Global Editions

اب ہیکرز کی ڈيٹا تک رسائی کے بعد بھی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے

نام: ریلوکواکا ایڈا پوپا (Raluca Ada Popa)

عمر:  32 سال

ادارہ: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے

جائے پیدائش:   رومانیہ

ریلوکواکا ایڈا پوپا نے سائبر سکیورٹی کے ایک بہت بنیادی مسئلے، یعنی فائر وال پر انحصار کیے بغیر ہیکرز سے کمپیوٹر سسٹم کو محفوظ بنانے  کا حل تلاش کرلیا ہے۔

پوپا کی کامیابی کا آغاز  عملی ڈیٹا بیس مینیجمنٹ سسٹم کے ساتھ ہی ہو گیا تھا جو کہ  انکریپٹڈ ڈیٹا کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ اگرچہ مواد کو اینکرپٹ کرنے  کا عمل سادہ پیغام رسانی کی ایپس جیسا کی وٹس ایپ کی صورت میں کارگر رہا ہے، لیکن ڈیٹا بیس اور ویب اپلیکیشن ، جن میں  حسابی عمل کیا جاتا ہے، ان کے لیے یہ بہت سست ثابت ہورہا تھا۔ لیکن پوپا  نے اینکرپٹڈ مواد پر حساب کتاب کرنے کا عملی طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ آج ان کے اینکریپشن کے سسٹمز کئی ایپلیکیشنز  کے ساتھ کام کررہے ہیں اور ایسی حفاظت فراہم کرتے ہيں جو فائر والز کے لیے بھی ممکن نہيں ہے۔ اگر ہیکرز کو سسٹمز تک رسائی حاصل ہو بھی جائے، تو بھی ڈیٹا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔

پوپا کہتی ہیں کہ ان کی تکنیکیں سسٹمز کو ڈیٹا دیکھے بغیر ان پر کام کرنے کے قابل بناتی ہیں، جس سے سائبر سکیورٹی کی شعبے کے لیے نئی ایپلیکیشنز کا راستہ  ہموار ہوجاتا ہے۔  حال ہی میں ان کی ہیلن نامی ایجاد کو رازداری پر سمجھوتہ کیے بغیر ہسپتالوں میں مریضوں  کا ریکارڈ شئیر یا اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کا ایک دوسرا نظام، اوپیک،  ممکنہ طور پر غیر محفوظ سافٹ وئیرز سے ہارڈ وئیرز کو محفاظ رکھتا ہے اور  اب آئی بی ایم جیسی کمپنیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

تحریر: جوناتھن روزن (Jonathan W. Rosen)

Read in English

Authors

*

Top