Global Editions

گوگل کے نئے ٹولز سے زندگی آسان تو ہوجائے گی، لیکن آپ کو اس کے لیے بھاری قیمت چکانی پڑے گی

اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ اب آپ کو پہلے سے بھی زيادہ ڈیٹا فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اس ہفتے گوگل نے اپنے کنزیومر مصنوعات میں متعارف کیے جانے والے نت نئے فیچرز کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں اینڈرائيڈ آپریٹنگ سسٹم کے صارفین کو آرام کرنے کی ہدایات اور گوگل اسسٹنٹ استعمال کرنے والے بچوں کو "شکریہ" کہنے پر سراہنا شامل ہيں۔

گوگل کے سی ای او سندر پیچائے نے کیلیفورنیا کے شہر ماؤنٹین ویو میں منعقد ہونے والی سالانہ I/O کانفرنس میں ڈیولپرز، رپورٹرز اور شائقین کو بتایا کہ یہ اضافہ جات ٹیکنالوجی کو زيادہ کارآمد اور قابل رسائی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ظاہر ہے، کمپنی امید کرتی ہے کہ صارفین اس سہولت کے بدلے گوگل کو مزيد ذاتی ڈيٹا فراہم کرنے پر بھی آمادہ ہوں گے۔

تاہم، انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی، جو ایک دہائی سے زيادہ عرصے سے سرچ، براؤزرز، ای میل اور دیگر مصنوعات کی مارکیٹ پر پوری طرح چھائی ہوئی ہے، اب صارفین کو گوگل کی مصنوعات کو اپنی روزمرہ کی زندگیوں کا حصہ بنانے کے حوالے سے زيادہ آگاہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ (ہوسکتا ہے کہ یہ گوگل کے سابقہ ڈیزائن ایتھیکس کے ماہر ٹرسٹن ہیرس اور ان جیسے کئی ایتھیکل ٹیک کے حامیوں کی تنقید کا نتیجہ ہو، جو کافی عرصے سے صارفین کو مصنوعات کا عادی بنانے کی وجہ سے فیس بک اور گوگل جیسی کمپنیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں)۔

ٹیکنالوجی سے ہماری زندگیاں بہتر تو ہوئی ہيں، لیکن اس کے ساتھ ہی ان بہتریوں کے کیا نتائج سامنے آئے ہيں؟ پیچائے کہتے ہيں کہ اس کے متعلق بھی کئی اہم سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اس بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس تحریر میں ہم گوگل کے سب سے زيادہ دلچسپ اعلانات پر ایک تبصرہ پیش کرتے ہيں، جنہيں فراہم کردہ سہولت کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

فیچر: Pretty Please
مصنوعہ: گوگل اسسٹنٹ
یہ کیا ہے: جب والدین کو معلوم ہوا کہ گوگل اسسٹنٹ کو صرف "اٹھ جاؤ، گوگل" کہہ کر جگایا جاسکتا ہے، تو انہيں یہ پریشانی ہونے لگی کہ ان کے بچے آہستہ آہستہ تمیز تہذیب سے دور ہونا شروع ہوجائيں گے۔ ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، گوگل اسسٹنٹ میں اب ایک ایسی خصوصیت شامل کی جارہی ہے، جس میں "پلیز" سے شروع ہونے والے درخواستوں سے پہلے "پلیز کہنے کا شکریہ" جیسے فقرے ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ پچھلے ماہ، ایمزان کے الیکسا کے وائس اسسٹنٹ میں بھی بچوں کو "پلیز" کہنے کی ترغیب دینے والے فیچرز کے متعلق ایک خبر سامنے آئی تھی۔
دستیابی: اس سال

فیچر: Do Not Disturb
مصنوعہ: اینڈرائیڈ پی (Android P) (جس کا بیٹا ورژن اس وقت چند اینڈرائيڈ ہینڈسیٹس، جیسے کہ گوگل کے پکسل فون میں شامل گیا گيا ہے۔ اسی سال آگے چل کر اس کا مکمل ورژن متوقع ہے)
یہ کیا ہے: يہ اینڈرائيڈ کے do-not-disturb موڈ کی ایک اپ ڈیٹ ہے، جس کی مدد سے فون کو الٹا کرکے اسے سائلنٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں سکرین کو بند کرکے کالوں اور ٹیکسٹ پیغامات کو خاموش کرنے کے علاوہ دیگر کئی خصوصیات بھی موجود ہوں گی۔ (تاہم، اگر آپ چاہیں تو آپ کچھ لوگوں کی کالوں کی اجازت دے سکتے ہیں)۔
دستیابی: اس وقت صرف بیٹا کے صارفین کے لیے۔ ورنہ، یہ اینڈرائيڈ پی کے ساتھ ہی لانچ کیا جائے گا۔

فیچر: Dashboard
مصنوعہ: اینڈرائیڈ پی (Android P) (جس کا بیٹا ورژن اس وقت چند اینڈرائيڈ ہینڈسیٹس، جیسے کہ گوگل کے پکسل فون میں شامل ہیں۔ اسی سال آگے چل کر اس کا مکمل ورژن متوقع ہے)
یہ کیا ہے: Dashboard کے ذریعے صارفین کو ان کے فون کے استعمال کے متعلق مخصوص ڈیٹا دکھایا جائے گا۔ اس میں روزانہ فون ان لاک کرنے کی تعداد اور مخصوص ایپس استعمال کرنے کا دورانیہ دکھایا جاتا ہے۔ (ایک مظاہرے میں Gmail کے استعمال کے متعلق گھنٹہ بہ گھنٹہ تفصیلات دکھائی گئی تھیں۔) اس کے علاوہ اس میں ایک ٹائمر بھی شامل کیا جائے گا، جس کے ذریعے آپ مخصوص ایپس استعمال کرنے کا دورانیہ سیٹ کرسکیں گے جس کے بعد فون آپ کو کچھ دیر تک آرام کرنے کا مشورہ بھی دے گا۔
دستیابی: اس وقت صرف بیٹا کے صارفین کے لیے۔ ورنہ، یہ اینڈرائيڈ پی کے ساتھ ہی لانچ کیا جائے گا۔

فیچر: Style Match
مصنوعہ: گوگل لینس
یہ کیا ہے: گوگل لینس کو چند اینڈرائيڈ سمارٹ فونز کی کیمرہ ایپ میں شامل کیا جائے گا، اور اس کے ساتھ کئی اہم نئے فیچرز متعارف کروائے جائيں گے۔ ان میں سے ایک فیچر Style Match ہے، جو کپڑوں اور گھر کی آرائش کے لیے Shazam کی طرح کام کرتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے فون کے کیمرے کا گھر میں پائے جانے والے مختلف اشیاء کے طرف رخ کرکے ریویوز حاصل کرسکتے ہيں، یا یہ جان سکتے ہيں کہ آپ کو اس جیسی دوسری مصنوعات کہاں سے مل سکتی ہيں۔
دستیابی: آنے والے چند ہفتوں میں

فیجر: Smart Compose
مصنوعہ: Gmail
یہ کیا ہے: اس فیچر کے ذریعے جب تک آپ اپنے کی بورڈ پر ٹیب کا بٹن دباتے رہيں گے، آپ کو ٹائپ کرنے کے دوران مشین لرننگ کی مدد سے الفاظ کی تجاویز دکھائی جائيں گی۔ مثال کے طور پر، سبجیکٹ لائن میں کسی کھانے پینے کی چیز کا نام لکھنے کی صورت میں، آپ کو اس کے اجزا یا آپ کے پسندیدہ ریستوران کے بارے میں بتایا جائے گا۔ یہ کارآمد تو ہے، لیکن اس سے یہ بات بھی سامنے آتی کہ گوگل کو آپ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔
دستیابی: مئی

فیچر: Google Duplex
مصنوعہ: گوگل اسسٹنٹ
یہ کیا ہے: Google Duplex، جو اس وقت تجرباتی مراحل میں ہے، ایک مصنوعی ذہانت کا ایجنٹ ہے، جو ایک انسانی آواز استعمال کرتے ہوئے فون پر آپ کے لیے اپوائنٹمنٹس بک کرسکے گا۔ ایک کال کی ریکارڈنگ میں Duplex چار لوگوں کے لیے بکنگ کرنے کی کوشش کررہا تھا، اور جب اسے یہ معلوم ہوا کہ چھ افراد سے کم کے لیے بکنگ کروانے کی ضرورت نہيں ہے، تو اس نے ایک انسانی آواز میں اس پیچیدہ صورتحال کو بہت اچھے طریقے سے سنبھال لیا۔

دستیابی: اس وقت اس کے متعلق کچھ نہيں کہا جاسکتا ہے۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اس سال گوگل اسسٹنٹ میں ریستوارن کی بکنگ یا سیلون کے اپوائنٹمنٹس حاصل کرکے اور دکانوں کے اوقات کار معلوم کرکے اس کی ٹیسٹنگ شروع کردیں گے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

 

Read in English

Authors
Top