Global Editions

پاکستان سمیت کئی ممالک میں کرونا وائرس کے بہانے آزادی اظہار خیال پر عائد کردہ پابندیوں میں اضافہ ہورہا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر انٹرنیٹ پر آزادی کئی سالوں سے کم ہورہی ہے، لیکن کرونا وائرس کے باعث قوانین میں مزید سختی ہو گئی ہے۔

فریڈم ہاؤس (Freedom House) نامی تھنک ٹینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر لوگوں کے حقوق پر عائد کردہ پابندیوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس تحقیق میں 65 ممالک کا تجزیہ کیا گيا، جہاں دنیا بھر کے 87 فیصد انٹرنیٹ کے صارفین رہائش پذیر ہیں۔ یہ ریسرچ جون 2019ء سے مئی 2020ء تک کا احاطہ کرتی ہے، لیکن اس میں کرونا وائرس کے دوران متعارف کی جانے والی چند اہم تبدیلیوں کو خاطر میں لایا گيا ہے۔

کرونا وائرس کے اثرات: بیس کے قریب ممالک میں کرونا وائرس کو بہانہ بنا کر آزادی اظہار خیال پر نئی پابندیاں عائد کی جارہی ہيں اور حکومت کے خلاف انٹرنیٹ پر آواز اٹھانے والوں کو حراست میں لیا جارہا ہے۔ اٹھائیس ممالک کی حکومتوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے خبروں اور اعداد و شمار کو دبانے کے لیے کئی ویب سائٹس بند کروادیں یا میڈیا آؤٹ لیٹس، صارفین اور پلیٹ فارمز کو معلومات موڑ توڑ کر پیش کرنے پر مجبور کیا۔ کم از کم 45 ممالک میں لوگوں کو covid-19 کے متعلق پوسٹس کرنے کے نتیجے میں حراست میں لیا گيا۔

کئی ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کی نگرانی میں بھی اضافہ کررہے ہيں۔ بحرین، بھارت اور روس جیسے ممالک میں کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کے نفاذ کے لیے استعمال کی جانے والی ایپس اس حوالے سے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ چین میں حکام نے ٹیکنالوجی کی مدد سے کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوشش تو کی لیکن ساتھ ہی لوگوں کو معلومات شیئر کرنے اور وفاق کے موقف کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی روک دیا۔

اس تحقیق کے نتیجے میں دیگر حقائق سامنے آئے جن کا تعلق کرونا وائرس کی عالمی وبا سے نہيں ہے:

•  امریکہ کسی زمانے میں دنیا کا آزاد ترین ملک تھا، لیکن اب وہاں بھی انٹرنیٹ پر عائد کردہ پابندیوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے چار سال سے امریکہ میں انٹرنیٹ پر آزادی اظہار خیال میں مستقل کمی ہورہی ہے۔ وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے نسلی تعصب کے خلاف احتجاجات کے جواب میں نگرانی کے نئے ٹولز کا استعمال شروع کردیا ہے اور ان مظاہروں سے وابستہ آن لائن سرگرمیوں کے باعث متعدد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاچکی ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں سوشل میڈیا پر آزادی اظہار خیال کے خلاف ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے اور خطرناک اور غلط معلومات پھیلانے کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بہت ننقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

•  انٹرنیٹ کی دراڑ مزید گہری ہونے والی ہے۔ امریکہ، بھارت اور پاکستان نے حال ہی میں چینی ایپس پر پابندیاں عائد کردیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ چین کا یہ موقف کہ ہر ملک کو ”اپنا قومی انٹرنیٹ“ بنانا چاہیے، بالکل درست ہے۔ پچھلے سال کم از کم 13 ممالک میں انٹرنیٹ پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی، جس میں بھارت سب سے آگے تھا۔ روسی حکومت نے قومی بحرانوں کے دوران روس کو عالمی انٹرنیٹ سے منقطع کرنے کے لیے نئے قوانین پاس کیے۔ ایران نے احتجاجات کے دوران پولیس کے تشدد پر پردہ ڈالنے کے لیے کئی بین الاقوامی کنکشنز توڑ ڈالے۔ برازيل، پاکستان، اور ترکی میں صارفین کے ڈيٹا کو ملک سے باہر بھیجے جانے سے روکنے کے لیے نئے ضوابط پاس کیے گئے یا ان پر غور کیا جارہا ہے۔

•  چین میں انٹرنیٹ پر آزادی اظہار خیال کو دبانے کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ پچھلے چھ سال سے چین انٹرنیٹ پر آزادی اظہار خیال کے حوالے سے سب سے زيادہ پابندیاں عائد کرنے والا ملک رہا ہے، اور یہ سلسلہ اب بھی اسی طرح جاری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں چین میں اویغور مسلمانوں کی آزادیوں کو دبانے کے لیے کیے جانے والے اقدام پر کوئی بات نہيں کی گئی۔

•  جتنی تیزی سے نئی ٹیکنالوجیز سامنے آرہی ہیں، ہم اس رفتار سے انہيں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ چہرے کی شناخت اور خودکار فیصلہ سازی کی ٹیکنالوجی میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے، لیکن پرائیوسی کو یقینی بنانے اور ان نئی ٹیکنالوجیز کا غلط فائدہ اٹھانے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے اقدام نہيں کیے جارہے۔

مزید کیا اقدام کرنے کی ضرورت ہے؟ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق ”انٹرنیٹ پر آزادی اظہار خیال کے تحفظ کی تحریک کی کامیابی کے لیے محض پالیسیاں کافی نہيں ہيں۔ اسے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے کے بجائے تحفظ کو یقنینی بنانے والی گورننس پر زور دینا چاہیے۔“ اس رپورٹ میں کئی تجاویز پیش کی گئی ہيں، جن میں ڈیٹا کی پرائیویسی کو یقینی بنانے اور اینکریپشن کے تحفظ کے لیے قوانین کا مطالبہ شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں کرونا وائرس کے بعد فروغ پانے والے ریموٹ ملازمتوں اور تعلیم کے رجحان کے پیش نظر کم قیمت اور ہر ایک کے لیے قابل رسائی انٹرنیٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گيا ہے۔ نجی کمپنیوں کو ”منصفانہ اور شفاف“ ماڈریشن سے کام لینے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے خلاف مزاحمت کا بھی مشورہ دیا گيا ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومتوں کو ایک آزاد اور کھلے انٹرنیٹ کو یقینی بنانے کے لیے ”سائبر ڈپلومیسی“ کو فروغ دینے اور پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجیز کے برآمدات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Gee)

تصویر: فلکر | بیک بون کیمپین (Backbone Campaign)

Read in English

Authors

*

Top