Global Editions

گوگل کے سمارٹ پِکسل فون کو غیر معمولی پزیرائی ۔۔۔

ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ادارے عموماً معروف کمپیوٹر سائنسدان ایلن کے (Alan Kay) کا یہ مشہور قول نقل کرتے ہیں کہ ’’ جو لوگ سافٹ وئیر کے بارے بہت سنجیدگی رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ہارڈ وئیر تیار کر لیں‘‘ حالیہ دنوں میں گوگل کا نصب العین کچھ ان الفاظ میں بتایا جا سکتا ہے ’’ جو لوگ مصنوعی ذہانت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ہارڈوئیر تیار کر لیں۔۔۔ اور اسے بہت زیادہ قیمت پر فروخت کر دیں‘‘ یہی وہ حکمت عملی ہے جو گوگل کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے جانیوالے گوگل پکسل فون کے پس پردہ کارفرما نظر آتی ہے۔ گوگل کا پکسل فون گزشتہ مہینے کی بیس تاریخ کو فروخت کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ اس فون سے پہلے گوگل نے نیکسز سیریز کا موبائل فون متعارف کرایا تھا۔ نیکسز سیریز کے سمارٹ فونز کو سمارٹ فون تیار کرنے والے اداروں کے تعاون کے ساتھ تیار کیا گیا تھا اور اسے آن لائن فروخت کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ اس سمارٹ فون کی قیمت اتنی ہی مقرر کی گئی تھی جو اس کی لاگت کے قریب تر تھی۔ تاہم اب گوگل کی جانب سے متعارف کرائے جانیوالے پکسل فونز کو گوگل کے مصنوعی ذہانت کے میدان میں عزائم کے تناظر کے دیکھا جا سکتا ہے خاص طور پر گوگل کی جانب سے تیار کردہ ورچوئیل اسسٹنٹ جو صارفین کے ذاتی گوگل کے طور پر کام کریگا۔ گوگل کا یہ اقدام ادارے کو روایتی فون انٹرفیس کے مقابلے میں ایک الگ مقام حاصل کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جہاں گوگل کی جانب سے تیار کردہ ورچوئیل اسسٹنٹ زبانی احکامات پر مطلوبہ انفارمیشن فراہم کریگا۔ اس طرح گوگل کی جانب سے متعارف کرایا جانیوالا پکسل سمارٹ فون گوگل کی جانب سے ایک ایسا تجربہ سمجھا جا سکتا ہے جس کے تحت گوگل تمام تر خدمات کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کرتا ہے اور اس طرح تمام تر گیجٹس کو ایک خاندان کی شکل دیتا ہے اور انہیں ایک خاص ایکو سسٹم سے منسلک کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گوگل سرچ کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب سمارٹ فونز کی مارکیٹ سخت مقابلے کی مارکیٹ ہے اور اس مارکیٹ میں سب سے زیادہ منافع کمانے کے لئے ضروری ہےکہ بہترین فون بہترین قیمت پر فروخت کے لئے پیش کیا جائے۔ اسی گوگل نے صف اول کے سمارٹ فونز کے مقابلے کے لئے اپنا فون متعارف کرایا۔ اس وقت گوگل پکسل کی قیمت 649 ڈالر ہے اور یہ وہی قیمت ہے جس پر آئی فون سیون اور سام سنگ گلیکسی ایس سیون فروخت کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح گوگل کے پکسل ایکس ایل کی قیمت 769 ڈالر ہے جو آئی فون سیون پلس کے مقابلے پر ہے۔ اس حوالے سے تھرڈ پارٹی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گوگل اپنے متعارف کروائے جانیوالے فونز پر بہترین منافع حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ برطانیہ کی ایک جائزہ کمپنی IHS Markit کی جانب سے گوگل پکسل ایکس ایل کے جائزے اور اس میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فون کی تیاری پر مجموعی طور پر 285.75 ڈالرز لاگت آئی ہے۔ اسی طرح ٹیکنیکل جائزے کی ایک کمپنی ٹیک انسائیٹ (Tech Insight) کی چپ ورکس ڈویژن نے گوگل پکسل کے پرزہ جات کی قیمت کا اندازہ 220 ڈالرز لگایا ہے۔ تاہم IHS کے تجزیہ نگار ڈک جیمز کا کہنا ہے کہ ٹیک انسائیٹ کی جانب سے لاگت کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے فون کی مارکیٹنگ اور دیگر کئی پرزہ جات کی تیاری کی لاگت کا تعین نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قیمت میں بہت سے پہلوؤں کا احاطہ نہیں کیا گیا جن میں آر اینڈ ڈی یعنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، پراڈکٹ کی لائسینسگ اور پراڈکٹ کی مارکیٹنگ شامل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی کمپنی کی جانب سے پیش کی جانیوالی معلومات بہت حد تک درست اور حتمی تصور کی جا سکتی ہیں کیونکہ گوگل کی جانب سے اس پراڈکت کی لاگت کے بارے میں کسی قسم کی تفصیل پیش نہیں کی گئی۔ اسی طرح گوگل کی جانب سے متعارف کرائے جانیوالے سمارٹ فون میں استعمال ہونے والے کئی پرزہ جات چینی کمپنی Xiaomi کی جانب سے متعارف کرائے جانیوالے Mi 5s سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں کوالکوم پراسیسر، 12میگاپکسل کا کیمرہ استعمال کیا جا رہا ہے اور چینی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ اس سمارٹ فون کی قیمت گوگل پکسل سمارٹ فون سے 250 ڈالر کم ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک گوگل پکسل کی فروخت گوگل کی توقعات سے زیادہ رہی ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پکسل سمارٹ فون کو کس حد تک عوامی پزیرائی حاصل ہوئی ہے تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ گوگل نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنے عزائم واضح کر دئیے ہیں۔

تحریر: الزبتھ وائیکے (Elizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top