Global Editions

بگ ڈیٹا نے گمنامی کو ناممکن بنا دیا ہے

کسی شخص کے بارے میں جتنا زیادہ ذاتی ڈیٹا (Personal Data)پر مبنی معلومات کا ذخیرہ ہو گا اس کے بارے میں آپ اتنا زیادہ جان سکو گے حتیٰ کہ اس کے مستقبل کے بارے میں بھی پیش گوئی کرسکو گے کہ وہ مستقبل قریب میں کہاں اور کس مقصد کیلئے جاسکتا ہے۔ لیکن جو بات سب سے زیادہ فکر مندی کی ہے وہ یہ ہے کہ یوزر کا پرسنل ڈیٹا ان کے علم میں لائے بغیر فروخت کردیا جاتا ہے۔یہاں یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں لوگوں کی آنکھ کا سرمہ چرا کر لے جاتی ہیں اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی۔ 1995 ءمیں یورپی یونین نے رازداری سے متعلق قانون سازی کی جس میں “ذاتی ڈیٹا ” (Personal Data)کی وضاحت کی گئی جس کے تحت کوئی بھی معلومات جو کسی شخص کی بالواسطہ یا بلاواسطہ شناخت ہوں۔ موجودہ دور میں ذاتی ڈیٹا کیلئے اس سے کہیں زیادہ جامع تعریف کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر سال ڈیٹا کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔یہ ڈیٹا 2012ء میں 8.2زیٹا بائیٹ (Zetabyte)تک پہنچ گیا تھا جبکہ آئی ڈی سی کے مطابق 2015ء میں اس کی مقدار دوگنا ہوچکی ہے۔ ایک عام امریکی دفتر کا کارکن ہر سال کے اعداد و شمار کےلحاظ سے 1.8ملین میگا بائٹس ڈیٹا پیدا کررہا ہے جس میں موویز ڈائون لوڈ کرنا، ورڈ فائلز بنانا، ای میلز وصول کرنا، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ پر ٹرانسفر ہونے والا ڈیٹا شامل ہے۔ بظاہر یہ ڈیٹا غیر ذاتی قسم کا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جدید سائنس کے تحت فنگر پرنٹس، نیٹ فلیکس پر فلموں کا انتخاب، سیل فون سے نشر ہونے والے لوکیشن سگنلز، حتیٰ کہ نگرانی کرنے والے کیمرے سے آپ کے چلنے کا انداز تک ہر قسم کا ڈیٹا ذاتی معلومات میں آتا ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس دان اروند نارائنن (Arvind Narayanan)کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کے بےتحاشہ اضافے کے سبب لوگوں سے متعلق کوئی بھی ڈیٹا ذاتی نہیں رہا۔ ماضی میں کبھی ہم نام، پتہ، کریڈٹ کارڈ کے ریکارڈ کی معلومات کو ذاتی قرار دیتے تھے لیکن ڈیٹا بروکرز کمپنیاں مثلاً ایگزیم (Axciom)یہ ڈیٹا بھی بیچ رہی ہیں۔ اس کمپنی کے پاس 50لاکھ صارفین میں سے ہر ایک کے بارے میں اوسطاً 15سو کے قریب معلومات موجود ہیں۔ یہ وہ ڈیٹا ہے جب لوگ سائن ان ہوتے وقت کسی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کیلئے آن لائن فارم بھرتے ہوئے درج کرتے ہیں۔

ایگزیم آپ کی کار کا ماڈل، نمبر، آمد نی، سرمایہ کاری، عمر، تعلیم، شہر کے زپ کوڈکی معلومات حاصل کرتی ہے۔ جس سے وہ آپ کے طرز زندگی، دلچسپیوں اور سرگرمیوں کے بارے میں بتا سکتی ہے۔ آپ سے ایسے سوالات بھی کرتے ہیں کہ کیا آپ کی طلاق ہو چکی ہے یاآپ کا گھر خالی ہے؟ زندگی کے ایسے واقعات کی معلومات، جس میں صارفین کی دلچسپییاں ہی بدل جاتی ہیں، ایگزیم کیلئے توجہ کا مرکز ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارف کے تین ہزار کے قریب رحجانات کے بارے میں پیش گوئی کرسکتی ہے۔
فیس بک تو ذاتی معلومات خودکار طریقہ سے حاصل کرتی ہے۔ فیس بک اپنے ہر یوزر کی اپ لوڈ تصاویر، ویڈیوز 111 میگا بائیٹ کے حساب سے ذخیرہ کرتا ہے ،اس کے صارفین کی تعداد اس وقت اربوں میں پہنچ چکی ہے۔یہ مقدار 100پیٹا بائیٹ (Petabyte)بنتی ہے۔ یورپ میں چند مقدمات میں بعض مدعا علیہان نے یہ دعویٰ کیا کہ فیس بک ان کے ٹیکسٹ پیغامات، لائیکس، اور کمپیوٹر ایڈریسز ریکارڈ کررہی ہے۔ ایگزیم کے چیف سائنس ڈیٹا افسر نے دعویٰ کی اہے کہ ان کا ڈیٹا اب 90فیصد امریکی شہریوں سے منسلک ہو چکا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ پرسنل ڈیٹا ہو گا اتنی ہی زیادہ معلومات ملیں گی۔ بہت زیادہ ڈیٹا کے ساتھ ہم متعلقہ شخص کے مستقبل کی بھی پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ گزشتہ سال یونیورسٹی آف روچسٹر (Rochester)کے محقق ایڈم سیڈیلک (Adam Sadilek)اور مائیکروسوفٹ ریسرچ لیب کے انجینئر جان کرم(John Krumm)نے ہمیں دکھایا کہ وہ کسی بھی شخص کی 80ہفتوں میں متوقع لوکیشنز کے بارے میں 80فیصد درستی کے ساتھ بتا سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے انہوں 307افراد اور 3096گاڑیوں کے 32000دنوں کے جی پی ایس ریکارڈ کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کا جائزہ لیا۔

تحریر: پیٹرک ٹکر (Patrick Tucker)

Read in English

Authors

*

Top