Global Editions

حکومتیں اب کیش کے بجائے کرپٹوکرنسیاں استعمال کرنے پر غور کررہی ہیں

ہوسکتا ہے کہ اُن ممالک میں جن میں کیش کا استعمال کم ہورہا ہے یا مالی نیٹورکس پرانے ہوچکے ہیں، بٹ کوائن یا دوسری ڈیجٹل کرنسیاں مقبول ہوجائیں۔

سویڈن میں کیش کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت کرنسی کے نوٹس اور سکوں کی تعداد پچھلی تین دہائیوں کی سب سے کم ہے۔ سویڈن کے مرکزی بینک رکس بینک (Riksbank) کے مطابق پچھلے سال صرف 15 فیصد ٹرانزيکشنز میں کیش کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ 2010ء میں یہ شرح 40 فیصد تھی۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ موبائل کے ذریعے ادائیگی کی سہولت ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سویڈن کے مرکزی بینکرز یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا انھیں ایک سرکاری ڈیجٹل کرنسی لانچ کرنی چاہیے؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں ہے تو دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کرنسی میں کس قسم کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا؟

رکس بینک کے علاوہ دوسرے مرکزی بینکس بھی بٹ کوائن اور دیگر کرپٹوکرنسیوں میں استعمال ہونے والی بلاک چین کی ٹیکنالوجی پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان سسٹمز میں، جنھیں تقسیم شدہ لیجرز بھی کہا جاتا ہے، ٹرانزیکشنز کو ایک مشترکہ ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے کسی بینک جیسی مرکزی اتھارٹی کے بجائے متعدد کمپیوٹرز پر مشتمل نیٹورکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتی بینکرز سمجھتے ہیں کہ اس سسٹم سے نہ صرف کیش کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ اس سے دیگر ادائيگی کے سسٹمز کی اثراندازی میں بھی اضافہ ہوگا۔

ایسا کرنے سے پہلے کئی مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان سسٹمز کو کس طرح تخلیق کیا جائے گا اور انھیں کس طرح برقرار رکھا جائے گا؟ تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان سسٹمز سے کسی ملک بلکہ پوری دنیا کے مالی استحکام پر کیا اثرات ہوں گے؟ یہی وجہ ہے کہ رسک بینک متبادل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ تقسیم شدہ لیجر کی ٹیکنالوجی نے غیرثابت شدہ ہونے کے باوجود بھی کافی ترقی کرلی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی رسک بینک اپنے ای کرونا (e-krona) پراجیکٹ میں روایتی اکاؤنٹنگ کے طریقہ کار کے استعمال پر غور کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

بعض ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اس رقم سے جڑی ہوئی کرپٹوکرنسی جسے مرکزی بینک کی حمایت حاصل ہے، حکومتوں کو کیش سے ملتے جلتے ڈيجٹل ٹوکنز جاری کرنے میں کافی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے اس کرنسی کو "فیڈکوائن" کا نام دیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کرنسی میں بٹ کوائن کی طرح کی گم نامی تو ہوگی ہی، لیکن اس کے علاوہ یہ دیگر کرپٹوکرنسیوں سے زیادہ مستحکم بھی ثابت ہوگی۔ کئی ممالک کے مرکزی بینکس اس قسم کی کرنسی پر تحقیق کررہے ہیں، لیکن اس وقت سب سے زیادہ پیش رفت سویڈن کی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا, سانتا باربرا میں اکنامکس کے پروفیسر روڈ گیرٹ (Rod Garratt) کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کرپٹوکرنسی تمام صارفین کو دستیاب ہوجائے تو "کئی قسم کے مسائل کھڑے ہوجائیں گے" اور مانیٹری پالیسی بنانے والوں کو کئی چیلنجز درپیش ہوں گے۔

سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان ٹرانزيکشنز کی تصدیق کون کرے گا اور تقسیم شدہ لیجر کو برقرار کون رکھنے گا؟ اس نئے سسٹم کے سٹریم لائنڈ ہونے کی وجہ سے بھی کافی مسائل پیش آسکتے ہیں، جس میں سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ مالی بحران کی صورت میں بینکس کے تمام صارفین کے لیے بینکس سے اپنی رقم نکلنا بہت آسان ہوگا۔ اس وقت کاغذی کرنسی کے نوٹ پرنٹ کرنے میں وقت لگتا ہے اور بینکس خالی ہونے سے بچے رہتے ہیں۔ تاہم ڈیجٹل کرنسی پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوگی، اور پورے ملک کا بینکنگ سسٹم بیٹھ جانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

ایک جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمینٹس (Bank of International Settlements) نے کیش کی جگہ کرپٹوکرنسیوں کے استعمال سے بہتر تجویز پیش کی ہے۔ اس مضمون میں گیرٹ اور BIS کے ریسرچر مورٹن بیک (Morten Bech) نے دو قسم کی کرپٹوکرنسیوں کا ذکر کیا ہے، ایک عوام کے استعمال کے لیے اور دوسری صرف بینکس کے استعمال کے لیے۔

عالمی مالی نظام میں مرکزی بینکس کمرشل بینکس کے درمیان رقم کی منتقلی کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کمرشل بینکس مرکزی بینکس میں ڈپوزٹس جمع کرتے ہیں، اور دوسرے بینکس کو بہت بڑی رقم بھیجنے کے لیے وہ مرکزی بینک کے ادائيگی کا سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ مرکزی بینک کا کام "کلیئرنگ" یعنی ٹرانزیکشن کے بعد ہر فریق کے اکاؤنٹ میں ترمیم اور "سیٹلمنٹ" یعنی رقم کی منتقلی ہے۔

اس وقت کئی مرکزی بینکس کے ادائيگی کے سسٹمز کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ان میں اب تک پرانے ڈیٹابیسز اور پروگرامنگ لینگویجز کا استعمال کیا جارہا ہے، اور حکومتیں جدید قسم کے سسٹمز متعارف کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ کینیڈا اور سنگاپور کے مرکزی بینکس نے کرپٹوکرنسی کے ٹوکن کی مدد سے بیک وقت کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ پر کام کرنے والے تقسیم شدہ لیجر استعمال کرنے والے ادائيگی کے سسٹمز کا مظاہرہ کامیاب رہا ہے۔ چین میں بھی اسی طرح کے سسٹمز کی ٹیسٹگ جاری ہے۔

گیرٹ کہتے ہیں کہ اس قسم کے سسٹم میں صرف موجودہ بیک آفس انفراسٹرکچر کو تبدیل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سسٹم صرف بینکس کی حد تک محدود رہے گا اور مانیٹری پالیسی زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی کے قابل عمل ہونے کے ثبوت پیش کرنے کے باوجود اب تک ابتدائی مراحل ہی میں ہے اور اس وقت تقسیم شدہ لیجر کے استعمال کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔

اگر یہ ایپلی کیشن تیار بھی ہوتی تو سویڈن کا مسئلہ حل نہیں ہونا تھا۔ سویڈن میں موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے کیش کے استعمال میں کمی کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے ایسے افراد مالی نظام کا حصہ نہیں بن پائيں گے جو یا تو موبائل کے سسٹمز استعمال نہیں کرتے ہیں یا جن کے لیے ان کاجو یا تو موبائل کے سسٹمز نہیں کرتے ہیں یا جن کے لیے ان کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سسٹمز نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں ہیں، جس کی وجہ سے مالی نظام پر حکومتی پالیسیوں کے بجائے ان کمپنیوں کا زیادہ کنٹرول ہوگا۔

گیرٹ کا کہنا کہ سویڈن کے علاوہ دیگر ممالک میں کرپٹوکرنسیوں کو استعمال کرنے کے فیصلے کا انحصار عوام پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں "اگر عوام کیش کے بجائے ڈیجٹل کرنسیوں کا مطالبہ کرے گی تو حکومت یہ سسٹمز فراہم کرنے مجبور ہوجائے گی۔ لیکن اگر عوام مطالبہ نہیں کرے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔" تاہم آگے چل کر جو بھی ہوگا، یہ بات طے ہے کہ کیش کے مکمل خاتمے میں ابھی بہت وقت ہے۔

تحریر: مائک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top