رہی ہے جو کہ مشاہدہ کرنے اوراپنے ماحول سے سیکھ سکتے ہیں۔ان کے الگورتھم کو مصنوعی ذہانت کے عام نظام کی نسبت بہت کم ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک روبوٹ کا سافٹ وئیر کو تربیت دینے کے لئےایک ویڈیو دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں انسان کوئی کام کر رہے ہوں۔

ان کے روبوٹ چھوٹے بچوں کی طرح کام کرتے ہیں، بالغوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو نقل کرتے ہیں۔ان کی لیبارٹری میں ایک لکڑی کی شکل والا کھلونا اس عمل کے ثبوت کامظاہرہ کرتا ہے: اس سے پتہ چلتا ہے کہ روبوٹ نے بار بار اس مربع سوراخ کے اندر رکھنے کے بارے میں سیکھنے سے قبل سرخ کیوب کو بارہ باندھا۔

چیلسیافن کا حتمی مقصد یہ ہے کہ ایسےروبوٹ تخلیق کیے جائیں جن کو مشاہدہ کے عمل سے سیکھنے کے لئے دنیا بھر میں بھیجا جا سکے۔یہ جنرل مہارتیں سیکھیں اور ان میں پروگرامنگ صرف مشاہدہ کے عمل سے سیکھنے کی ہی کی جا ئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فیکٹری میں روبوٹس کوانجنیئرزکی ٹیموں کی طرف سے یا مصنوعی ذہانت کے نظام سے تربیت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس سے پہلےانجنیئرز لیبل تصاویر پر روبوٹس کو تربیت دیتے تھے تاکہ وہ اشیاء کو پہچان سکیں۔

فن کا خیا ل یہ ہے کہ ان کے روبوٹس یہ سیکھ لیں کہ وہ میز کو کیسے ترتیب دے سکتے ہیں۔پہلا قدم روبوٹس کو یہ سیکھنے کی تربیت دینا ہے کہ وہ بہت ساری چیزوں کو کیسے ترتیب دی جائے۔وہ کہتی ہیں، “کئی طریقوں سے روبوٹ سسٹم کی صلاحیتیں اب بھی اپنی چھوٹی عمر میںہیں۔ “مقصد یہ ہے کہ انہیں کامن سنس دی جائے۔”

تحریر:کیتھرین بورزک (Chelsea Finn)

Read in English

Authors

*

Top