Global Editions

ایم آئی ٹی کی پروفیسر نے سگنلز سے صحت کی معلومات حاصل کرنے والا آلہ بنا لیا

Photo credit: https://betterworld.mit.edu

میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کی پروفیسر ڈینا کاتابی نے ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جس کے ذریعے گھر میں موجود کسی شخص کی سانس کی کیفیت‘ دل کی رفتار‘ نیند‘ چال اور صحت سے متعلق اہم معلومات خوددکار طریقے سے حاصل ہوں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کام جسم میں کوئی آلہ لگائے بغیر سگنلز کی مدد سے لیا جائے گا۔ کیمبرج میساچیوسٹس میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی ایم ٹیک کانفرنس میں خطاب کے دوران ڈینا کا کہنا تھا کہ وہ اس آلے کی تیاری پر کئی برس سے کام کر رہی ہیں اور تحقیق کے دوران انہوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ہم جب بھی ہلکی سی کوئی جنبش کرتے ہیں یا سانس لیتے ہیں اس سے ہمارے اردگرد موجود الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ میں تبدیلی یا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان کی بنائی گئی ڈیوائس سے کم طاقت والے وائرلیس سگنلز جاری ہوتے ہیں جو کمروں کی دیواروں کے پار بھی گزر جاتے ہیں‘ یہ سگنلز کمرے میں موجود کسی شخص سے ٹکراتے ہیں تو ڈیوائس مشین لرننگ کے تحت ان سگنلز کی مدد سے اس شخص کے جسم کا ضروری ڈیٹا حاصل کر لیتی ہے۔یہ آلہ اب تک دو سو گھروں میں لگایا جا چکا ہے جن میں صحت مند لوگوں کے ساتھ ساتھ دمے‘ رعشے‘ ڈپریشن اور الزائمر کے مریض مقیم ہیں۔ڈینا نے اس ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لانے کے لئے ایمرلڈ انوویشن کے نام سے ایک سٹارٹ اپ بھی شروع کیا ہے۔ جبکہ بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں پہلے ہی ان کی یہ ڈیوائس استعمال کر رہی ہیں۔ ایک گھر میں جہاں رعشے کا ایک مریض ہے‘ اس آلے کی مدد سے یہ معلوم ہوا کہ یہ مریض اگر صبح پانچ سے چھ بجے کے دوران بروقت دوا لے لے تو اس کا جسم نارمل رہتا ہے۔ اس ڈیوائس کی مدد سے ڈاکٹریہ بھی معلوم کر سکیں گے کہ کون سی ادویات مریضوں پر کتنا اثر کر رہی ہیں۔اسی طرح نیند کے دوران جسم کی جنبش‘ خراٹوں اور کم خوابی سے متعلق بھی ڈیٹا حاصل کیا جا سکے گا۔

Authors
Top