Global Editions

گوگل اور ایپل کرونا وائرس کی ٹریکنگ ایپس میں پرائویسی کے تحفظ کو کس طرح یقینی بنائيں گے؟

ٹیکنالوجی کی ان دو بڑی کمپنیوں نے اپنے جلد متعارف ہونے والے سسٹم کے لیے نئے قواعد کا اعلان کیا ہے۔

ایپل اور گوگل نے پچھلے مہینے اینڈرائيڈ آلات اور آئی فونز کے لیے کرونا وائرس کی ٹریکنگ کے لیے ایک سسٹم متعارف کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے ذریعے صارفین کو اس مرض کے شکار دوسرے افراد سے رابطے کی صورت میں مطلع کیا جائے گا۔ اب ان دونوں کمپنیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ایپ میں صارفین کے لوکیشن کی ٹریکنگ پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ اس سے ان تمام ایپس کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے جو اس سسٹم کا استعمال کر کے صارفین کو covid-19 کے ایکسپوژر کے متعلق مطلع کرنے والی تھیں۔

تفصیلات: کسی بھی وبا کے ممکنہ طور پر شکار ہونے والے افراد کی ٹریکنگ کرنے اور ان سے رابطہ کرنے کے عمل کو کانٹیکٹ ٹریسنگ (contact tracing) کہا جاتا ہے اور ماہرین اسے کرونا وائرس کی وبا کے بعد لوگوں کی زندگیوں کا معمول قائم کرنے کے لیے بہت اہم عنصر سمجھتے ہیں۔ ان تمام کوششوں میں انسانوں کا کردار بہت اہم ہے (امریکہ ہی میں ہزاروں لوگوں کی خدمات حاصل کی جاچکی ہیں)، لیکن ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار نہيں کیا جاسکتا۔ اسی لیے دنیا بھر کے ہیلتھ کیئر کے حکام کی معاونت کے لیے کرونا وائرس کی ٹریکنگ کے لیے ایپ کے متعلق گوگل اور اینڈرائيڈ کے فیصلے کو خوب سراہا گيا تھا۔ اس سسٹم میں تصدیق شدہ covid-19 کے شکار افراد کے قریب ہونے کی نشاندہی کے لیے بلوٹوتھ کا استعمال کیا جائے گا اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ مئی میں متعارف ہوگا۔ ڈیولپرز کو اس سسٹم کی ابتدائی شکل فراہم کردی گئی ہے۔

نئے قواعد: لوکیشن شیئرنگ پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ، گوگل اور ایپل نے ڈیولپرز کے لیے نئے قواعد بھی جاری کیے ہیں، جن کے اہم نقاط درج ذیل ہیں:

  • صرف سرکاری ہیلتھ کیئر کے حکام کرونا وائرس کی ٹریکنگ کی ایپس بناسکتے ہيں۔
  • تمام ایپس کو اطلاعات فراہم کرنے والے اے پی آئیز (APIs) استعمال کرنے سے پہلے صارفین سے اجازت لینی ہوگی۔
  • سرکاری ہیلتھ کیئر کے حکام کو ٹیسٹس کے مثبت نتائج اور مریضوں کی تشخیص کے متعلق معلومات فراہم کرنے سے پہلے بھی صارفین سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔
  • ڈیٹا کے حصول کو ہر ممکنہ حد تک کم کیا جائے گا اور حاصل کردہ ڈیٹا کو صرف ہیلتھ کیئر کے لیے مناسب پالیسیاں تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس ایپ کی مدد سے حاصل کردہ ڈیٹا کو کسی دوسرے مقصد کے لیے، خصوصی طور پر اشتہاربازی کے لیے، استعمال نہیں کیا جائے گا۔

یہ اقدام اس قدر اہم کیوں ہیں؟ یہ نئی ٹیکنالوجی آئی او ایس اور اینڈرائيڈ آپریٹنگ سسٹمز میں شامل کی جائيں گی، جنہيں دنیا کے تقریباً تمام سمارٹ فونز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کانٹیکٹ ٹریسننگ کی کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف آپریٹنگ سسٹمز کے درمیان بے ربطگی کو ختم کیا جائے گا تاکہ وہ ایک ساتھ کام کرسکیں۔ اس نئی پیش رفت سے کرونا وائرس کی ٹریکنگ کے دوران صارفین کی پرائیوسی پامال ہونے کی روک تھام ممکن ہوگی۔

تحریر: پیٹرک ہاؤل او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top