Global Editions

ٹیکنالوجی کا شہری منصوبہ بندی میں کردار

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان نے پاکستانی شہروں کی پائیدار ترقی کے متعلق شہری پالیسی اور منصوبہ بندی کے تین ماہرین کے ساتھ گفتگو کی۔

شہری آبادی کا نقشہ تبدیل کرنے کی ضرورت

سوال: آپ نے خصوصی طور پر پاکستان کے بڑے شہروں کے مضافات کے حوالے سے پچھلی مردم شماری میں شہری اور دیہی علاقہ جات کی نشاندہی کے طریقہ کار پر تنقید کی تھی۔ ہمیں بتائيں کہ ان علاقوں کا درست خاکہ کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے اور ٹیکنالوجی اس سلسلے میں کسی قسم کا کردار ادا کرسکتی ہے؟

مردم شماری جیسے سرکاری دستاویزات شہری اور دیہی علاقہ جات کے موجودہ زمرے کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کے مضافات کے پیچیدہ حالات کا خاکہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین آبادیات اور ادارہ شماریات جیسے ادارے عام طور پر ایک روایتی طریقہ کار اپناتے ہیں جس میں شہری اور دیہی علاقہ جات کی زمرہ بندی لوگوں کے پیشوں، ذرائع آمدنی، اور آبادی کے مطابق ہوتی ہے۔ اس طریقہ کار میں تیزی سے تبدیل ہونے والے مضافات کے پیچیدہ سماجی اور معاشی حالات کو نہيں سمجھا جاسکتا۔ آپ ایک چھوٹی سے مثال لے لیں۔ اگر آپ سپر ہائی وے یا ناردرن بائی پاس پر نکل جائيں جو آپ کو کراچی کے مرکزی حصے سے دور لے جاتے ہیں، آپ کو ایسی کئی آبادیاں نظر آئيں گی جو شہری یا دیہی علاقہ جات کے روایتی زمرے میں نہيں آتی ہيں۔ مثال کے طور پر آپ کو نجی ریئل ایسٹیٹ میں روایتی زراعت کا انضمام اور غیررسمی صنعتی سرگرمیاں ملیں گی۔ جی ٹی روڈ پر لاہور سے شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور اس سے آگے گاڑی چلاتے ہوئے بھی آپ کو اسی قسم کے مناظر نظر آئيں گے۔ شہروں کے یہ مضافات حکومت کے دیہی اور شہری زمرہ جات میں شامل نہيں کیے جاسکتے۔ یہ اس وجہ سے ضروری ہے کہ کیونکہ ترقیاتی فنڈز، سیاست کی نوعیت وغیرہ کا انحصار اسی سرکاری زمرہ بندی پر ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اب اس قسم کے تیزی سے تبدیل ہونے والے مضافاتی علاقہ جات کے حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کی ٹیکنالوجیز موجود ہیں جنہیں دنیا بھر میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (geographic information system – GIS) اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم (global positioning system – GPS) کی ٹیکنالوجیز قابل ذکر ہيں۔ ان ٹیکنالوجیز
کا سب سے بڑا فا‏ئدہ یہ ہے کہ یہ زيادہ مہنگی نہيں ہيں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ان ٹیکنالوجيز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی وسائل بھی موجود ہيں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ان ٹیکنالوجيز کے استعمال پر غیرضروری حد تک پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ڈیٹا کی تخلیق پر کام کرنے والے سرکاری محکموں نے اب تک جی پی ایس اور جی آئی ایس کی ٹیکنالوجیز کی اثراندازی تسلیم نہیں کی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آزاد محققین جو اس قسم کے ٹولز سے اچھی طرح واقف ہیں، ان کے لیے بھی ان پابندیوں کی وجہ سے یہ کام مشکل ہوجاتا ہے۔

سوال:کیا آپ اپنی تحقیق کی بنیاد پر ہمیں بتاسکتی ہیں کہ ہمارے بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے جگہ کے انتظام کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

میں آپ کو کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف مہم کی مثال دے سکتی ہوں جس میں کراچی اربن لیب میں میری ٹیم کی تحقیق کی وجہ سے ہری علاقوں کی منصوبہ بندی اور انتظام میں عدم مساوات کے بنیادی مسئلے کو اجاگر کیا گيا تھا۔

ہماری تحقیق کے مطابق تجاوزات کی مہم کا نشانہ بننے والے افراد کی اکثریت غریب لوگوں پر مشتمل تھی۔ تجاوزات کی مخالفت اکثر کسی چیز کے قانونی یا غیرقانونی ہونے کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور اسے اکثر ریاستی سطح پر تشدد کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک سروے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کا نشانہ بننے والے 5,000 دکانداروں کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کےایم سی) نے 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں باقاعدہ کرایہ داری کے معاہدے جاری کیے تھے اور وہ ماہانہ بنیاد پر کرایہ ادا کررہے تھے۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت کو انہيں باہر نکالنے کے لیے کم از کم ایک مہینے پہلے پیشگی اطلاع دینے کی ضرورت تھی۔ لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے تحت شروع ہونے والی اس مہم میں ایسا کچھ بھی نہيں کیا گيا۔

یز، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کے ایم سی نے ان متنوع تجارتی سرگرمیوں کا تعین کرنے کے لیے خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے ہاکروں کی سرگرمیوں کا کبھی بھی سروے منعقد نہيں کیا۔ جی آئی ایس میپنگ کے ساتھ ایک سروے کروانے سے نہ صرف کے ایم سی کے اہلکاروں کو تجارتی سرگرمیوں کی ناہموار نوعیت سمجھنے میں مدد ملتی بلکہ چند آبادیوں کی آبادکاری کی بہتر منصوبہ بندی کا طریقہ کار بھی مل جاتا۔
اس کے بعد، انسداد تجاوزات مہم میں بھی ایک تنظیمی حیثیت ہوتی ہے۔ بڑے کاروبار یا تجارتی سرگرمیوں پر اثر پڑا لیکن زیادہ ترکیسز میں معاوضہ بھی دیا گیا۔ ہمارے کام سے معلوم ہوا کہ اس مہم میں ان لوگوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔

انسدادتجاوزات کی مہم کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کبھی بھی اشرافیہ یا امیر لوگوں کے گروپوں کی سرگرمیوں پرغور نہیں کیا جاتا۔اس میں مہنگے تجارتی مراکز اورمہنگی رہائشی سکیموں پر توجہ نہیں دی جاتی جنہوں نے ہر قدم پر قانون توڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ اس کے بارے میں غور کریں، تو تقریباً آدھے سے زیادہ کراچی غیر قانونی طورپربنایا گیا ہے۔ صرف کم طاقتور اور کمزور لوگوں کے کاروبار اور آبادیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو طاقتور ہیں، ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب ریاست ایک صرف تو غربت ختم کرنے کی پالیسیاں عملدرآمد کرنے کی خواہش رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن دوسری طرف انسداد تجاوزات جیسی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار چھن جانے کے باعث غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نوشین حفیظ انور کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں سوشل سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں جہاں وہ کراچی اربن لیب چلاتی ہیں۔ انہوں نے اربن پالیسی میں سپشلائزیشن کی ہوئی ہے۔

نقل وحمل میں درپیش مشکلات اور مواقع

سوال: آپ نے لاہور میں میٹروبس کے نظام کی اثراندازی پر تحقیق کی ہے۔ ہمیں اپنے نتائج کی روشنی میں بتائيں کہ اس وقت لاہور کس حد تک مربوط ہے؟ ملک کے بڑے شہروں کے مقابلے میں لاہور کا ٹرانسپورٹ کا نظام کیسا ہے؟

سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر اخراجات اور سرمایہ کاری کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لاہور گاڑی چلانے والوں کے لیے تو کافی حد تک مربوط ہے۔ حالیہ برسوں میں اجتماعی نقل و حمل پر سرمایہ کاری تو ہوئی ہے اور بسوں کے نظام میں بہتری تو آئی ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے روابط اور رسائی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ابھی بھی بہت کام باقی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک اچھی طرح سے مربوط نہيں ہے اور تاخیر اور بھیڑ عام ہیں۔

نقل و حمل کا موجودہ نظام راہ گیروں، معذور افراد، بزرگان، بچوں اور خواتین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہيں بنایا گيا ہے۔ اسے صرف تندرست گاڑی چلانے والے مردوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، 2010ء کے لاہور کے ٹرانسپورٹ کے ماسٹر پلان سے حاصل کردہ گھریلو ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے سفر کے پیٹرنز ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم ٹرانسپورٹ کی پالیسیوں میں اس فرق کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اسی طرح، ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ لاہور میں زیادہ تر سفر پیدل ہوتا ہے۔ لیکن چند اوور ہیڈ پلوں یا انڈرپاسوں کے علاوہ پیدل چلنے والوں کے لیے کسی قسم کا انفراسٹرکچر موجود نہيں ہے۔ تاہم ان تمام خامیوں کے باوجود بھی لاہور کا نقل و حمل کا نظام نقل و حمل کی دستیابی اور معیار کے لحاظ سے دوسرے شہروں سے بہتر ہے۔

اندرونی سڑکوں پر گاڑیوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے نقل و حمل کی مانگ کے بہتر انتظام کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر کئی شہروں میں بھیڑ اور ٹریفک کے مسائل کم کرنے کے لیے قیمتوں اور پارکنگ سے تعلق رکھنے والے ضوابط پر تجربے کیے ہيں۔ تاہم ہمیں بالآخر پبلک ٹرانسپورٹ اور بغیر موٹر کی ٹریفک پر سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کے علاوہ عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور بغیر موٹر کی ٹرانسپورٹ پر منتقل ہونے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ہمیں شہری ترقی کی موجودہ صورتحال پر بھی غور کرنا ہوگا جو بکھراؤ، موٹر استعمال کرنے والے نقل و حمل کے طریقے اور بھیڑ کی وجہ بنتے ہيں۔

سوال:آپ کی نظر میں گلوبل ساؤتھ کے شہروں کی نقل و حمل کے انفراسٹرکچر میں ٹیکنالوجی کس قسم کا کردار ادا کرسکتی ہے؟

میرے خیال میں شہری نقل و حمل کے انفراسٹرکچر میں سمارٹ نقل و حرکت اور ٹیکنالوجی پر مکالمے اس صورت میں ضروری ہیں اگر وہ خطرے کے شکار شہریوں کو فائدہ پہنچائيں اور ان کے سفر کو آسان بنائيں۔ ہمارے شہروں میں نقل و حمل کی موجودہ صورتحال اور گہرے طبقاتی امتیاز کو دیکھتے ہوئے، اس سرمایہ کاری کو برابری کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان اقدام کی نقل و حرکت اور رسائی پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صرف ٹیکنالوجی سے ہی مستقبل کی نقل و حمل کی ضروریات پوری نہيں ہوسکتی ہیں۔

فضہ سجاد اربن پالیسی کی ماہر ہیں اور تحقیق اور پراجیکٹ مینیجمنٹ میں سات سال کا تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے شہروں میں کم قیمت رہائش، نقل و حمل کی منصوبہ بندی میں صنفی مساوات، سماجی تحفظ اور نقل مکانی اور نوآبادکاری کے مسائل پر کام کیا ہے۔

صفائی کے حوالے سے تحفظات

سوال: اپنی تحقیق کی روشنی میں کوڑے کے انتظام میں ٹیکنالوجی کس قسم کا کردار ادا کرسکتی ہے؟
کوڑے کے انتظام کے شعبے میں ٹیکنالوجی کوئی نئی چیز نہيں ہے۔ انیسویں صدی میں میونسپل حکومت کے قیام کے بعد سے کوڑے کے انتظام میں بہتری لانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مشتمل کئی تجربے کیے جاچکے ہيں۔

پاکستان کے شہری علاقوں میں کوڑے کی پیداوار اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ سینیٹری لینڈ فل کی سائٹس اس انتظام کا بہت اہم ٹیکنالوجیکل عنصر ہوں گی۔ تاہم ان سائٹس میں بھی کچھ خامیاں موجود ہیں۔ ان کی حفاظتی جھلی میں سوراخوں کی وجہ سے اطراف کی زمین اور پانی میں آلودگی پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا اس سے ان سائٹس کے مقام اور اطراف کی کمیونٹیز پر ان کے اثرات کے متعلق اہم سوالات اٹھتے ہيں۔
لاہور میں 1997ء میں کھلنے والے علاقے محمود بوٹی میں آباد کاروں نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ مقدمہ ہار گئے اور انہيں اس علاقے میں مٹی اور پانی کی آلودگی کی عوض کوئی معاوضہ نہيں مل سکا۔

درحقیقت لینڈفل کی سائٹس طویل المیعاد حل فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ کوڑے کی پیداوار کو کم کرنا اس کے دوبارہ استعمال یا ری سائیکلنگ جتنا آسان نہيں ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہماری معیشت ڈسپوزایبل اشیاء کے استعمال پر منحصر ہے۔

ٹیکنالوجی کے کردار پر غور کرتے وقت ہمیں مزدوروں کی بڑی تعداد کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جن کی وجہ سے ہی کوڑے کا انتظام ممکن ہے۔

سوال: ہمیں بتائيں کہ پاکستانی شہروں میں مشینوں کے استعمال نے کوڑے کے انتظام کو کس طرح متاثر کیا ہے؟

سامراجی دور میں دہلی میں فضلے کی ٹرین جیسے کئی تجربات کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اور آزادی کے بعد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں میونسپیلٹیوں نے ان بڑھتے ہوئے شہروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لاری ٹرکس بھی حاصل کیں۔ اور 1980ء کی دہائی سے، جب پاکستان کی شہری علاقوں کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا، مشینوں کی مانگ میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں 1980ء کی دہائی میں شروع کی جانے والی ورلڈ بینک کی فنڈنگ کی وجہ سے 1990ء کی دہائی میں ایک علیحدہ ٹھوس فضلے کے محکمے کا قیام ممکن ہوا، جس نے ٹھوس فضلے سے نمٹنے کے لیے اپنی گاڑیاں بھی خریدیں۔ اس محکمے کے پاس محدود تعداد میں کوڑے کے کمپیکٹرز بھی موجود تھے، جو کوڑا جمع کرتے وقت اس کے حجم میں کمی کرتی ہیں تاکہ ایک وقت میں زیادہ کچرے کی نقل و حمل ممکن ہوسکے۔ 2010ء کی پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے بعد، نقل و حمل میں بہتری لانے کے لیے کوڑے کے کمپیکٹرز بھی خرید لیے گئے۔

اہم بات یہ ہے کہ مشینیں انسانی مشقت سے جدا نہيں ہیں جو کوڑے کے انتظام کا اہم حصہ ہے۔ صرف لاہور ہی میں تقریباً 10,000 سینیٹری ورکرز ہیں، اور ان اعداد و شمار میں غیررسمی سیکٹر شامل نہيں ہیں۔ مشینیں شہری علاقوں کے لیے اور سینیٹری لینڈفل کی سائٹس کے لیے ضروری ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ اس سے کوڑے کی پیداوار سے نمٹنے کے لیے مامور بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔ مشینیں اور انسان ہمیشہ سے ہی کوڑے کے انتظام کے نظاموں میں ساتھ رہیں گے۔

ڈاکٹر وقاص حمید بٹ ٹورنٹو یونیورسٹی میں انتھراپالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ا نہوں نے لاہور میں کوڑا اکٹھا کرنے والے کارکنوں پر ڈاکٹریٹ کیاہے۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

Read in English

Authors

*

Top