Global Editions

مصنوعی ذہانت میں توانائی کے استعمال کو کم کرنے کی کوششیں جاری

نام: مینویل لے گیلو (Manuel Le Gallo)

عمر: 34 سال

ادارہ: آئی بی ایم ریسرچ

جائے پیدائش: کینیڈا

ایک عام قدرتی زبان کے پراسیسر کو تربیت فراہم کرنے کے دوران ایک وقت میں اتنا کاربن پیدا ہوتا ہے جتنا پانچ امریکی گاڑیاں اپنی پوری زندگی کے دوران پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح تصویر کی شناخت کے ماڈل کی تربیت کے دوران جتنی توانائی کا استعمال ہوتا ہے، اتنی توانائی ایک گھر میں دو ہفتے کے دوران استعمال ہوتی ہے۔ نمایاں ٹیک کمپنیاں دن میں کئی بار یہ کام کرتی ہیں۔

جدید کمپیوٹنگ میں توانائی کے استعمال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر کی میموری اور پراسیسر کے درمیان وافر مقدار میں ڈیٹا کی منتقلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مینویل لے گیلو اب آئی بی ایم کی ایک ریسرچ ٹیم کے ساتھ زیادہ تیز اور کم توانائی استعمال کرنے والے انتہائی درست کمییوٹنگ سسٹمز کی تخلیق پر کام کررہے ہيں۔

لے گیلو کی ٹیم نے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے جس میں ڈیٹا کی پراسیسنگ کے لیے پراسیسر کے بجائے میموری پر ہی انحصار کیا جاتا ہے، اور ان کی ٹیم نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ انتہائی درستی بھی ممکن ہوگی۔ ان کا ایجاد کردہ طریقہ استعمال کرنے سے روایتی طریقہ کاروں کے مقابلے میں 99 فیصد توانائی کی بچت ممکن ہے۔

مالی شعبے سے لے کے قدرتی سائنسز تک، ہر شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت فراہم کررہی ہيں، جس کی وجہ سے ان کی توانائی کی ضروریات بھی آسمان کو چھورہی ہیں۔ لے گیلو کہتے ہيں کہ ”ہم ماڈلز کو اس طرح تبدیل کریں گے کہ وہ زيادہ جلدی بھی کام کریں اور توانائی کا استعمال بھی کم کریں۔ اس سے کاربن فٹ پرنٹ بھی کم ہوگا اور توانائی کا استعمال بھی۔“

تحریر: پیٹرک ہاورڈ او نیل (Patrick Howard O’Neill)

تصویر: سیمویل ٹمپٹی (Samuel Trümpy)

Read in English

Authors

*

Top