Global Editions

کراچی پھرگرمی کے نرغے میں

انسانی سرگرمیوں کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسم گرما کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، اور ماہرین کو اب فکر لاحق ہے کہ جنوبی ایشیاء میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ درختوں کی کمی اور اربن ہیٹ آئی لینڈ افیکٹ کی وجہ سے کراچی جیسے بڑے شہروں کو خاص طور پر زيادہ خطرہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈیٹا کے مطابق حالیہ دہائیوں میں ماہ اپریل میں درجہ حرارت کبھی بھی 31 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہيں رہا۔ تاہم امسال اپریل کی ابتدا میں درجہ حرارت 38.5 ڈگری تک پہنچ گیا، اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب درجہ حرارت مستقل دو روز تک 40 ڈگری رہا۔

کراچی موسم کی شدت سے متاثر ہونے والا واحد شہر نہيں ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کے بھی کئی شہر گرمی کی شدید لہروں کا شکار ہوئے ہيں۔ جس طرح ایل نینو سدرن آسیلیشن (El Niño Southern Oscillation - ENSO) دنیا کے مختلف خطوں میں شدید درجہ حرارت کی وجہ بنتا ہے، اسی طرح انڈین اوشن ڈائی پول (Indian Ocean Dipole - IOD) آسٹریلیا کے مشرقی ساحل تک بحیرہ ہند کے اطراف کے خطے میں شامل کئی ممالک کی آب و بوا پر اثرانداز ہوتا ہے۔ آئی او ڈی سے مراد دو قطب کے درمیان، جن میں سے مشرقی قطب بحیرہ عرب (یعنی بحیرہ ہند کا مشرقی حصہ) میں واقع ہے، اور مغربی قطب بحیرہ ہند کے مشرقی حصے میں موجود ہے، سمندری درجہ حرارت کا فرق ہے، اور اس کا اس علاقے میں بارش کے پیٹرن میں تبدیلی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ برطانیہ میں واقع رائل میٹرولوجیکل سوسائٹی کے ایک مطالعے کے مطابق، ایل نینو کی طرح آئی او ڈی بھی موسم کے پیٹرنز میں مداخلت اور مون سون کی بارشوں کی تاخیر کا باعث بننے کے علاوہ بحیرہ ہند کے مغربی حصے میں اوسط درجہ حرارت سے زيادہ درجہ حرارت کی برقراری کی وجہ بنتا ہے۔

ابتدائی طبی امداد اور دیگر ہنگامی امداد کی فراہمی کے لیے موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں، جو لال تنبیہہ جاری ہونے کے بعد، کمشنر کے دفتر کو ہیٹ سٹروک کے شکار مریضوں اور اموات کی تعداد کے متعلق یومیہ رپورٹس فراہم کریں گی۔

جون 2015ء میں جب ملیر ٹاؤن کی گلستان رفیع کالونی کی رہائشی عابدہ نور اپنی چھوٹی بیٹی کلثوم کو علاج کے لیے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈيکل سنٹر لے گئيں تو ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کے لیے بالکل بھی گنجائش نہیں تھی۔

سمندر کے کنارے واقع اس شہر میں اُس ہفتے درجہ حرارت بڑھتے بڑھتے 42 ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا، لیکن ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ افیکٹ‘‘ (Urban Heat Island Effect) نامی ایک رجحان کی وجہ سے کئی علاقہ جات میں یوں محسوس ہورہا تھا جیسے درجہ حرارت 47 ڈگری ہوگیا ہو۔ اُس ہفتے درجنوں افراد ہیٹ سٹروک کا شکار ہوئے۔

شہر کے بڑے ہسپتالوں میں ماضی میں کبھی بھی اس پیمانے پر ہنگامی صورتحال پیش نہیں آئی تھی، اور ان میں جلد ہی جگہ ختم ہونے لگی۔

نور، جو اپنے محلے کے ایک پرائمری سکول میں پڑھاتی ہیں، بتاتی ہیں، ’’ہسپتال کھچا کھچ مریضوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایک بستر پر دو، دو تین، تین مریض تھے۔ کچھ زمین پر بھی لیٹے ڈاکٹر کے فارغ ہونے کا انتظار کررہے تھے۔‘‘

میڈيکل افسر کے فارغ ہونے تک کلثوم کی حالت بگڑ چکی تھی، اور لاکھ کوششوں کے باوجود ڈاکٹر اس کی جان بچانے میں ناکام رہے۔

نور کہتی ہیں، ’’سب کچھ اچانک ہی ہوگیا۔ دوپہر کے قریب گرمی بڑھنے لگی۔ ہمارے علاقے میں کئی خاندان اجڑ گئے تھے۔‘‘

ملیر گرمی کی اس لہر سے سب سے زيادہ متاثرہ علاقہ تھا، جہاں سب سے زيادہ اموات واقع ہوئی تھیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق جاں بحق ہونے والے 1,200 افراد میں سے 197 کا تعلق ملیر سے تھا۔

درجہ حرارت پانچ روز تک 40 اور 42 ڈگری سنٹی گریڈ کے درمیان رہا، اور اس دوران 42,000 افراد گرمی سے متعلقہ مختلف امراض کا شکار ہوئے۔

بحیرہ عرب کے کنارے واقع کراچی شہر کا موسم عام طور پر خشک رہتا ہے۔ سب سے زيادہ گرمی مئی سے جولائی کے درمیان پڑتی ہے، اور اس دوران ورلڈ ویتھر انفارمیشن سروس رپورٹ کے مطابق 1961ء اور 1990ء کے درمیان 30 سالہ یومیہ اوسط درجہ حرارت 30.3 اور 31.4 ڈگری سنٹی گریڈ کے درمیان رہا ہے۔ ان تین ماہ میں سے جون میں سب سے زیادہ گرمی ہوتی ہے، جس میں زيادہ سے زيادہ اوسط درجہ حرارت 34.8 ڈگری سنٹی ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔

عام طور پرگرمی کے موسم کے شروع میں بارش نہيں ہوتی ہے۔ بارش جولائی کے مہینے سے شروع ہو کر کم از کم اگست کے اختتام تک جاری رہتی ہے۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق 2006ء اور 2015ء کے درمیان ہوا میں نسبتاً نمی کے تناسب میں قابل قدر فرق نظر آتا ہے، اور یہ شرح عام طور پر 30 سے 95 فیصد کے درمیان رہتی ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے موسمیاتی ڈیٹا کے مطابق پچھلی چند دہائیوں میں اپریل کے ماہ میں درجہ حرارت کبھی بھی 31 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ نہيں رہا۔ تاہم اس سال اپریل کی ابتدا میں درجہ حرارت 38.5 ڈگری تک پہنچ گیا، اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب درجہ حرارت مستقل دو روز تک 40 ڈگری رہا۔اس کے بعد، مئی کے درمیان، شدید درجہ حرارت اور بلوچستان سے چلنے والی خشک ہواؤں کی وجہ سے سمندر کی ٹھنڈی ہوائيں کراچی تک نہیں پہنچ پائیں، جس کے نتیجے میں گرمی کی ایک اور لہر سامنے آئی۔

شہری اور صوبائی حکام دعوے کرتے رہے کہ 2015ء کے تجربے کے بعد وہ اس لہر کے لیے تیار تھے، اور کوئی اموات واقع نہیں ہوئيں۔ اس کے علاوہ، شہر کے بڑے ہسپتالوں نے، جن میں جناح ہسپتال اور انڈس ہسپتال شامل تھے، بتایا کہ ان کے پاس بھی اس دوران ہیٹ سٹروک کے شکار چھ سے آٹھ سے زيادہ مریض نہيں لائے گئے۔ تاہم، ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق، 19 اور 21 مئی کے درمیان، ان کے کورنگی اور سہراب گوٹھ میں واقع دونوں مردہ خانوں میں 67 میتیں لائی گئی تھیں جن کے موت کی وجہ ہیٹ سٹروک بتائی گئی۔ اس کے علاوہ، مئی 22 کو بھی دو اموات واقع ہوئیں، جس کے بعد ہیٹ سٹروک سے جاں بحق ہونے والوں کی غیرسرکاری تعداد 69 تک پہنچ گئی۔ ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق ان مردہ خانوں کے اطراف موجود کچی آبادیوں سے تھا، جہاں کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی واحد کمپنی، کے الیکٹرک، نے دن میں کم از کم پانچ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔

انسانی سرگرمیوں کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسم گرما کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، اور ماہرین کو اب فکر لاحق ہے کہ جنوبی ایشیاء میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ درختوں کی کمی اور اربن ہیث آئی لینڈ افیکٹ کی وجہ سے کراچی جیسے بڑے شہروں کو خاص طورپر زيادہ خطرہ ہے۔

کراچی شہر میں ہر طرف اونچی اونچی عمارتیں نظر آتی ہيں، جن کا رقبہ شہر کی ہریالی اور اندرونی آبی ذخائر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ عمارتیں اور سڑکیں گرمی اور سورج کی کرنوں کو واپس بھیجنے کی بجائے انہيں جذب کرلیتی ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (International Union for Conservation of Nature) کے ایکوسسٹم کی مینیجمنٹ ٹیم کے ماہر ندیم میربہار کے مطابق ’’اس طرح یہ گرمائش شہر میں پھنس کر رہ جاتی ہے، اور سطح زمین پر ایک گرم جزیرے سے ملتا جلتا اثر پیدا ہوجاتا ہے۔‘‘

اس کے علاوہ، گرمائش میں اضافے میں شہری طرززندگی کا بھی ہاتھ ہے۔ میربہار کہتے ہيں ،’’جنریٹرز، گاڑیوں اور گھروں میں استعمال ہونے والے تقریباً تمام آلات کی وجہ سے شہر میں گرمی خارج ہوتی ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ تنگ گلیوں میں گرمی کے پھنسنے کی وجہ سے یہ اثر گنجان آباد علاقوں میں زيادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

درخت اور پودے گرمی جذب کرکے پانی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں، اور اس وجہ سے ان کی مدد سے اربن ہیٹ آئی لینڈ افیکٹ کا بہترین طور پر مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

میربہار بتاتے ہيں، ’’ہمیں گرمی کی لہروں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کراچی کے کم از کم 25 فیصد رقبے میں درخت لگانے ہوں گے۔ اس وقت اس شہر کے دو فیصد سے بھی کم رقبے میں ہریالی موجود ہے‘‘۔

شہری حکام 2015ء کی گرمی کی لہر کے لیے بالکل بھی تیار نہيں تھے، لیکن اس کے بعد سے ناگہانی آفات سے مقابلے کے لیے منصوبہ بندی شروع ہوگئی۔

2017ء میں گرمی کی لہرسے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گيا، جس کی اس سال ٹیسٹنگ شروع کردی گئی ہے۔ شہری حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت تمام متعلقہ شہری ادارے ہر سال یکم اپریل سے 31 اکتوبر تک چوکس رہيں گے۔

کراچی ہیٹ کورڈينیشن کمیٹی (Karachi Heat Coordination Committee) اس منصوبے کی عملدرآمدگی کی نگرانی کررہی ہے۔ اس کمیٹی میں ایڈیشنل کمشنر کے دفتر اور محکمہ موسمیات کے علاوہ صوبائی حکومت کے آفات سے نمٹنے کے محکمے، حکام،پولیس، شعبہ صحت، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، تعلیم اور محکمہ لیبر؛ شہر کے تمام چھ اضلاع کے بلدیاتی کارپوریشنز؛ میئر کے دفتر؛ اور شہر کے لیے مخصوص سرکاری اور غیرسرکاری اداروں جیسے کہ کے الیکٹرک، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور ایدھی اور چھیپا فاؤنڈیشنز کے نمائندگان شامل ہیں۔

یہ کمیٹی شدیدگرمی سے متعلقہ کسی بھی ہنگامی صورت میں متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کے پاس ہنگامی حالات کی صورت میں عام تعطیلات کا اعلان کرنے اورشہر کے بڑے ہسپتالوں کو الرٹ جاری کرنے کا بھی اختیار ہے۔ ان اعلانات کے نتیجے میں انتظامیہ ضرورت پڑنے پر عملے کےڈیوٹی کے اوقات کار میں اضافہ کردے گی اور ضروری ادویات کو ذخیرہ کرنا شروع کردے گی۔

یہ منصوبہ موسم اور دیگر متعلقہ معلومات کی بروقت فراہمی پر منحصر ہے۔ اس کو یقینی بنانے کے لیے حکام موبائل فون کمپنیوں اور سافٹ ویئر انجنیئروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تنبیہات حاصل کرنے، اور قریب ترین ہسپتال، بہترین راستے اور ریڈ زون(یعنی وہ علاقہ جات جنہیں سب سے زيادہ خطرہ لاحق ہے) کی نشاندہی کرنے کے لیے متعدد سمارٹ فون ایپلی کیشنز تیار کررہے ہيں۔ گرمی کی لہر کے انتظام کے منصوبے کی مرکزی شخص اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر عنبر میر بتاتی ہیں، ’’اس منصوبے کے تحت درجہ حرارت کے 40 ڈگری سنٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے صورت میں ایس ایم ایس کے ذریعے تنبیہات بھی بھیجی جائيں گی۔‘‘

ڈاکٹر میر کے مطابق، کمشنر کا دفتر اس منصوبے کی عملدرآمدگی جاری رہنے تک موسم کی پیشگوئی کے سلسلے میں محکمہ موسمیات کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہماری ویب سائٹ پر موسم کی رپورٹس کی رئیل ٹائم میں تجدید ہوتی رہے گی، اور عوام کو سمارٹ فون کی ایپ کے ذریعے مطلع کیا جاتا رہے گا‘‘۔ وہ مزید بتاتی ہيں کہ یونین کونسل کی سطح پر منتخب کردہ نمائندگان کو اپنے اپنے علاقوں میں اس ایپ کے استعمال کے متعلق آگاہی پھیلانے کی درخواست بھی کی جائے گی۔

اس کمیٹی نے تین سطحوں پر مشتمل تنبیہات کا نظام تشکیل دیا ہے، جس میں درجہ حرارت کے اضافہ جات کے متعلق مشاورتی پیغامات (پیلا رنگ)، نتبیہات (نارنگی رنگ) اور ہنگامی صورتحال (لال رنگ) شامل ہيں۔

ڈاکٹر میر کہتی ہیں، ’’پیلے اور نارنگی رنگ کی تنبیہات سے نہ صرف عوام میں آگاہی پھیلے گی، بلکہ ہنگامی صورتحال کی تیاری میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘

یہ تنبیہات کسی بھی روز زیادہ سے زيادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کے مطابق جاری کی جائيں گی۔ درجہ حرارت کے 40 ڈگری سے تجاوز کرنے کی پیشگوئی کی صورت میں روایتی میڈیا، ایس ایم ایس یا سمارٹ فون کی ایپ کے ذریعے پیلے رنگ کی تنبیہہ، یعنی گرمی کا مشاورتی پیغام، جاری کردیا جائے گا۔ اسی طرح درجہ حرارت کے 42 ڈگری تک پہنچنے کی صورت میں یہ کمیٹی نارنگی رنگ کی تنبیہہ، یعنی گرمی کی تنبیہہ، جاری کرے گی، اور عوام اور متعلقہ حکام کو ہنگامی صورتحال کی تیاری کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

اگر شدید موسم کا پیٹرن برقرار رہے جس سے انسانی صحت پر سنگین اثرات کی توقع ہو تو لال رنگ کی تنبیہہ، یعنی گرمی کی لہر کی ہنگامی صورتحال کی تنبیہہ، جاری کردی جائے گی۔ ڈاکٹر میر کہتی ہيں، ’’لال رنگ کی تنبیہات گرمی کی لہر کی ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہيں، جس کے بعد شہر بھر کی ایجنسیوں کی ہنگامی کارروائیاں فعال ہوجائيں گی۔‘‘

یہ تنبیہہ اس وقت جاری کی جائے گی جب مستقل دو یا دو سے زيادہ روز تک زيادہ سے زيادہ درجہ حرارت 42 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سے زيادہ رہیں گے۔ ڈاکٹر میر کے مطابق اس تین سطح پر مشتمل نظام کی اپریل میں ٹیسٹنگ کی گئی تھی، جب اس سال پہلی دفعہ درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز ہوا تھا۔ اس وقت ایک پیلے رنگ کی تنبیہہ جاری کی گئی تھی، اور ایس ایم ایس اور مختلف میڈیا کے ذریعے حفاظتی اقدامات کے متعلق پیغامات بھیجے گئے تھے۔

تاہم، گلبرگ ٹاؤن میں موسیٰ کالونی نامی کچی آبادی کے رہائشی سردار احمد بتاتے ہيں کہ انہيں ایسا کوئی بھی ٹیکسٹ پیغام موصول نہيں ہوا۔ احمد ایک پیشہ ور وین ڈرائیور ہيں جو دن بھر ایف ایم ریڈیو سنتے رہتے ہيں۔ لیکن انہیں ریڈیو پر بھی اس قسم کی کوئی خبر نہيں ملی۔

جب ڈاکٹر میر کو اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ سسٹم اب تک سو فیصد درست نہيں ہے، اور مزید بتایا کہ یہ کمیٹی ہر شکایت موصول ہونے پر ان کی اصلاح کرے گی۔

2015ء کی گرمی کی لہر کے باعث رونما ہونے والی اموات کی اطلاعات کی بنیاد پر یہ کمیٹی جیوگریفک انفارمیشن سسٹم (Geographic Information System - GIS) ٹیکنالوجی کی مدد سے شہر کے ان علاقہ جات کا نقشہ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جنہيں سب سے زيادہ خطرہ لاحق ہے۔ جی آئی ایس کے اس نقشے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی علاقے کے خطرے کا انحصار وہاں موجود گھروں کے معیار اور اقسام کے علاوہ آبادی، کم آمدنی اور تعلیم کی کمی پر ہے۔

خطرے میں کمی کے لیے زيادہ وسائل اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اور اس وجہ سے زیادہ تر اقدامات ہنگامی صورتحال کی روک تھام اور انتظام پر مرکوز ہیں۔

اس کے علاوہ اس کمیٹی نے ابتدائی طبی امداد اور دیگر ہنگامی امداد کی فراہمی کے لیے موبائل ٹیمیںبھی تشکیل دی ہیں، جو لال تنبیہہ جاری ہونے کے بعد، کمشنر کے دفتر کو ہیٹ سٹروک کے شکار مریضوں اور اموات کی تعداد کے متعلق یومیہ رپورٹس فراہم کریں گی۔ اس کے بعد رپورٹس تیار کر کے صوبائی سطح پر ہنگامی ریسپانس کے رابطہ کار کو ہفتہ وار بنیادوں پر فراہم کی جائيں گی۔

ہنگامی صورتحالوں کے دوران، یہ کمیٹی خصوصی طور پر ان علاقہ جات میں جن کو سب سے زيادہ خطرہ ہے، مساجد، مندروں، گرجاگھروں اور دیگر عبادت گاہوں کے علاوہ بسوں اور ریل گاڑیوں کے ٹرانزٹ سٹیشنز میں پانی کا انتظام کرنے اور کولنگ سٹیشنز لگانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں تمام ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے علاوہ، یہ کمیٹی سڑک کے کنارے بھی میڈیکل کیمپس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں ہیٹ سٹروک کے شکار افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے، اور سنگین کیسز کو قریبی ہسپتال بھیجا جائے ۔

غیرحکومتی سطح پر ایدھی اور چھیپا فاؤنڈیشنز نے بھی اپنی ایمبولینسز اور موبائل مردہ خانوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی بتاتے ہيں، ’’ہم نے گرمی کی لہر نے نمٹنے کے لیے مزيد 100 ایمبولنسز خرید لی ہیں، اور اب ہمارے پاس کراچی میں 500 ایمبولینسز ہوگئی ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ، 2015ء میں مردہ خانوں کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایدھی فاؤنڈيشن نے موبائل مردہ خانے بھی خریدلیے ہيں، جن میں ایک وقت میں کئی میتوں کو شہر کے مختلف حصوں میں واقع مردہ خانوں میں جگہ ملنے تک ایئرکنڈیشنر میں رکھا جاسکتا ہے۔

2015ء کے امدادی اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایدھی بتاتے ہيں کہ ان کی فاؤنڈیشن کے پاس لائی جانے والی زیادہ تر میتیں دہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کی تھیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق کراچی کے کئی مختلف کچی آبادیوں سے تھا۔ ان کا کہنا ہے ،’’حکومتی ریکارڈز کے مطابق صرف 1,200 افراد جاں بحق ہوئے تھے، لیکن میرے خیال میں دم توڑنے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زيادہ ہے۔ حکام نے صرف ان لوگوں کو گنا تھا جنہیں سرکاری ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ میرے خیال میں اس ہفتے 8 سے 9 ہزار کے درمیان افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔‘‘

امر گرڑوکراچی سے تعلق رکھنے والے ملٹی میڈيا صحافی ہيں۔ وہ ڈیلی ٹائمز کے لیے ماحولیات کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

تحریر: امر گرڑو (Amar Guriro)

Read in English

Authors
Top