Global Editions

خودکار نظام کے ذریعے کمپیوٹر کو ٹھیک کرنا

نام: الیگزینڈر ریبرٹ
عمر: 28
ادارہ: فار آل سیکور(For All Secure)

جب کمپیوٹر سسٹم ہیک ہو جاتا ہے تو لوگ عام طور پر حقیقت کے بعد مسئلہ حل کرتے ہیں۔ الیگزینڈر ریبرٹ نے ایسی مشین تخلیق کی ہے جو خود اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے جب یہ رونما ہو رہا ہو۔

ریبرٹ نے تسلیم کیا ہے کہ کمپیوٹرز میں تخلیقی صلاحیتوں کی شاید کمی ہو سکتی ہے لیکن وہ کام کو تیزی اور بڑے پیمانے پرکرنے میں اچھے ہیں۔ان کا نظام جسے میہیم(Mayhem) کہا جاتا ہے، ایک وقت میں ہزاروں پروگراموں کو چند گھنٹوں میں چیک کر سکتا ہےجو انسانی ماہرین کو پورا کرنے میں کئی سال لگیں۔

میہیم ایک خودمختار نظام ہے جو دو ٹیکنیکوں کو یکجا کر کے یہ کام کرتا ہے۔پہلی ٹیکنیک کو کوریج پر مبنی فزنگ کہا جاتا ہے جو کہ سیکورٹی ٹیسٹنگ میں ایک معیار ہے، جس میں ان پٹ کےنئے رویے کو ٹھیک کرنے کے لیے ڈیٹا کو پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ ٹیکنیک ضروری طور پر تیز رفتار طریقے سے سکیننگ اور تلاش کے لئے ضروری ہے۔ دوسر ی ٹیکنیک پروگرام کا آہستہ سے تجزیہ کرتی ہے۔

دونوں اپروچز ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں جس سے دوسری ٹیکنیکوں سے بہتری ہو۔

رابرٹ کی قیادت میں ٹیم نےفار آل سیکور میں کام کرتے ہوئےیہیم بنائی جبکہ فار آل سیکور پیٹرس برگ میں واقع سائبر سیکورٹی کی کمپنی ہے جو انہوں نے شریک بانی کے طور پر بنائی۔ کمپنی کا کام اور مشن کارنیجی میلن اداراہ میں رابرٹ کی تحقیق سے شروع ہوتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی ایجاد سے خاص طور پر خطرناک نظاموں جیسے پاور گرڈز، اسپتالوں اور بینکوں کو فائدہ ہو گا۔

ریبرٹ کا کہنا ہے ، “ہماری زندگی میں سافٹ ویئرز کی مقدار کافی زیادہ ہے۔ اور صرف انسانی مہارتوں پر منحصر ہونا ناکافی اور خطرناک ہے۔”

تحریر:اریکا بیراس (Erika Beras)

Read in English

Authors

*

Top