Global Editions

جلد ہی ایسے سیب لانچ ہونے والے ہیں جو کالے نہیں پڑيں گے

کیا جینیائی ترمیم صارفین کو قابل قبول ہوگی؟ اس سوال کا جواب مارکیٹ میں جلد ہی لانچ ہونے والے اس سیب سے مل سکتا ہے۔

امریکہ میں مصنوعی بائیولوجی کی ایک کمپنی اس سال جینیائی طور پر ترمیم شدہ سیب لانچ کرنے والی ہے، لیکن یہ سیب جی ایم او (GMO) نہیں کہلائيں گے۔

آرکٹک (Arctic) نامی سیبوں کو کالے پڑنے سے روکنے کے لیے جینیائی طور پر ترمیم کیا گيا ہے۔ اس کمپنی کے مطابق یہ سیب سلائسز کی شکل میں مڈویسٹ اور جنوبی کیلیفورنیا کی 400 دکانوں میں دستیاب ہوں گے۔ یہ ایک ایسے جی ایم او کا پہلا ٹیسٹ ہے جو کسانوں کی پیداوار میں اضافے کے بجائے صارفین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے لانچ کیا گيا ہے۔

ان ترمیم شدہ گولڈن ڈیلیشس (Golden Delicious) کے برانڈ کے سیبوں کو اوکانیگن شپیشلٹی فروٹس (Oakanagan Specialty Fruits) نامی نجی ملکیت رکھنے والی کمپنی نے تیار کیا تھا، جس کے بعد میری لینڈ میں واقع بائیوٹیک کمپنی انٹریکسون (Intrexon) نے 4.1 کروڑ ڈالر کے عوض اس کمپنی کو خرید لیا۔ اس کمپنی کے دوسرے ڈیویژنز جینیائی طور پر ترمیم شدہ مچھلیوں، کلون شدہ مویشیوں اور خود کو ختم کرنے والے مچھر بھی فروخت کررہے ہیں۔

یہ کمپنی ان سیبوں کو پہلے سے کٹے ہوئے سلائسز کی شکل میں فروخت کرے گی، لیکن وہ نہ تو ان پر "جینیائی انجنیئرنگ سے تخلیق شدہ" کا لیبل لگانے والی ہے، اور نہ ہی ان کے کسی پیکیجنگ پر جی ایم او کا تذکرہ کیا جائے گا۔ اس کے بجائے 2016ء میں جاری ہونے والے لیبلنگ کے ایک قانون کے مطابق اس پر ایک QR کوڈ لگایا جائے گا، جس کے ذریعے ان کی ویب سائٹ سے تفصیلی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

اوکانیگن کے بانی نیل کارٹر (Neal Carter) نے سان فرانسیسکو میں ایک پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ وہ ان سیبوں کی پیکیجنگ پر جی ایم او کا ذکر کرکے صارفین کا غصہ مول نہيں لینا چاہتے ہیں۔

جینیائی طور پر ترمیم شدہ یہ سیب اس وجہ سے بھی منفرد ہیں کیونکہ کارٹر نے، جو خود ایک جدت پسند کسان ہیں، انھیں خودمختار طور پر تیار کیا تھا، اور فروخت کرنے کے لیے ضابطہ کار کی منظوری حاصل کی تھی۔ اس سے پہلے مارکیٹ میں جو جی ایم اوز دستیاب تھے، انھیں مونسانٹو (Monsanto) یا ڈوپونٹ (Dupont) جیسی بڑی کمپنیاں بیج کی شکل میں فروخت کررہی تھیں، اور یہ صرف مکئی اور سویابین جیسے فصلوں کے لیے دستیاب تھے جنھیں وسیع پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔

کارٹر اور ان کی ریسرچ کی ٹیم نے جین سائلنسنگ (gene silencing) نامی تکنیک استعمال کرکے سیبوں میں کالے رنگ کی وجہ بننے والے پولی فینول آکسیڈیز (polyphenol oxidase) پیدا کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کارٹر کے مطابق انجنیئر شدہ سیبوں کے یہ سلائسز تین ہفتوں تک کالے پڑنے سے محفوظ رہیں گے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان سیبوں کو مارکیٹ میں لانچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ اس مسئلے کو بہت عرصہ پہلے حل کیا جاچکا ہے۔ مارکیٹ میں ایسے سیب کے سلائسز بہ آسانی دستیاب ہیں جنھیں کالا پڑنے سے روکنے کے لیے کیلشیم اور وٹامن سی لگایا گيا ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بھی لیموں کا رس استعمال کر کے سیبوں کو کالا پڑنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔

جی ایم او کی مخالفت کرنے والے کئی گروپس نے اوکانیگن کے سیبوں کی کافی مذمت کی ہے، اور برگر کنگ کے علاوہ دوسری کئی کمپنیوں پر انھیں فروخت کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ Friends of the Earth نامی تنظیم نے Independent کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ آرکٹک کے سیبوں پر "مکمل طور پر تحقیق نہیں کی گئی ہے، اس کی لیبلنگ درست طریقے سے نہیں کی گئی ہے، اور اسے لانچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔" اس مخالفت کی وجہ سے دنیا بھر میں جینیائی طور پر ترمیم شدہ اشیائے خوردنی کے لیے دنیا بھر نہ صرف لیبلنگ کے سخت قوانین بنائے جارہے ہیں، بلکہ کئی اشیاء پر ممانعت بھی عائد ہوچکی ہے۔

تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، میں زرعی اور ریسورس اکنامکس کے پروفیسر ڈيوڈ زلبرمین (David Zilberman) کا کہنا ہے کہ اس سیب سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، اور اوکناگین نے لیبلنگ کے متعلق جو فیصلہ لیا ہے، وہ بالکل صحیح ہے۔ وہ کہتے ہیں"اس وقت سگریٹس پر بہت نمایاں لیبل لگائے جاتے ہیں، لیکن جی ایم اوز اور سگریٹس میں بہت فرق ہے۔ جی ایم او سگریٹ کی طرح زہریلے نہیں ہیں، اور ان پر اس قسم کی لیبلنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جی ایم او آگے چل کر زيادہ قابل ثابت ہوں۔"

تنقید کے جواب میں کارٹر کہتے ہیں کہ آرکٹک سیبوں سے سیبوں کی فرخت میں اضافہ اور پھلوں کے ضیاع میں کمی ممکن ہوگی، جس کی شرح اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 45 فیصد ہے، اور جس کی سب سے بڑی وجہ ان کا کالا پڑنا ہے۔

کارٹر کا سب سے بڑا چیلنج سیبوں کی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانا ہوگا۔ ان کے مطابق اس وقت آرکٹک کے درخت صرف 250 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، لیکن وہ توقع کرتے ہیں کہ 2019ء تک یہ رقبہ کم از کم 1،400 ایکڑ ہوجائے گا۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں عام سیب کے درخت 3.25 لاکھ ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

کارٹر نے کٹے ہوئے سیبوں کے سلائسز کی قیمت کے بارے میں معلومات فراہم سے انکار کردیا، لیکن اس وقت سیب کے سلائسز کے جو پیکٹس مارکیٹ میں موجود ہیں، ان کی قیمت 3 سے 5 ڈالر کے درمیان ہے۔ وہ کہتے ہیں "ہمیں اگلے چند ماہ میں بہت کچھ سیکھنا اور کرنا ہے۔"

تحریر: اینڈریو روزن بلم (Andrew Rosenblum)

Read in English

Authors
Top