Global Editions

کوانٹم سرکٹس کو سلیکون پر پرنٹ کرنے کا تیز ترین طریقہ

طاقتور ترین کوانٹم کمپوٹرز کے بانی
نام: مینو ویلڈھورسٹ (Menno Veldhorst)
عمر: 33
ادارہ: ڈیلفٹ یونیورسٹی، نیدرلینڈز

انہوں نےسلیکون پرکام کرنے کے قا بل سرکٹ بنانے کا طریقہ ایجاد کیا۔ماضی میں ایسا کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ مینو ویلڈھورسٹ نےرئیل ورلڈ کوانٹم سرکٹس کو سلیکون پر پرنٹ کرنے کاطریقہ ایجاد کیا ہے۔یہ طریقہ بالکل اسی طرح ہے جیسےکئی دہائیوں سےکمپیوٹر چپس بنائی جارہی ہیں۔
کوانٹم کمپیوٹرز طاقتور کیلوکولیشن کی اجازت دے گا جبکہ اس سے پہلے کوئی روایتی کمپیوٹر اس قابل نہیں تھا۔

مینی ویلڈورورٹ کی ایجاد سے قبل سلیکون پر سیمی کنڈکٹر سے بننے والے سرکٹس لگانا ناممکن تھا جس کی وجہ سے تیز کمپیوٹیشن ممکن نہیں تھی۔ یہ کمپوٹر مشینیں فز کس کے سب اٹامک حصوں سے چلائی جاتی ہیں اور ایسوٹرک میٹرئیل سے بنائی گئی ہیں جس میں سپر کنڈکٹرز شامل ہیں ۔سپر کنڈکٹرز کو کوانٹم سٹیٹ میں کنٹرول کرنا آسان ہے۔ تجارتی طور پرایسی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنا مہنگا ہے اور ایسے سرکٹ بنانے کے لئے مکمل طور پر نئے صنعتی عمل کی ضرورت ہوگی۔

ڈیلفٹ یونیورسٹی، نیدرلینڈز میں ایک تحقیق کار کے طور پرمینو ویلڈھورسٹ کرہ ارض میں سب سے زیادہ نقل کرکے بنائے گئے آلہ ٹرانسسٹر کو ایک نئی جہت بخشی ہے۔ وہ سلیکون سیمی کنڈکٹر میںکوانٹم معلومات کی بنیادی اکائی کوبٹس میں کیلکولیشن کا مظاہر کرنے کے قابل تھا۔

مینو ویلڈھورسٹ کی کامیابی کی وجہ سے انٹیل کمپنی ہزاروں سادہ کوانٹم کمپوٹر بنا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انٹیل میں شراکت دار بنیادی طبیعیات کے ذریعہ کام کرنے کے بجائے مکمل کوانٹم کمپیوٹرز کے لئے ضروری مائیکرو الیکٹرانکس اور الگورتھم پر اپنا وقت خرچ کر سکتے ہیں۔

مینو ویلڈھورسٹ کے لئے سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرانسسٹر اور کمپیوٹر کی طرح ،کوانٹم کمپیوٹر کی ایک بہت بڑی تعداد کو بنانے کی ضرورت ہو گی تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ وہ کس قابل ہیں۔ مینو ویلڈھورسٹ کی تحقیق نے صرف اس بات کی اجازت دی ہے۔

تحریر: رس جسکالین (Russ Juskalian)

Read in English

Authors
Top