Global Editions

ایٹم سےٹیکنالوجی میں جدت سازی کی موجد

نام : پراہنا نارنگ (Prineha Narang)
عمر: 28
ادارہ: ہاورڈ یونیورسٹی

چھوٹے وجود والے مواد پر کی گئی ان کی تحقیق ایک نئی نسل کی ٹیکنالوجیز پیدا کر سکتی ہیں

پراہنا نارنگ چھوٹے مواد سے ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرناچاہتی ہیں یعنی ایٹم کے ساتھ۔ہاورڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹنگ میٹریلیز سائنس کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر نارنگ نینو سکیل پر آپٹیکل ، تھرمل اور الیکٹرانک رویے کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کی تحقیق کہ میٹریلز کس طرح روشنی اور دیگر الیکٹرومیگنیٹک شعائوںسے برتائو کرتے ہیں، الیکٹرانکس، توانائی، اور خلائی ٹیکنالوجیز میں جدت سازی لا سکتی ہے۔نارنگ کا کام نینو سائنس میں کئی دہائیوں کی پیش رفت پر محیط ہے جس نے ان کو طویل عرصے سے جدوجہد میں مقصد کے قریب لا کھڑا کیاہے: ایٹم سےمیٹریل ایٹم بنانے کی صلاحیت پیدا کرنا۔

1980 کی دہائیوں سےاس ڈسپلن نے نینو سٹرکچر پر خاص طور پر توجہ دی ہے۔ تاہم فطرت میںموجود درجہ حرارت پربہت سارے مواد توازن سے دور ہیں اور نام نہاد جوشیلی حالت میں ہیں جوکہ کوانٹم لیول پربہت تھوڑی سمجھی جاتی ہے۔نارنگ کا کہنا ہے، "مواد کی جوشیلی حالت میں بہت کچھ ہے جس کو سمجھنے کے لئے ابھی کوشش نہیں کی گئی۔"

اس مواد کا جوشیلی حالت میں مطالعہ کرتے ہوئے نارنگ ایسی اپروچز پر کام کر رہی ہے جو کہ مواد کو بہتر حالت میں لائیں گے۔ان کے کام سے ٹیلی سکوپ میں بہتر ریفلیکٹر اور لینز آسکیں گے، کم وزن والے موبائل فونز میں بہتر کیمرے آ سکیں گے یا ایٹمی لیول پر مصنوعی ایندھن تیار ہو سکیں گے۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن(Jonathan W Rosen)

Read in English

Authors
Top