Global Editions

اب ریموٹ سینسنگ کی مدد سے فصلوں کی صحت کی نگرانی ممکن ہوگی

نام: اینسٹازیہ وولکووا (Anastasia Volkova)

عمر: 28 سال

ادارہ: فلوروسیٹ (Flurosat)

جائے پیدائش: یوکرین

اینسٹازیہ وولکووا کو اگر کسی چیز سے چڑ ہے، تو وہ ہے ضیاع۔ جب انہيں معلوم ہوا کہ ریموٹ سینسنگ ڈیٹا اور سائنسی ماڈلنگ کی مدد سے فصلوں کی پیداوار، زرعی کیمیائی مواد کے استعمال میں کمی، اور پانی کا بہتر استعمال ممکن ہوئے، تو انہيں لگا جیسے ان کے سارے خواب پورے ہوگئے ہوں۔ وولکووا اس وقت سڈنی یونیورسٹی میں ایئروسپیس میں اپنا ڈاکٹریٹ مکمل کررہی تھیں اور انہيں 50 لاکھ سے زائد ڈالر کی فنڈنگ درکار تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہيں ہاری۔ ان کے والدین نے پودوں کے متعلق خود سیکھا تھا اور ان کے خاندان میں ایک نہایت کامیاب کسان موجود تھا، اور اسی کی بنیاد پر وولکووا نے وسیع پیمانے پر پھیلے زراعت کے مسائل حل کرنے کی ٹھانی۔

ان کی کمپنی فلوروسیٹ سیٹلائٹس، جہازوں، اور ڈرونز پر نصب امیجنگ سینسز کا استعمال کرتے ہوئے انسانوں سے پہلے بیمار پودوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انسانوں کی طرح، پودوں کو بھی بیمار ہونے کی صورت میں ”بخار“ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کیڑے مکوڑوں اور مکمل غذا یا پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی ان کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ فلورسیٹ ملٹی سپیکٹرل اور تھرمل کیمروں کی مدد سے درجہ حرارت کی یہ تبدیلی ریکارڈ کرتے ہيں اور مصنوعی ذہانت استعمال کرکے فصلوں کے ماڈلز کی کیلیبریشن کرتے ہيں۔ وولکووا اور ان کی ٹیم ان ماڈلز کا حقیقی فصلوں کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد ماہرین زراعت اور کسانوں کو پیداوار بہتر بنانے کے متعلق مشورے فراہم کرتی ہے۔

اس قسم کی مانیٹرنگ سے نائٹروجن اور جراثیم کش ادویات کے استعمال میں کمی اور پانی اور کھاد کا بہتر استعمال ممکن ہيں۔

تحریر: کیتھرن مائلز (Kathryn Miles)

Read in English

Authors

*

Top