Global Editions

گوگل اب آپ کی کریڈٹ کارڈ کی خریداریوں کو ٹریک کرکے انہیں آپ کی آن لائن پروفائل سے منسلک کرتا ہے

یہ سرج انجن جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ آن لائن اشتہاروں کا آف لائن فروخت میں کس حد تک ہاتھ ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ صارفین کی پرائیوسی کے تحفظ کے لئے اقدامات جاری ہیں۔

گوگل کی لوگوں کی آف لائن کریڈٹ کارڈ کی خریداریوں کو ان کی ذاتی زندگی سے ملانے کی صلاحیت نگرانی کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے کی ایک مثال ہے۔

گوگل نے اس ہی ہفتے اس نئی صلاحیت کا اعلان کیا ہے، اور اس کے ذریعے وہ صارفین کو دکھائے جانے والے اشتہار اور ان کی خریداریوں کے درمیان تعلق کا تعین کرسکتے ہیں۔ گوگل کتنا بھی اختراعی کیوں نہ ہوجائے، وہ بنیادی طور پر صارفین کو مفت سہولیات فراہم کرنے کے بعد ان کا ڈیٹا حاصل کرکے اشتہار فروخت کرکے منافع کماتے ہیں، اور اس وجہ سے یہ نئی صلاحیت گوگل کے لئے کافی اہم ہے۔ اگر گوگل یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ گوگل میپس پر دکھائے جانے والے کسی اشتہار کی وجہ سے کسی شخص نے دکان جاکر کچھ خریدا ہے، تو دکان کا مالک زيادہ اشتہار چلانے پر رضامند ہوجائے گا۔

گوگل، گوگل میپس کے ذریعے آپ کے لوکیشن کو کافی عرصے سے ٹریک کررہا ہے۔ وہ 2014 سے اس معلومات کے ذریعے اشتہار چلانے والوں کو، ان کی دکانوں پر لوگ کتنی دفعہ جاتے ہیں، اس کے متعلق معلومات فراہم کررہے ہیں۔ لیکن دکان پر چلے جانے اور کوئی چیز خریدنے میں بہت فرق ہے۔ گوگل نے مارکیٹرز کے لئے نئی سہولیات کے متعلق ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اب تمام کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی 70 فیصد خریداریوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے "تیسرے فریقین" کے ساتھ شراکت قائم کی ہے۔

لہذا اگرآپ نے کارڈ سے کچھ خریدا ہے تو گوگل کو اس کے متعلق خبر نہ ہونے کا ایک تہائی سے بھی کم امکان ہے۔

گوگل نے صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں اس نئی سہولت کے متعلق لگھا گیا ہے:

گوگل کے ملازمین کہتے ہیں کہ وہ کسی دکان میں خریداری کرنے والے صارفین کو میچ کرنے کے دوران ان کی پرائیویسی کے تحفظ کے لئے پیچیدہ فارمولے استعمال کررہے ہیں، جن کے وہ پیٹنٹ کے منتظر ہیں۔

لوگوں کے نام اور خریداری کی دوسری معلومات، جیسے کہ وقت کا اسٹامپ، مقام اور رقم، کو فارمولوں کے ذریعے گم نام اعداد میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے ملازمین نے اس عمل کو “ڈبل بلائنڈ” انکریپشن کا نام دیا ہے اور ان کے مطابق ان فارمولوں کی وجہ سے گوگل کے لئے حقیقی دنیا میں خریداری کرنے والوں کے نام جاننا اور دکانداروں کے لئے گوگل کے صارفین کے نام جاننا ناممکن ہے۔

کمپنیوں کو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ چند میچ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گوگل کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے کیا خریدا ہے۔

عوام کے پاس ان کی بات پر اعتبار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا سے کسی بھی شخص کی شناخت کے لئے زیادہ “گم نام” ڈیٹا پوائنٹس کی ضرورت نہیں پڑتی، اور یہ بات ماننا بہت مشکل ہے کہ Gmail، YouTube، Google Maps اور کئی دیگر خدمات پر لوگوں کے طور طریقوں کو آف لائن خریداریوں سے متصل کرنے کی کوششوں میں کسی کی پرائویسی متاثر نہیں ہوگی۔ اگر یہ معلومات کسی ہیکر کے ہاتھ لگ جائے تو صورت حال اور بھی سنگین ہوجائے گی۔

لیکن صرف گوگل ہی پر انگلیاں نہ اٹھائيں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم بحیثیت صارفین گوگل کو اپنا ڈیٹا خود ہی دے دیتے ہیں، بلکہ یہ خدمت کے معاہدے کا حصہ بھی ہے۔ (کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کو ہماری خریداری کے ریکارڈ استعمال کرنے کی اجازت دینا یا نہ دینا ایک الگ سوال ہے)۔ اس کے علاوہ، صرف گوگل ہی یہ کام نہیں کررہا ہے۔ فیس بک بھی ہماری آف لائن معلومات کو ہماری آف لائن زندگیوں سے ضم کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

تحریر: مائیکل رائیلی (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top