Global Editions

شمسی سیلز کو زيادہ بہتر اور کم قیمت بنایا جارہا ہے

عرصہ دراز سے شمسی توانائی کے شعبے میں اب تک سیلیکون کا کوئی متبادل سامنے نہيں آیا تھا جو اعلی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کرتا ہو اور کم قیمت بھی ہو۔ لیکن اب پیرووسکائٹس (perovskites) نامی ہائبرڈ مواد کی مدد سے سیلیکون کے مقابلے میں کم لاگت میں اعلی توانائی پیدا کی جاسکتی ہے۔ پیرووسکائٹس استعمال کرنے والے شمسی سیلز کے ابتدائی پروٹوٹائپس سیلیکون سیلز کے مقابلے میں سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کافی محدود تھی۔

ہوان پنگ ژہو (Huanping Zhou) نے ایسے کیمیائی پراسیسز تیار کیے ہیں جن کی مدد سے پیروسسکائٹ استعمال کرنے والے شمسی سیلز کی اثراندازی میں اضافہ اور ان کی لاگت میں کمی ممکن ہوں گی۔ اگر ان سیلز کو وسیع پیمانے پر تخلیق کیا جاسکتا ہے تو اس سے شمسی توانائی کی قیمت میں قابل قدر کمی واقع ہوگی۔

ژہو کا بچپن چین کے ایک دیہی علاقے میں گزرا تھا، اور ان کے گھر میں بجلی نہیں آتی تھی۔ ان کے بھائی بہن مٹی کا تیل استعمال کرنے والے ایک چراغ کی روشنی ميں پڑھائی کیا کرتے تھے۔ اس تجربے کے بعد ژہو نے شمسی ٹیکنالوجی پر کام کرنے کی ٹھانی۔

ژہو کا تیار کردہ سیل موجودہ سیلیکون پینلز کی طرح 20 فیصد سے زيادہ سورج کی روشنی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض پیرووسکائٹ استعمال کرنے والے سیلز کی کارکردگی اس سے بہتر ہے، لیکن ژہو کی ایجاد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے تخلیق کے اخراجات میں کمی ممکن ہے۔ ان سیلز کو 302 ڈگری فاہرنہائیٹ (150 ڈگری سیلسیس) سے کم درجہ حرارت پر پیرووسکائٹ استعمال کرنے والے سولوشن کو کانچ پر سپرے کرنے یا پرنٹ کرکے بنایا جاسکتا ہے، جبکہ دوسرے پیٹرووسکائٹ سیلز کے لیے 932 ڈگری فاہرنہائٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Perovskite-based solar cells tend to degrade faster than silicon cells, so Zhou is also working on
improving their durability.
اس کے علاوہ پیٹرووائٹ استعمال کرنے والے شمسی سیلز سیلیکون کے سیلز کے مقابلے میں زيادہ جلدی خراب بھی ہوجاتا ہے، اور اس وجہ سے ژہو ان کی پائیداری کو بہتر بنانے کی بھی کوششیں کررہی ہيں۔

تحریر: یٹنگ سن نن (Yiting Sun)

Read in English

Authors
Top