Global Editions

چینی سائنسدان کو جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی سے بچے بنانے کے جرم میں تین سال قید کی سزا

جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کے سب سے پہلے بچے بنانے والے چینی سائنسدان کو چین میں ایک خفیہ مقدمے کے بعد تین سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

رائس یونیورسٹی اور سٹین فورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے ماہر حیاتی طبیعیات ہی جیان کوئی (He Jiankui) نے پچھلے سال جینیاتی تبدیلی کے ذریعے لولو (Lulu) اور نانا (Nana) نامی جڑواں بچے تخلیق کرنے کا دعوی کیا تھا، جس کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔

چین کی شنہوا (Xinhua) نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، قید کے علاوہ، جیان کوئی پر 425،000 ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا اور تولیدی سائنس کے تجربات کرنے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہيں یہ سزا شنژن کے نانشان ضلع کی عوامی عدالت کی طرف سے سنائی گئی تھی۔

جیان کوئی کی ٹیم نے CRISPR نامی جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک پیٹری ڈش میں ان جڑواں بچوں کے جینومز میں تبدیلی کی، جس کے بعد حمل کی بنیاد رکھنے کے لیے ان جنینوں کو ایک عورت کی بچہ دانی میں منتقل کردیا گيا۔

تولیدی مقاصد کے لیے انسانی جنینی بچوں کی جین کی ترمیم کرنے کے جرم میں جیان کوئی کے رفقاء کار ژہینگ رینلی (Zhang Renli) کو دو سال اور قن جنژو (Qin Jinzhou) کو 18 ماہ قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

جیان کوئی کی ٹیم سدرن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (Southern University of Science and Technology) میں کام کررہی تھی۔ ان جڑواں بچوں کی تخلیق سے وابستہ سائنسدی مسودات میں 10 مصنفین کے نام درج ہيں، جن میں لیب میں کام کرنے والے افراد اور بائیوانفارمیٹکس کے ماہرین شامل ہيں۔ تاہم اب تک یہ بات واضح نہيں ہوسکی ہے کہ کیا ٹیم کے دیگر ممبران پر بھی جرمانے عائد کیے جائيں گے؟

چینی عدالت کی ان سزاؤں میں بظاہر ان سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو نہایت باریک سوئیوں کی مدد سے انسانی جنینی بچوں میں جینز کی ترمیم کے اجزا متعارف کرتے ہيں۔

ان میں مسودات پر درج پہلے مصنف قن کے علاوہ ژہینک بھی شامل ہیں جن کا نام ابتدائی تجربات کی تفصیلات بیان کرنے والے علیحدہ پیپر میں درج ہے، جس کے مطابق انہوں نے ”انسانی جنینی بچوں میں جین کی ترمیم کے ٹیکے لگائے تھے۔“ اس وقت ژہینگ گوانگژو میں گوانگ ڈونگ اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز/گوانگ ڈونگ جنرل ہسپتال (Guangdong Academy of Medical Sciences/Guangdong General Hospital) کے ری پروڈکٹو میڈیسن سنٹر (Reproductive Medicine Center) میں کام کررہے تھے۔

عدالت کے مطابق جیان کوئی اور ان کے رفقاء کار نے 2016ء سے جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے بچے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا، اور آخر میں CCR5 نامی جین کی ترمیم کا فیصلہ کیا جس سے ایچ آئی وی کے خلاف مدافعت ممکن ہوگی۔

جیان کوئی کا خیال تھا کہ ان کی تحقیق سے نہ صرف انہيں بلکہ ان کے ملک کا بھی بہت بول بالا ہوگا۔ لیکن ان کے سب خواب مٹی میں مل گئے۔ پچھلے سال ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں ان کے تجربات کی تفصیلات شائع ہونے کے بعد کئی ماہرین نے ان کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور صوبائی حکام نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔

اس بیان کے ذریعے چینی حکام نے پہلی بار چین میں مذکورہ بالا جڑواں بچوں کے علاوہ چین ایڈٹنگ کی مدد سے پیدا ہونے والے تیسرے بچے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بچہ 2019ء میں موسم گرما میں پیدا ہوا تھا۔

عدالت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جیان کوئی اور ان کے رفقاء کار نے ”جان بوجھ کر سائنسی تحقیق اور طبی انتظامیہ کے متعلقہ قومی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے“ اور ”انسانی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے والے تولیدی اقدام پر جین ایڈٹنگ ٹیکنالوجی کا بغیر سوچے سمجھے اطلاق کیا ہے۔“

اس نجی عدالتی کارروائی کے دوران، تفتیش کاروں نے دستاویزات، عینی شاہدین کے بیانات، الیکٹرانک فائلز اور ویڈيوز کی شکل میں وافر مقدار میں ثبوت پیش کیا۔ جیان کوئی اور ان کے دونوں رفقاء کار نے اقبال جرم کرلیا۔

شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق جیان کوئی کا نام ایک ”بلیک لسٹ“ میں شامل کردیا جائے گا جس سے وہ تاحیات انسانوں پر تولیدی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے قاصر رہیں گے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالاڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top