Global Editions

ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی طاقت کا استعمال

یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا بگ ڈیٹا پاکستان میں انتخابی اور سیاسی منظر کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے؟ اس کے جواب کیلئے ہمیں عالمی اور ملکی تناظر میں بگ ڈیٹا کے استعمال کا جائزہ لینا پڑے گا۔ بے تحاشہ بڑھتے ہوئے بگ ڈیٹا کی مدد سے حکومتوں، اداروں، تنظیموں،کارپوریشنوں میں ملنے والے حیرت انگیز مواقعوں کی وجہ سے ترقی یافتہ دنیا پر اس کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔ بگ ڈیٹا حقیقی معنوں میں بڑا کاروبار بن چکا ہے۔بگ ڈیٹا سے حاصل ہونے والے ریونیو پر ایک نظر ڈال لیں تو یہ خاصا متاثر کن نظر آتا ہے۔ بگ ڈیٹا کمپنیوں کی کُل آمدنی سو گنا زیادہ ہے۔ آئی بی ایم کی آمدن 1368ملین ڈالر ، ایچ پی کی 869ملین ڈالر، ڈیل کی 652ملین ڈالر، ایس اے پی کی 545ملین ڈالر، ٹیرا ڈیٹا 518ملین ڈالر، اوریکل491ملین ڈالر، ایس اے ایس انسٹیٹیوٹ 480ملین ڈالر، پیلنٹیر 418ملین ڈالر، ایکسنچر 415ڈالر اور پی ڈبلیو سی 312ڈالر سالانہ ہے۔ صنعتوں کو براہ راست اور ڈیجیٹل ڈیٹا مارکیٹنگ کی خدمات فراہم والی امریکی کمپنی اے ایل سی (ALC) کے مطابق دنیا میں 90فیصد ڈیٹا گزشتہ دو سالوں میں تخلیق کیا گیا اور یہ ڈیٹا مسلسل بڑھ رہا ہے مثلاً ہر سال 2.2ملین ٹیرا بائیٹ ڈیٹا تخلیق کیا جاتا ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے ماہرین کی ضرورت پڑے گی۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ روشنی کی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور ہر 40ماہ بعد دوگنا ہو جاتا ہے۔تاہم ڈیٹا قابل اعتبار ہے یا نہیں یہ سوچنے کی بات ہے۔

بگ ڈیٹا کا انقلاب ابھی پروان چڑھ رہا ہے

ہارورڈ بزنس ریویو میں مصنفین جیکب لاریورے(Jacob LaRiviere)، پریسٹن میک آفی(Preston McAfee)، جسٹن راؤ(Jutin Rao)، وجے کے نارائنن (Vijay K. Narayanan)اور والٹر سن (Walterson)اپنے ایک مضمون امکانات کا جائزہ بہت اثر رکھتا ہے میں رائے دیتے ہیں کہ “بگ ڈیٹا کے انقلاب کا انحصار ہم پر ہے،”کمپنیاں تجزیہ کاروں کے طور پر ڈیٹا سائنسدانون کی بھرتی کیلئے دوڑ دھوپ کررہی ہیں۔ یونیورسٹیوں نے مارکیٹ کی اس طلب کو پورا کرنے کیلئے ڈیٹا سائنس کا مضمون متعارف کروادیا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق کمپنیاں ڈیٹا ذخیرہ کرنے اور بنیادی ڈھانچے پر 36ارب ڈالر خرچ کررہی ہیں اور یہ رقم 2020ء تک دوگنی ہو جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیٹا کی دنیا میں بے شمار مواقع میسر ہیں: ڈیٹا کا ذخیرہ، اس کی تنظیم اور اس کی مدد سے قابل قدر فیصلوں کو اخذ کرنا اہم ہے جس سے بہتر اور تیزرفتار کاروباری فیصلے اور نئی مصنوعات اور خدمات کی نشونما میں مدد ملتی ہے۔ آئی بی ایم نیٹیزا (IBM Netezza)کے سابق سی ای او اور صدر جم بام کہتے ہیں کہ ڈیٹا کی صنعت بنیادی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اس کے ثبوت آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس کی ایک بہترین مثال دو بڑی کمپنیوں آئی بی ایم اور اوریکل میں ہونے والی مقابلہ بازی ہے دونوں کمپنیاں ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آئی بی ایم کی زیادہ تر توجہ سماجی اور کاروباری قدر کی مارکیٹنگ پر ہے جبکہ اوریکل اپنی صلاحیت سلیکون پر مرتکز کئے ہوئے ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ڈیٹا کی مقابلہ بازی ابھی شروع ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک اور بڑی کمپنی ایس اے پی (SAP)نے بھی ڈیٹا کے میدان میں آنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈیٹا بیس اور موبائل سلوشن فراہم کرنے والی کمپنی سائی بیس(Sybase)کو 6 ارب ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا ہے۔

میرے لئے اس تبدیلی کا سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ ہم مختلف مسائل کا ڈیٹا کے تجزیہ سے جو حل پیش کرتے ہیں اس کی قدر بھی کرتے ہیں۔ ڈیٹا کے انقلاب کی وجہ کمپیوٹرز کی کم قیمت پر دستیابی اور ڈیٹا محفوظ کرنے پر کم لاگت ہے جن کے ذریعے ہم ان مسائل کا حل پیش کررہے ہیں جن کا ہم پہلے تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ڈیٹا کے ذریعے ایسے حل پیش کئے جاتے ہیں جن سے کاروباری اداروں کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے ۔ پاکستان سمیت زیادہ تر ترقی پذیر ممالک اس ڈیٹا انقلاب میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی رفتاربہت کم ہے اور وہ اس چھپے ہوئے خزانے کے فوائد سے محروم ہیں۔ امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن کا کہنا ہے کہ چھوٹا ڈیٹا کئی مراحل سے گزر کر بڑا ڈیٹا بنتا ہے۔ بڑے ڈیٹا کو چار مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(1) جمع کرنا
(2) ترتیب دینا
(3) تجزیہ کرنا اور
(4) استعمال کرنا۔

ایف ٹی سی کی رپورٹ کے مطابق “بڑے ڈیٹا کاتجزیہ معاشرے میں بہتری کے متعدد مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بگ ڈیٹا صارفین کو ارزاں مصنوعات اور خدمات فراہم کرسکتا ہے اور کم آمدن والے اورغریب طبقے کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بگ ڈیٹا کم آمدنی والی اور پسماندہ آبادیوں کو ٹارگٹڈ تعلیم، کریڈٹ، صحت کی دیکھ بھال، اور روزگار کے مواقع مدد کر رہا ہے۔ “

نینسی سکولا (Nancy Scola)واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ امریکی معیشت اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے بگ ڈیٹا کی حقائق پر مبنی شیٹ 2012ء میں اس وقت جاری کی جب انہوں نے 200ملین ڈالر کا بگ ڈیٹا ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ منصوبہ شروع کیا۔ جس میں اس قسم کے منصوبوں کی 85سے زیادہ مثالیں دی گئی ہیں جو مختلف سرکاری اداروں نے شروع کئے۔ ان منصوبو ں میں سائبر انفراسٹرکچر فار بلینز آف الیکٹرانک ریکارڈ بھی ہے جس کی سرپرستی نیشنل آرکائیوز ، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن، ناسا کا گلوبل زمین کا نظام شامل ہے۔ اس فیکٹ شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون سے زمینی ڈیٹا جمع کرنے کے بارے میں ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی 250ملین ڈالر سے اسی طرح کا ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی کے وائٹ ہاؤس آفس کے ڈائریکٹر جان پی ہولڈرن کے مطابق بگ ڈیٹاکی اس ابتدا سے امریکہ میں سائنسی دریافتوں، ماحولیات اور حیاتیاتی تحقیق میں تبدیلی آئے گی۔

بگ ڈیٹا نے نہ صرف امریکہ میں حکومت چلانے کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ پوری دنیا میں انتخابی عمل کے دوران ڈیٹا تجزیہ کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ جس کے تحت ایسے ووٹرز جو فیصلہ نہیں کرپاتے انہیں اپنی طرف راغب کرنے ان کی ضرورتیں سمجھ کر منشور میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ ریڈیم ون کے بانی اور سی ای او گربخش چاہل (Gurbaksh Chahal)نے وائرڈ میں اپنے ایک آرٹیکل “‘الیکشن 2016: بگ ڈیٹا میرج تھا ، اب سوشل ڈیٹا اگلے صدر کا تعین کرے گا”میں لکھا ہے کہ سوشل ڈیٹا نے 2008ء کے صدارتی انتخابات کا فیصلہ کیا۔ بگ ڈیٹا نے 2012ء کے انتخابات کا فیصلہ کیا اب 2016ء میں دونوں مل کر صدر کا تعین کریں گے۔ ماہرین نے 2012ء کو سیاسی ڈیٹا سائنس اور بگ ڈیٹا کا سال قرار دیا ہے جس میں انتخابی مہم کے منیجرز نے ہر امیدوار کیلئے عوامی رائے جمع کی،پھر ریاست بہ ریاست انتخابی ڈیٹا کا موازنہ کیا گیا اور ہر پارٹی کیلئے مکمل انتخابی معلومات اکٹھی کی گئیں۔

برطانیہ میں بھی بگ ڈیٹا کی اصطلاح نئی ہے۔ ایڈریان کوپولا (Adriana Coppola)نے گارجین میں اپنے آرٹیکل “منشور کو بھول جاؤ: بگ ڈیٹا مستقبل کے الیکشن جیتے گا”میں لکھتی ہیں کہ برطانیہ کے پورے ڈھانچے میں مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے دستیاب ڈیٹا کے ذریعے ووٹرز کے رحجانات کا تجزیہ کیا جاتا تھا۔ برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتیں اوباما کی کامیابی کی وجہ سے روائتی انتخابی نشریوں کے طریقہ کار سے دور جارہی ہیں۔ برطانوی انتخابات میں دو مرکزی پارٹیوں نے ڈیجیٹل ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔ کنزرویٹوز کیلئے جم میسنا (Jim Messina)اور لیبر پارٹی کیلئے ڈیوڈ ایگزیلروڈ (David Axelrod)نے خدمات سرانجام دیں۔ سیاسی پارٹیوں کو اب جیتنے کیلئے نشریاتی طریقہ کار کو چھوڑ دینا چاہئے جس میں ایک نشریہ ساری کمیونٹی کیلئے ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ افراد تک رسائی کیلئے اب ان سے مسائل پر براہ راست بات چیت کی جانی چاہئے۔ اب کنزرویٹو پارٹی فیس بک پر ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کررہی ہے۔ جب امیدوار مختلف لوگوں سے سیاسی جماعت کے منشور کے مختلف نکات پر بات کریں تو ان کے پاس زیادہ سے زیادہ معلومات ہونی چاہئیں۔

آسٹریلیا کے اے بی سی ٹی وی پروگرام ــ’’ سوشل میڈیا : نئے انتخابی محاذ‘‘ کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم بچوں کو پیار کرنے یا ٹاؤن ہال میں تقریر کرنے کی طرح ہوتی تھی۔ لیکن اب 2016ء کی ڈیجیٹل صدی میں انتخابی مہم نہایت حساس مشینوں پر سوشل میڈیا ٹیموں اور بگ ڈیٹا کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ اسی پروگرام میں ایک رپورٹر اینڈی پارک نے بتایا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو (Justin Trueau)نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 40فیصد آبادی تک صرف فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے رسائی حاصل کی۔ پروگرام کے ایک اور مہمان نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر امیدوار کا ایک سوشل میڈیا پروفائل موجود ہے۔ وہ فیس بک، ٹوئیٹر پر موجود ہو سکتے ہیں، وہ اپنی تصویر خود لے سکتے ہیں، وہ اپنی یادداشتیں ڈال سکتے ہیں، وہ اپنی ویڈیو جاری کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف میلبورن میں سوشل سائنٹسٹ ڈاکٹر اینڈریا کارسن (Andrea Carson)کا کہنا ہے کہ یہ میڈیا بہت سستا اور فوری اثر رکھتا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ 2007ء سے 2013ء تک سیاستدانوں کی طرف سے سوشل میڈیا مثلاً ٹوئیٹر یا فیس بک کا استعمال 240فیصد تک بڑھ چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کو یقین ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی انتخابی کامیابی بھی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عوام کے مسائل کو سمجھنے کیلئے بگ ڈیٹا کا استعمال کیا۔ اس سے بھارت میں 2014ء کے انتخابات میں بنیادی مسائل اور ذرائع ابلاغ کی مہم کو سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے فنڈز اکٹھے کئے، اشتہارات میں ترمیم کی اور ڈیٹا تجزیہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں ووٹروں کو منظم انداز سے شریک کیا۔ سی این بی سی میں امیت سیٹھ (Amit Seth)اپنی رپورٹ ‘”کیسے بگ ڈیٹا نے بھارتی انتخابی مہم میں تبدیلی پیدا کی؟ــ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مودی شاید دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کے حامی سیاستدانوں میں سے ایک اور یقینی طور پر بھارت میں سب سے زیادہ فعال ہیں ۔ سی این بی سی میں رپورٹ کرتے ہوئے نیرجاپاہا (Neerja Pawha) کہتی ہیں کہ بھارتی انتخابات میں بگ ڈیٹا کا استعمال اوباما کی مہم ک مقابلے میں اگرچہ چھوٹے پیمانے پر تھا لیکن موثر تھا۔ مودی نے سوشل میڈیا پر “چائے کا چرچا” نامی پروگرام غیر معمولی انتخابی واقعات سے متعلق تھا۔ جس سے مودی کا عام لوگوں سے براہ راست رابطہ قائم ہوا۔ اسی دوران میں اروند گپتا نے مودی کیلئے اوپن سورس ڈیٹا سے کسٹمائز ٹولز تیار کئے۔ مودی کے فیس بک پر 12ملین لائکس، ٹوئیٹر میں 3.67ملین فالوورز اور پارٹی کے 68ملین پیجز کو گوگل پلس پر لانے کے پیچھے اروند گپتا تھے۔

ڈیٹا کے کام میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ڈیٹا کی صنعت کو مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ یہ بعض رویوں ، سرگرمیوں کی پیشن گوئی کرنے ، تحقیق ، امکانات کیلئے کام کرتی ہے۔ اس کی مدد سے اشیاء کی قیمتوں کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ کس طرح کچھ واقعات کسی بھی کارروائی یا تقریب پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی کامیابی یا ناکامی کے پیچے کون سے رحجانات ہیں۔ حقیقت میں ڈیٹا تجزیہ کیلئے بزنس انٹیلی جنس (BI) کے ٹولز کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیٹا تجزیہ کے الگورتھم کے استعمال سے معلومات حاصل ہوتی ہیں اور امکانات تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے حکومت اور انتظامیہ میں بہتر فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں بگ ڈیٹا کا بہت کم استعمال ہوتا ہے یہاں پر تحقیق، تکنیکی ترقی، قوانین اور قواعد و ضوابط کی کمی ہے۔ تاہم اس کی بنیادی وجہ چھوٹے یا بڑے ڈیٹا کی عدم دستیابی ہے۔

اگرچہ ملازمتوں اور کام کے لحاظ سے لامحدود مواقع موجود ہیں لیکن یہاں پر ڈیٹا صنعت کی سمجھ بوجھ بہت کم ہے۔ ایک آن لائن ریسرچ کے مطابق امریکہ اور دیگر ممالک میں ڈیٹا کے تجزیہ کاروں اور سائنسدانوں کیلئے روزگار کے ہزاروں مواقع دستیاب ہیں۔ اس کیلئے مارکیٹ کھلی اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تاہم پاکستان میں اس شعبے کو سمجھنے والے بہت کم ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اس شعبے میں اپنی پوری صلاحیت سے نہیں آسکتا۔پری ڈکٹ ڈیٹا کے تجزیہ کار اور سیک ڈرگ کے بانی ڈاکٹر عدنان جبار کا کہنا ہےکہـ’’ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے مختلف بڑی کمپنیاں اور کارپوریشنز ڈیٹا استعمال کررہی ہیں۔ لیکن چھوٹے صنعتی یونٹس ڈیٹا سٹریمز کی عدم دستیابی کے سبب اسے پوری طرح سے استعمال نہیں کرپارہے۔ ‘‘وہ مزید کہتےہیں کہ حکومت کی ڈیٹا ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے اس کی ایک مثال پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی)ہے جہاں پر 80سے 90فیصد کام کاانحصار بگ ڈیٹا پر ہے۔ ان میں سے ایک سٹیزن فیڈ بیک مانیٹرنگ پروگرام ہے جس کا انحصار بگ ڈیٹا پر ہے جس کے ذریعے حکومت ڈیٹا کے ذریعے شہریوں کا ردعمل معلوم کرتی ہے۔

اصل میں حکومت ڈیٹا کی بڑی مقدار کا ذریعہ ہے۔ اسے پنجاب میں یہ پہلے ہی پولیو، ڈینگی، وغیرہ کی ویکسی نیشن پروگرام پر نظر رکھنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کاروبار ی ڈیٹا کے حوالے سے بگ ڈیٹا کا سب سے بڑا ذریعہ اسٹاک ایکسچینج ہے، لیکن یہ ڈیٹا صرف بروکرز کے استعمال کیلئے ہے کیونکہ اس میں بہت حساس اور اہم معلومات ہوتی ہیں۔ ۔ مجموعی طور پر سرکاری ایجنسیوں کا ڈیٹا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کی انتخابی مہم میں بگ ڈیٹا استعمال نہیں کیا جاتا۔

بگ ڈیٹا کی حدود اور پاکستان میں انتخابی عمل

پاکستان میں سیاسی جماعتیں ووٹرز تک رسائی کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کررہی ہیں تاہم ابھی تک وہ مکمل طور پر اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں ہوئیں۔ اسی طرح سارے عمل میں لوگوں کی مصروفیات کا تجزیہ کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں بگ ڈیٹا کی مختلف حدود ہیں۔ پاکستان میں 2010ء سے جمہوری اصلاحات پر کام کرنے والی جرمنی کی تنظیم ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے ٹیم لیڈر حسن ناصر میر بہار کہتے ہیں کہ یہاں انتخابی عمل سے متعلق زیادہ یا کم ضروری ڈیٹا کی بہت کمی ہے۔ ان کے خیال میں ڈیٹا عام طور پر دستیاب نہیں ہے اور جو کچھ اعداد و شمار دستیاب ہے وہ متضاد ہے جو انتخابی عمل کو متنازعہ بنا دیتا ہے ۔ مثال کے طور پر 2013 ء کے عام انتخابات میں، انتخابی نتائج کی ساکھ پر اس وقت تشویش کا اظہار کیا گیا جب متضاد ڈیٹا سیٹوں کے جاری ہونے سے دھاندلی کا شور مچا ۔ حسن نے انکشاف کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نےانتخابات 2013 میں نتائج کے انتظام کا نظام (RMS) متعارف کرانے کا مثبت اقدام اٹھایا۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو رپورٹ دی گئی کہ ریٹرننگ افسران نے بہت سے حلقوں میں اس نظام کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں نتائج کے ساتھ حلقہ بندی کے نقشے بھی دستیاب نہیں تھے۔ دوسری طرف کوئی بھی نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ سے امریکی صدارتی انتخابات کے امیدواروں کے انتخاب کا پرائمریز کا ڈیٹا بھی حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کا تمام ڈیٹا اور معلومات مثلاً نتائج، حلقہ بندیوں اور ووٹرز کی رجسٹریشن وغیرہ جاری کرنے سے انتخابی عمل شفاف بنانے میں مدد ملے گی بلکہ انتخابات کی ساکھ بھی بحال ہو گی۔ حسن کہتے ہیں کہ پاکستان میں عدم اتفاق ہونے کے باوجود انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی سوجھ بوجھ پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں متعارف کرانے کی طرف عوام کا عمومی رحجان موجودہے۔ عالمی تجربات اور تحقیق سے پتہ چلتا انتخابات میں اس طرح کی ٹیکنالوجی کا نتیجہ الٹا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایم ایس کا نظام بہتر بنا کر اسے مستقبل کے انتخابات میں دوبارہ استعمال کیا جانا چاہئے۔ جیسا کہ تحقیق اور تقابلی عالمی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر ایم ایس کو مستقبل میں استعمال کرنے کیلئے پائلٹ ٹیسٹنگ مشقوں کا انتظام کیا ہے۔

مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں سٹریٹجک سوچ پر توجہ نہیں دے رہیںاسی لئے وہ مکمل طور پر اپنے حلقوں، ٹارگٹ ووٹروں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کا موقع گنوا دیتے ہیں۔ حسن 2018ء کے الیکشن میں بھی بگ ڈیٹا کا استعمال ہوتا نہیں دیکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آئندہ انتخابات میں بگ ڈیٹا کا کچھ استعمال نظر آئے گا تاہم اس کی مکمل طاقت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں میں ڈیٹا کا کوئی کلچر ہی نہیں ہے۔ ڈیٹا اسی وقت استعمال ہو سکتا ہے جب یہ جاری ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مختلف ادارے ڈیٹا جاری ہی نہیں کرتے۔ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں نادرا جیسے اداروں سے مکمل طور پر ڈیٹا سے انتخابی معاملات میں مدد نہیں دے سکتے۔ تاہم آبادی کے مختلف پہلوؤں مثلاً ایج گروپ تعلیم اور صحت وغیرہ کی معلومات کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ای سی پی ڈیٹا مستقبل کے انتخابات کیلئے ووٹر ٹرن آؤٹ، خواتین اور اقلیتوں کے مسائل اور حلقہ بندی کی بہتری کو سمجھنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کا آئینی طور پر حق دیا جاچکا ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن اور نادرا جیسے اداروں کو مستعدی سے ضروری ڈیٹا اور معلومات تک عوام کو رسائی دینی چاہئے۔

دوسری طرف ڈاکٹر عدنان جبار کہتے ہیں کہ ڈیٹا یقینی طور پر دستیاب ہے اگر کوئی آپ کو ڈیٹا نہیں دے رہا تو ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا اگر ڈیٹا جاری نہیں کیا جاتا تو یہ مستقبل میں ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ او سی آر ٹیکنالوجی استعمال کرکے انتخابی عملے کیلئے دستیاب اعداد و شمار کو بگ ڈیٹا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اسے پورآبادی کو سمجھنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے پہلے طبی معلومات کیلئے عوامی سطح بکھرے ڈیٹا کو مرتب کیا اور اسے ایک آزاد پلیٹ فارم سیک ڈرگ ڈاٹ کام (Seek Drug)پر فراہم کردیا۔ اگر ڈیٹا دستیاب ہو تو ہم صحت کے شعبے میں آئندہ امکانات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ اعداد و شمار کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ جیسے ہی انسانی مداخلت ہوتی ہے یہ غیرمحفوظ ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں زمین ڈاٹ کام کو ہیک کرنے کی کوشش سے بہت سے صارفین غیرمحفوظ ہوگئے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ پرائیویسی کی خلاف ورزی سے نمٹنے کیلئے ایک تنظیم اور ضابطوں کی فوری ضرورت ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ نادرا میں بگ ڈیٹا مکمل طور پر عوامی مفاد میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ عوام کیلئے ڈیٹا کی عام دستیابی یقینی بنانے کیلئے قانون سازی بہت ضروری ہے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی صلاحیت کے لحاظ سے شدید فرق پایا جاتا ہے اور ان کے پاس وہ جدید سہولیات سے فائدہ اٹھانے کیلئے کوئی سیٹ اپ موجودہ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو مناسب بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا چاہیے، تحقیق کیلئے یونٹس قائم کرنے چاہئیں اور بگ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد بہترین فیصلے لینےچاہییں۔

تاہم تاریخی طور پر انتخابی عمل میں ڈیٹا کا استعمال محدود ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی جماعتوں کے لئے ووٹرز فہرستیں دستیاب ہیں اور وہ اس ڈیٹا کا استعمال کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ عوام کے رحجان کو سمجھنے کیلئے رائے عامہ کے جائزوں اور سروے سے بھی مدد ملےگی۔ بہت سی فرمیں بھی تحقیق اور مطالعہ کیلئے ڈیٹا کا استعمال کرتی ہیں۔ ایک آزاد صحافی فیض پراچہ کہتے ہیں کہ “سیاسی جماعتیں بھی عوامی جذبات اور رائے کا اندازہ لگانے کیلئے مختلف فرموں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں مختلف تنظیمیں مثلاً پلڈاٹ، ایس ڈی پی آئی، فافن اور الف اعلانمختلف قسم کا ڈیٹا مرتب کرکے اس کا تجزیہ کرتی ہیں۔

ترقی کے شعبے اور بگ ڈیٹا

ترقی کے شعبے میں بھی پاکستان میں بڑے ڈیٹا کے استعمال میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ پریکٹیشنرز ترقی کے چیلنجز سے نپٹنے کیلئے عام طور پر دستیاب ڈیٹا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ڈیٹا کا حصول اہم چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ غیر منافع بخش تنظیم میں ڈیٹا ایویڈنس منیجر سمن ناز کہتی ہیں کہ ہم ‘بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام(BISP) سے اعداد و شمار کو حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے حاصل کرنے کیلئے ہمیں بڑی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک ڈیٹا کی فراہمی کیلئے ایک کھلی کی پالیسی اپنانا چاہیے ۔ مجموعی طور پرڈیٹا کو سمجھنے کا فقدان ہے لیکن اسے سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پی آئی ٹی بی میں ای-حکومت کی خدمات کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر اور آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ کے سینئر کنسلٹنٹ فصیح مہتاکہتے ہیں کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پر نادرا میں شہری ڈیٹا بیس کا ایک کمپیوٹرائزڈ نظام ہے۔ ڈیٹا اتنا قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں جاتا۔ جبکہ حکومت اپنا ڈیٹا شیئر نہیں کرنا چاہتی۔ مزید برآںبڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت کے اندر محکمے ایک دوسرے کے ساتھ ڈیٹا شیئر نہیں کرتے۔ بہت سے سرکاری اداروں کیلئے مویشیوں یا محکمہ زراعت کا ڈیٹا مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

فصیح مہتا نے سفارش کی کہ حکومت کو تمام محکموں اور تنظیموں ڈیٹا پر مشتمل ایک مشترکہ عام ڈیٹا بیس قائم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پنجاب حکومت نے اپنے کئی محکموں کیلئے نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہبگ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے حکومت نے تمام ڈیٹا کا جائزہ لے کر امدادی سرگرمیوں، سیلاب، نہریں اور مختلف وسائل کے استعمال کو کیا تھا۔ یہ تمام ریکارڈ شدہ ڈیٹا حکومت کی تمام سرگرمیوں پر مخصوص تفصیلات فراہم کرتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عام کاروبار کیلئے اہم چیلنجز میں سے ایک ٹیک شعور کی کمی ہے۔ تاہم چھوٹے کاروبار اور صنعت کیلئے بگ ڈیٹا استعمال کرنے کی بہت گنجائش ہے۔

کینڈا میں لاجک پاورڈ (Logic Powered)کے ڈیٹا سائنسدان رانا عثمان کہتے ہیں کہ پاکستان میں بمشکل 20کمپنیاں ڈیٹا سائنس پر کام کرتی ہیں۔بہت سی فرمیں کاروباری ڈیٹا سائنس پر کام کررہی ہیں لیکن وہ مجموعی طور پر ڈیٹا سائنس پر توجہ مرکوز نہیں کررہیں۔ پاکستان میں ڈیٹا کے بہت سے مسائل ہیں۔ امریکہ میں تو دو ہزار کے قریب کمپنیاں مردم شماری کے ذریعے اپنا ڈیٹا مرتب کرتی ہیں جبکہ پاکستان میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی حکومت کو اپنے ڈیٹا کو عام استعمال کیلئے فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بگ ڈیٹا کی گنجائش

پاکستان میں بگ ڈیٹا پر کام کرنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔ اس کیلئے سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہئے اور ان کی مستقبل کے انتخابات میں بگ ڈیٹا کے تجزیہ اور اس کے مطابق منصوبہ بندی کی صلاحیت بڑھانی چاہئے۔ اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن کی صنعت کے ڈیٹا کو چھوٹی صنعتوںکے فروغ کیلئے وسیع تر مفاد میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بگ ڈیٹا کو ملک کے انتظامی ڈھانچے میںجرائم کی نشاندہی ، پولیس، ٹیکسیشن، جائیداد کے انتظام اور ٹریفک کنٹرول کے مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا۔ یہ صرف موجودہ چیلنجوں کو حل نہیں کرے گا بلکہ شہریوں کے لئے آسان اور قابل اعتماد حل فراہم کرے گا۔ اسی طرح چھوٹی صنعتوں اور کاروباری اداروں ان کی آمدنی میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ معیشت کی تعمیر اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے بڑی کارپوریشنز اور حکومتی اداروں کو شامل بگ ڈیٹا میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

تحریر: وقاص بنوری (Waqas Banoori)

تعارف: وقاص بنوری اسلام آباد مقیم صحافی ہیں وہ 2013ء میں ڈینیل پرل-سلیم شہزاد فیلومیں پٹس برگ پوسٹ گزٹ، پٹسبرگ، پنسلوانیا، امریکہ میں پانچ ماہ کے لئے کام کرچکے ہیں۔

Read in English

Authors

*

Top