Global Editions

جوہری ری ایکٹرز اور ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرنے والے ممالک ڈیٹا کی مدد سے بحرانوں کے لیے کس طرح تیاری کر سکتے ہیں؟

نام: غناء الحنائی (Ghena Alhanaee)

عمر: 30 سال

ادارہ: یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا

جائے پیدائش: متحدہ عرب امارات

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں اپنے پی ایچ ڈی کے دوران، غناء الحنائی کو یہ جان کر بہت پریشانی ہوئی کہ ان کے آبائی ملک متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس کے دوسرے ممالک آفات کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھے۔

خلیج کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ تیل اور گیس کی پیداوار ہوتی ہے اور یہاں ہر سال 800 سے زائد ٹینکر گزرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات میں عرب ممالک کا سب سے پہلا جوہری پاور پلانٹ بھی بن رہا ہے۔ تاہم خلیجی ممالک پینے کے پانی کے لیے خلیج سے حاصل ہونے والے ڈی سیلینیٹڈ پانی پر انحصار کرتے ہیں، اور ان کے پاس دو یا تین دن سے زيادہ پانی کے ذخائر موجود نہيں ہیں۔ الحنائی کہتی ہيں کہ ”اگر ایسا کچھ ہوجائے جس کے نتیجے میں یہ ڈی سیلینیشن پلانٹس بند ہوجائيں، تو ان ممالک کے پاس دو یا تین روز بعد پینے کا پانی نہيں ہوگا۔“

اس عدم تیاری کو دیکھتے ہوئے الحنائی خلیجی ممالک کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں لگ گئيں۔ انہوں نے ایک ایسا ڈیٹا فریم ورک تیار کیا ہے جس کی مدد سے یہ ممالک سمندر میں تیل گرنے یا کسی جوہری حادثے جیسی صورتحال کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکیں گے۔ خلیجی ممالک کی جوہری صنعت اس وقت اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور تیل اور گیس کی صنعتیں اپنے ڈیٹا کو صیغہ راز میں رکھتی ہيں۔ اسی لیے الحنائی اس فریم ورک کے لیے امریکہ سے حاصل کردہ معلومات پر انحصار کررہی ہیں۔ ان کے ڈیٹا ماڈلز میں پچھلی دہائی کے دوران امریکی جوہری اور تیل کی صنعتوں کے چار ہزار سے زائد حادثات کا استعمال کیا گیا ہے۔ الحنائی کے مطابق یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ کونسے معمولی حادثات ہوں گے جو انتہائی سنگین نتائج کی وجہ بن سکتے ہيں۔

وہ اپنے فریم ورک کی مدد سے اسی سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے کوشاں ہيں۔ وہ چاہتی ہيں کہ زیرتکمیل برکاہ (Barakah) کے جوہری پاور پلانٹ (جو اس وقت خلیجی ممالک کا سب سے زدپذیر پلانٹ ہے) اور بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے تیل اور ڈی سیلینیشن کے تنصیبات ان کی کوششوں سے مستفید ہوسکیں۔ انہیں امید ہے کہ ان کی ریسرچ کی مدد سے ان ممالک کی حکومتیں آفتوں کے لیے زيادہ پائیدار اور ہم آہنگ حکمت عملیاں بنانے میں کامیاب ہوسکیں گی۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

Read in English

Authors

*

Top