Global Editions

مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والا پروگرام فیصلہ سازی میں تعصب کو ختم کرتا ہے

نام: ہیمابندو لکاراجو (Himabindu Lakkaraju)
عمر: 29 سال
ادارہ: ہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University)
جائے پیدائش: بھارت

ہیمابندو لکاراجو نے مصنوعی ذہانت کا ایک ایسا پروگرام بنایا ہے جو ججز اور ڈاکٹروں کے فیصلوں میں تعصب کے عناصر کا جائزہ لیتا ہے۔

مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت بہت سی جگہوں پر مختلف فیصلے لینے کیلیے استعمال ہو رہے ہیں جن میں عدالتیں، ہیلتھ کیئر کے ادارے اور مالی ادارے شامل ہیں۔ لیکن آٹومیشن کے ذریعے فیصلے کرنے کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض دفعہ سافٹ ویئر اکثر مجرمانہ، طبی اور کریڈٹ ریکارڈ (credit record) دیکھتے وقت باریکیوں پر نظر ڈالنے سے قاصر رہتے ہیں جو ایک انسان پکڑ سکتا ہے۔ لیکن انسان بھی اکثر تعصب کی وجہ سے ایسی باریکیاں نظر انداز کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب وقت کی کمی ہو ۔

لکاراجو کا سسٹم صرف انسانی انتخاب یا مشین لرننگ پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وہ ان دونوں کا امتزاج استعمال کرتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ڈیٹا سیٹس (data sets) کے اوپر ہوتا ہے جس میں وہ مصنوعی ذہانت اور انسانی فیصلہ سازوں کے متوقع نتائج دیکھ سکتی ہیں اور یہ ڈھونڈتی ہیں کہ تعصب کہاں پر ہو سکتا ہے۔

ان کا کام اب میری لینڈ کی مونٹگومری کاؤنٹی کے سکولوں میں استعمال ہو رہا ہے جہاں یہ ان کو ایسے طالبعلموں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتا ہے جو خطرے میں ہوں اور جنہیں اضافی اضافی ٹیوشن یا نگرانی کی ضرورت ہو ۔

لکاراجو کہتی ہیں کہ ”اسکول کے ضلعوں کے وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، لہذا اس امکان کے متعلق معلومات سے سکول کے ان اضلاع کے لیے ان بچوں کی نشاندہی کرنا اور ان پروگرامز تک رسائی فراہم کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے جن سے انہيں فائدہ پہنچ سکے۔“

تحریر: اریکا بیراس (Erika Beras)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top