Global Editions

انسانی دماغ کو مشینوں کے ساتھ جوڑنے والی کمپیوٹر چپس ایجاد کی جارہی ہیں

نام: ڈونگجن سیو (Dongjin Seo)

عمر: 31 سال

ادارہ: نیورالنک (Neuralink)

 جانے پیدائش: امریکہ

سات سال پہلے ڈونگجن سیو عرف ”ڈی جے“ نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ ہی ایسا سائنسدان بننا چاہتے تھے جس کے لیے انجنیئرنگ کے ذریعے ”دنیا بدلنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہو-“ وہ اس وقت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، کے ایک لیب میں نیورل ڈسٹ (neural dust) پر کام کررہے تھے۔ یہ ان نہایت چھوٹے الیکٹرانک سینسرز کو کہا جاتا ہے جنہیں کسی جانور کے دماغ میں چھڑک کر آواز کی لہروں سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اس پراجیکٹ کا مقصد دماغ اور مشینوں کو آپس میں متصل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا تھا تاکہ دماغ کے نیورونز کے ذریعے بھیجی جانی والی معلومات پڑھی جاسکے اور نئی معلومات متعارف کی جاسکے۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی سے دماغ سے حاصل کردہ معلومات پڑھنا ممکن ہوگا۔

2016ء میں ایلون مسک (Elon Musk) نے سیو کو نیورالنک نامی کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے کی پیشکش کی، جو انسانوں اور کمپیوٹرز کے درمیان انٹرفیس پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کو تیار تھی۔ سیو کہتے ہیں کہ ”مجھے جب ایلون نے بتایا کہ ان کی کمپنی کیا کرتی ہے تو میں انہیں منع نہیں کرسکا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے تمام خواب پورے ہورہے تھے۔“

یہ سٹارٹ آپ نیورل ڈسٹ کے بجائے ایک ایسے روبوٹ پر کام کر رہی ہے جو جانوروں کے دماغ میں انتہائی پتلے الیکٹروڈز ڈال سکتے ہیں۔ سیو ایک درجن افراد پر مشتمل ایک ٹیم کی سربراہی کررہے ہیں جو ایسے کم توانائی استعمال کرنے والے وائرلیس کمپیوٹرز پر کام کر رہی ہے جنہیں کھوپڑی میں بنائے گئے ایک سوراخ میں ڈالا جاسکتا ہے۔ سیو بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی ذمہ داری سرکٹ بورڈز اور چپس بنانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”یہ چپس شور کی طرح نظر آنے والے ایک سگنل جمع کر کے اس کی اس طرح پراسیسنگ کرتے ہیں کہ دماغ کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچے۔“

نیورالنک جانوروں پر ٹیسٹنگ کے بعد اس ٹیکنالوجی کی فالج یا دیگر سنگین امراض کے شکار افراد پر ٹیسٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیو کہتے ہیں کہ ” اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صحت مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کا تعلق دنیا کے ساتھ انٹریکشن کی صلاحیت کو بڑھانے سے ہے۔“

تحریر: دی ایڈیٹرز (The Editors)

Read in English

Authors

*

Top