Global Editions

ہیکرز نے امریکی بارڈر ایجنسی کے فوٹو چرا لئے

خبر: امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) نے انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز ایک سب کنٹریکٹرکےسسٹم میں داخل ہوئے اور انہوں نے ایجنسی کی طرف سے لی گئی مسافروں اور سرحد عبور کرنے والی گاڑیوں کی لائسنس پلیٹوں کی تصاویر چوری کر لی ہیں ۔ نیو یارک ٹائمز نے ایک سرکاری اہلکار کا نام بتائے بغیرحوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اس حملے میں ایک لاکھ افراد کی معلومات چوری ہوئیں۔

سی بی پی کا انکشاف پرسیپ ٹیکس(Perceptics)کمپنی کے ایک ہفتے بعد آتا ہے۔ امریکی حکومت کے لئے لائسنس پلیٹ ریڈ کرنے والی کمپنی پرسیپ ٹیکس مبینہ طور پر ہیک ہو گئی تھی۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

مسئلہ: سی بی پی ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) کا حصہ ہے جس کا کام امریکہ میں سائبر سیکورٹی کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ ڈی ایچ ایس کو اپنے گھر میں سکیورٹی کی صورتحال پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سی بی پی کا کہنا ہے کہ سب کنٹریکٹر نے ایجنسی کی منظوری کے بغیر تصاویر کو اپنے نیٹ ورک پر منتقل کرکے سیکورٹی اور پرائیویسی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔

رسپانس: سی بی پی کو سب سے پہلے ڈیٹا چوری کا پتا 31 مئی کو چلا اور اس کا کہنا ہے کہ اس نےآئوٹ آف سروس سامان کو ٹھیک کر لیا ہےاور چوری کی گئی تصاویر میں سے کوئی بھی اب تک آن لائن شائع نہیں ہوئی۔ کچھ سیاست دانون نے پہلے سے ہی حکومت سے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لئے اپنے نظام کا جائزلے۔

بڑا خطرہ: رازداری کی حفاظت کرنے والے کارکنوں نے پہلے سے ہی امریکی ہوائی اڈوں اور دیگر سرحدی علاقوں پر چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے استعمال پر خدشات کا اظہار کیاہے۔ سی بی پی والے واقعہ سے امریکی حکومت پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ سنجیدگی سے ذاتی معلومات جمع کرنے کے حوالے سے واضح اصول بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ ہیکرز کے ہاتھوں میں نہ جائیں۔

تحریر: مارٹن گائلز (Martin Giles)

Read in English

Authors

*

Top