Global Editions

گوگل آپ کے موبائل فون کے استعمال میں کمی لانے کے لیے اسے لفافے میں بند کرنے کا مشورہ دے رہا ہے

گوگل نے ہمیں اپنے فون سے دور کرنے کے لیے متعدد پراجیکٹس کا اعلان کیا ہے۔

گوگل کی کاوشیں: گوگل کے ڈیجیٹل ویل بیئنگ ایکسپیریمنٹس (Digital Wellbeing Experiments) کے محکمے نے ایسی ایپس ایجاد کی ہیں جن سے آپ کا Pixel3a (یہ ایپس دوسرے فونز پر کام نہيں کرتیں) تقریبا ناکارہ ہوجائے گا۔ پہلا مشورہ تو یہی ہے کہ آپ اپنے فون کو لفافے میں بند کرکے اسے صرف کیمرہ کے طور پر یا فون کال کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ان کی پہلی ایپ، سکرین سٹاپ واچ (Screen Stopwatch) آپ کے فون ان لاک کرنے پر اس کی ہوم سکرین پر ایک بڑا ٹائمر دکھاتی ہے، جس کا مقصد آپ کو اپنے فون کے استعمال کے متعلق احساس دلانا ہے۔ آخری ایپ ایکٹویٹی ببلز (Activity Bubbles) آپ کی سرگرمی کو بلبلوں کی شکل میں ظاہر کرتی ہے۔ آپ جتنی زيادہ دیر تک فون استعمال کریں گے، آپ کی سکرین پر اتنے ہی زيادہ اور اتنے ہی بڑے بلبلے نظر آئيں گے۔

گوگل ماضی میں بھی اس قسم کی کوششیں کرچکا ہے۔ پچھلے سال انہوں نے کاغذ کا فون متعارف کیا تھا، جس کے ساتھ فون استعمال کرنے کی ہدایات اور گیمز کے متعلق تجاویز پرنٹ آؤٹ کی شکل میں فراہم کیے گئے تھے۔

کیا یہ کوششیں کامیاب ثابت ہوسکتی ہیں؟ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ اپنے فون کو بند کر کے رکھنے سے یا اس کے استعمال کو زيادہ مشکل بنانے سے سوشل میڈیا اور دیگر سرگرمیوں کے باعث ضائع ہونے والے وقت کی بچت ممکن ہے۔ فون پر صرف کیے جانے والے وقت کی پیمائش کوئی نئی بات نہيں ہے (اس وقت گھڑیوں سمیت ایسے کئی ایپس اور پلگ انز موجود ہيں جن کا یہی کام ہے)، لیکن اس سے سکرین کے سامنے گزارے وقت کے متعلق احساس ضرور ہوتا ہے۔

دوسرا حل یہی ہے کہ آپ اپنا فون الگ رکھ دیں۔ ڈیجیٹل ویل بیئنگ کے تجربات کا مقصد ”لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ زيادہ متوازن زندگی گزارنے کے لیے آئيڈیاز اور ٹولز کی فراہمی ہے۔“

تاہم ڈیجیٹل ماہر جولی آلبرائٹ (Julie Albright) کا خیال ہے کہ ہمیں اپنے فون کے استعمال پر قابو پانے کے لیے مزيد ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے یا خود کو شرمندہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ عادت چھڑانے کے لیے پختہ ارادہ کرکے خود کو فون سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، سونے سے پہلے فون پر بے وجہ سکرالنگ کے بجائے کتاب پڑھنے کے لیے وقت نکالا جاسکتا ہے۔ اور ویسے بھی سکرین ٹائم کے نقصانات کے متعلق اب تک بحث جاری ہی ہے۔

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

تصویر: Experiments with Google

Read in English

Authors

*

Top